اگر انتخابات منصفانہ نہیں، تو آپ اسیمبلیوں میں کیوں بیٹھے؟

سیاسی قضیے: 29  دسمبر، 2018

یہ ان دنوں کی بات ہے، جب تحریکِ انصاف ’’دھاندلی دھاندلی‘‘ کھیل رہی تھی، یا اس کے پردے میں کچھ اور۔ اسی پس منظر میں آصف علی زرداری کا ایک بیان پڑھنے کو ملا۔ انھوں نے فرمایا: ’’ہمارا مینڈیٹ تو ہر دفعہ چوری ہوتا ہے۔‘‘

وہ کیا کہنا چاہ رہے تھے: آیا یہ کہ ان کی جماعت کے ساتھ ہر انتخاب میں دھاندلی ہوتی ہے۔ یا یہ کہ ہر انتخابی مینڈیٹ، ہمیشہ کے لیے ان کی جماعت کے نام لکھ دیا گیا ہے، اور یہ ان کی جماعت کو ہی ملنا چاہیے۔ اور اگر ان کی جماعت کو نہیں ملتا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی جماعت کے ساتھ دھاندلی کی گئی ہے۔

پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں، کم و بیش، اسی اندازِ فکر کی حامل ہیں۔ واضح رہے کہ یہ اندازِ فکر فسطائی رجحان کا غماز بھی ہے۔

ہاں، ایک فرق یہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے غالباً یہ اندازِ فکر مستقلاً نہیں اپنایا۔ اسی طرح، مسلم لیگ ن نے بھی کم از کم اس انداز سے دھاندلی کے معاملے پر سیاست نہیں کی ہو گی، جیسے گذشتہ پانچ برس تحریکِ انصاف کرتی رہی ہے۔

یہ یہی انداز فکر ہے، جو تحریکِ انصاف کو فسطائیت (فاش ازم) میں ڈوبی جماعت بناتا ہے۔ تحریکِ انصاف کی تمام کی تمام سرکردہ شخصیات یکساں اندازِ فکر کا اظہار کرتی رہی ہیں، 2008 کے انتخابات کے بعد بھی اور 2013 کے انتخابات کے بعد بھی۔ ان کا کہنا تھا: ہم لوگوں کا بھلا کرنا چاہتے ہیں، اور یہ بے وقوف (’’گدھے‘‘) ہمیں ووٹ نہیں دیتے!

جبکہ دوسری جماعتیں اب یا تب، یا کبھی کبھار فسطائی رجحان کا اظہار کرتی نظر آتی ہیں۔ یعنی وہ کم درجے کی فسطائیت کی حامل ہیں۔

بہر حال اس تحریر کا منشا یہ ہے کہ اگر کوئی جماعت سمجھتی ہے کہ کسی انتخاب میں اسے دھاندلی یا منظم دھاندلی کے ذریعے ہرایا گیا ہے، جیسا کہ حالیہ انتخابات کے ضمن میں مسلم لیگ ن کا موقف ہے، تو اس جماعت کو پوری توانائی اور اپنے پورے وسائل کے ساتھ اس دھاندلی کے خلاف صف آرا ہونا چاہیے۔

انتخابات میں دھاندلی کا موقف تو جمیعتِ علمائے اسلام (ف) نے بھی اختیار کیا ہے، اور صوبائی یا قومی اسیمبلی کی کوئی نشست ان کے حصے میں نہیں آئی۔ ان کے نزدیک اس کا سبب منظم دھاندلی ہے۔

سوال یہ ہے کہ دھاندلی کا شکار جماعت یا جماعتیں چپ کیوں ہو جاتی ہیں۔ اور اس دھاندلی کو قبول کیوں کر لیتی ہیں۔ کیا یہ کوئی مصلحتیں ہوتی ہیں، وہ جن کا شکار ہو جاتی ہیں، اور یوں دھاندلی زدہ سیٹ اپ میں شامل بھی ہو جاتی ہیں۔

دو مثالیں قابلِ غور ہیں۔ تحریکِ انصاف دھاندلی کے خلاف صف آرا رہی۔ حتیٰ کے دھاندلی سے متعلق اس کے جتنے مطالبات تھے، ان پر عمل درآمد کے بعد بھی۔ جیسا کہ چار حلقے کھولے گئے۔ کچھ نہ نکلا۔ پھر عدالتی کمیشن کا مطالبہ داغا گیا، وہ بھی قبول ہوا۔ کمیشن بنا۔ مگر تحریکِ انصاف ’’دھاندلی‘‘ کے خلاف پھر بھی صف آرا رہی۔

دوسری مثال امریکہ کی ہے۔ وہاں بھی انتخابات میں ’’دھاندلی‘‘ کے معاملے نے سر اٹھایا تھا، اور آخرِکار یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا۔ وہاں سے جو بھی جیسا بھی فیصلہ سامنے آیا، اسے قبول کر لیا گیا۔

جبکہ پاکستان میں تحریکِ انصاف نے سپریم کورٹ کے بنائے عدالتی کمیشن کے نتائج کو بھی قبول نہیں کیا۔ یہ چیز بھی تحریکِ انصاف کی فسطائی فطرت  کا پتا دیتی ہے۔ یعنی آئین، قانون، قواعد و ضوابط اور اخلاقیات سمیت تمام اقدار و روایات، کسی بھی چیز کو تسلیم نہ کرنا۔ اور ہر چیز کا تیاپانچہ کر دینا۔ اور بزعمِ خود ہر کسی کو غلط قرار دینا، اور خود کو صحیح سمجھنا۔

فرض کریں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور دوسری جماعتوں کا موقف درست ہے کہ 2018 کے انتخابات میں منظم دھاندلی ہوئی ہے، تو کیا انھوں نے اس دھاندلی کو قبول کیوں کر لیا۔ اور وہ ایک ایسے نظم کا حصہ کیوں بنی ہوئی ہیں، جس کی بنیاد دھاندلی پر قائم ہے۔

مزید یہ کہ دھاندلی پر مبنی اس نظام کا حصہ بن کر یہ جماعتیں، لوگوں کے اصل مینڈیٹ کی توہین کی مرتکب بھی ہو رہی ہیں۔ وہ لوگوں کے ووٹ کی توہین کر رہی ہیں۔

حاصلِ بحث یہ کہ یا تو ان جماعتوں کو ’’دھاندلی‘‘ یا ’’منظم دھاندلی‘‘ کا الزام واپس لینا چاہیے، یا اگر وہ سمجھتی ہیں کہ منظم دھاندلی ہوئی ہے، تو پھر انھیں اسیمبلیوں کا بائیکاٹ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی پوری طاقت کے ساتھ دھاندلی اور دھاندلی کی بنیاد پر بننے والی حکومت کے خلاف مہم چلانی چاہیے۔

یعنی ان کا ’’دھاندلی دھاندلی‘‘ کا پہاڑہ محض لغو ہے۔ اور وہ خود بھی دھاندلی میں ملوث ہیں!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *