بے چارگی کی زندگی

سیاسی قضیے [ 29اکتوبر، 2018]

[نوٹ: یہ تحریر اگست 2007 میں انگریزی میں لکھے گئے، ایک پرانے مضمون میں بیان کیے گئے اور چند ایک حالیہ واقعات و تجربات پر مبنی ہے۔ اپریل 2013 روزنامہ ’’مشرق‘‘ پشاور میں شائع ہوئی۔ مگر افسوس کہ یہ آج بھی اسی طرح ’’تازہ‘‘ ہے۔ یعنی گذشتہ چودہ پندرہ برسوں میں کچھ نہیں بدلا۔ کچھ بھی نہیں بدلا۔]

کچھ سال کی بات ہے ، مجھے لاہور میں نیشنل بُک فاؤنڈیشن کی بُک شاپ پر جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ ایک نیم سرکاری ادارہ ہے۔ مجھے کچھ کتابیں، اور بالخصوص آئینِ پاکستا ن کے سرکاری اردو …

Continue Reading →

اشرافیہ کی سیاست اور ’’پشتون تحفظ موومینٹ‘‘ کی سیاست

سیاسی قضیے: 15اپریل، 2018

اشرافیہ کی سیاست، بخشنے، عطا کرنے،  دینے اور دان کرنے سے عبارت ہے۔

جیسے روٹی، کپڑا اور مکان دینے کا نعرہ۔

یا پھر بلا تعطل بجلی کی فراہمی۔ یا جیسے کہ سڑکیں، پبلک ٹرانسپورٹ، وغیرہ۔

اور ایسی ہی دوسری چیزیں، جو وقت اور موقعے کی مناسبت سے اشرافی سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور کا حصہ بنتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی جماعتیں اور ان کے سربراہ یہ چیزیں لوگوں کو اپنے پیسے سے مہیا کرتے ہیں۔

اس کا صاف جواب ہے: قطعاً نہیں۔

خواہ یہ روٹی، کپڑا اور مکان ہو، یا بجلی، یا کوئی …

Continue Reading →