زری پالیسی: مختصر نوٹ

A Short Note on Monetary Policy

زری پالیسی: مختصر نوٹ

(1) یہ اختیار ریاست/حکومت نے ہتھیا لیا ہوا ہے کہ شہری، ادارے اور کاروبار ایک دوسرے کو جو پیسہ قرض دیں گے، اس کی شرحِ سود کیا ہو گی۔ یا حکومت ریاستی اور کاروباری بینکوں سے جو قرض لے گی، اس کی شرحِ سود کیا ہو گی۔ جبکہ فطرتاً یہ اختیار، قرض دینے اور قرض لینے والے کا ہے کہ وہ کیا معاہدہ طے کرتے ہیں۔ حکومت کا کام صرف یہ دیکھنا ہے کہ دونوں فریق معاہدے پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں۔

(2) یہ اختیار ریاست/حکومت نے اپنی دسترس میں کر لیا ہوا ہے کہ وہ زر کی رسد کو گھٹائے یا بڑھائے۔ اس طرح حکومت اصل میں پیسے کی قیمت مقرر کرتی ہے۔ یعنی زر کی رسد بڑھا کر زر کی قیمت کم کر دے گی۔ یا زر کی رسد گھٹا کر پیسے کی قیمت بڑھا دے گی (عملاً کبھی ایسا ہوتا نہیں)۔

یوں حکومت نوٹ چھاپ چھاپ کر شہریوں کو کنگال کرتی رہتی ہے۔ یا عجیب و غریب مقاصد کے تحت، کسی غیرملکی کرنسی کے مقابلے میں روپیے کی قیمت گھٹاتی رہتی ہے۔

جبکہ پیسے کی قیمت کے تعین کا اختیار، مارکیٹ یعنی بازار کے پاس ہے، جو کہ حتمی طور پر پیسے کی طلب اور اشیا کی قیمتوں سے طے ہوتا ہے۔

اسی لیے یہ کہنا بجا ہو گا کہ بہترین زری پالیسی یہ ہے کہ کوئی زری پالیسی ہو ہی نہ۔ یعنی یہ دونوں اختیار حکومت کے پاس ہرگز نہیں ہونے چاہییں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *