پاکستانی فسطائیت کے خد و خال Fascism in Pakistan

سیاسی قضیے: [29 نومبر، 2018]

تمہید:

ہر معاشرے میں مختلف النوع منفی رجحانات ہمیشہ موجود رہتے ہیں، جیسے کہ خودپسندی، عقل دشمنی، وغیرہ، (تاآنکہ فکری اور سماجی روشن خیالی ان میں سے کچھ رجحانات کا قلمع قمع نہ کر دے!)۔ سبب اس کا افراد کے مابین لاتعداد قسم کے اختلافات ہیں۔ ہاں، ان رجحانات کو جب کبھی خارج میں سازگار ماحول میسر آ جاتا ہے، تو یہ پنپنا اور ’’پھلنا پھولنا‘‘ شروع کر دیتے ہیں۔

جیسا کہ فی زمانہ یورپ میں انتہاپسند دائیں بازو نے سر اٹھایا ہوا ہے۔ ریاست ہائے متحدہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت میں داخلیت پسندی کو فروغ ملا ہے۔ اور پاکستان میں عمران خان کی شکل میں فسطائیت نے ظہور پایا ہے۔

یہاں صرف  فسطائیت (فاش ازم) کا رجحان پیشِ نظر ہے۔

کسی بھی معاشرے میں جو رجحانات پنپتے اور پھلتے پھولتے ہیں، وہ وہاں کی خاص مقامی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ بعض اوقات ان کی تشخیص مشکل ہو جاتی ہے؛ بشرطیکہ ان کے جوہر پر نظر رکھی جائے۔ مزید یہ بھی کہ ان رجحانات کی شدت بھی مقامی حالات سے متعین ہوتی ہے۔

پاکستانی فسطائیت:

پاکستان میں فسطائیت کا رجحان موجود رہا ہے۔ پیپلز پارٹی، گو کہ بیشتر عوامیت (پاپولزم) کی علم بردار جماعت ہے، مگر بعض اوقات فسطائیت کا لبادہ بھی اوڑھ لیتی ہے۔ بالخصوص ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار میں آنے کے کچھر عرصے بعد، اس نے اپنا فسطائی روپ اختیار کرلیا تھا۔ مسلم لیگ ن بھی مختلف اوقات میں فسطائیت اور عوامیت دونوں رجحانات کا اظہار کرتی رہی ہے۔

مگر پاکستان میں فسطائیت کے رجحان کی بڑی تشکیل عمران خان کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ یعنی تحریکِ انصاف نے پاکستان کے لوگوں میں موجود فسطائی رجحان کو اظہار کا ایک سانچہ مہیا کر دیا۔ ان کی شخصیت ابتدا ہی سے فسطائیت کی نمائندہ رہی ہے۔

تاہم، تحریکِ انصاف ایک سیاسی جماعت کے طور پر فسطائیت کی علم بردار نہیں تھی۔ ہاں، جب اسے 2011 کے اواخر سے عروج ملنا شروع ہوا، تو اس کا فسطائی رجحان نمایاں ہو کر سامنے آنے لگا۔

یہاں شروع ہی میں یہ بات صاف کر دینا ضروری ہے کہ، جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، فسطائیت کبھی اوپر سے نازل نہیں ہوتی، اس کی افزائش نیچے سے ہوتی ہے۔ دوسری یہ کہ فسطائیت، اپنا چہرہ بدلتی رہتی ہے۔ اس کا اصل چہرہ اس وقت سامنے آتا ہے، جب یہ اقتدار پر قابض ہو جاتی ہے۔

مختصراً یہ اشارہ کر دینا بھی مناسب ہو گا کہ فسطائیت، بالعموم معاشرے میں پنپتی ہوئی مایوسی، ناامیدی، اور بےبسی کو منفی صورتوں میں ڈھالتی ہے، اور ایک باغی کا حلیہ اختیار کرتی ہے۔

تاہم، یہ واضح رہے کہ مایوسی، ناامیدی اور بےبسی کو مثبت صورت بھی دی جا سکتی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا، تو اسے ان قوتوں کی ناکامی سمجھا جانا چاہیے، جو اس شعور کے باوجود ایسا کرنے سے قاصر رہ جاتی ہیں۔

میں نے بہت شروع میں، پاکستانی فسطائیت کی پیش قدمی کو محسوس کر لیا تھا۔ اور تب سے ہی اس کے بارے میں لکھتا آ رہا ہوں۔

ہوا یوں کہ یہ کوئی 2010 کی بات ہو گی کہ میرے موبائل فون پر تحریکِ انصاف کی طرف سے پیغامات موصول ہونے شروع ہو گئے: اب عمران خان نے یہ کہہ دیا۔ اب انھوں نے یہ کر دیا۔ اب وہ یہاں پہنچ گئے۔ اب وہ وہاں پہنچ گئے۔ میں نے سوچا میں نے تو انھیں اپنا فون نمبر نہیں دیا، نہ ہی میں تحریکِ انصاف کا رکن بنا ہوں، پھر مجھے یہ پیغامات کیوں بھیجے جا رہے ہیں۔ دو تین مرتبہ جواباً میں نے کہا کہ بھئی مجھے یہ پیغامات نہ بھیجیں، مگر سلسلہ بند نہیں ہوا۔ پھر تنگ آ کر میں نے کہا اگر مجھے یہ پیغامات بھیجنے بند نہ کیے گئے، تو میں اپنی شکایت پی ٹی اے (پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھاریٹی) کو بھیج دوں گا۔ اب پیغام آنے رک گئے۔

یہ بہت معمولی سا مظہر تھا، مگر اس کے پیچھے جو سوچ کارفرما تھی، وہ بہت خطرناک تھی، اور آگے چل کر تحریکِ انصاف اور انصافیوں کا ’’طرۂ امتیاز‘‘ بنی۔

سو، فسطائیت کے عناصر سے مملو یہی سوچ تھی، جو نہایت تیزی سے لوگوں میں مقبول ہوئی۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ ایسی دلیل پہلے کبھی سننے کو ملی ہو۔ یہ جیسے بالکل ایک نئی بات تھی۔ استدلال کا بالکل ایک نیا انداز۔ اسی لیے اس نے مجھے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔

وقت کے ساتھ ساتھ یہ رجحان عام ہوتا گیا۔  تقویت پاتا گیا۔ جہاں جاؤ، جس سے ملو، تحریکِ انصاف کے حامی اکثر لوگوں کی گفتگو میں یہی رجحان کارفرما نظر آتا۔ علاقہ، زبان، نسل، وغیرہ، اسے ان سرحدوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔

بتدریج یہ رجحان ایک ہمہ گیر رجحان بن گیا۔ اس میں شدت آ گئی۔ یہی چیز تحریکِ انصاف کی فسطائیت کا جوہر ہے۔

ابتدا میں یہ رجحان ایک حیرانی اور معصومیت سے مملو تھا: اچھا یہ کون ہے، جو عمران خان اور تحریکِ انصاف کا حامی نہیں!

 پھر اس نے کچھ ایسی شکل اختیار کی: ہر کسی کو عمران خان اور تحریکِ انصاف کا حامی ہونا چاہیے۔

آگے چل کر اس رجحان نے یہ صورت اختیار کی: جو عمران خان اور تحریکِ انصاف کا حامی نہیں، وہ بے وقوف اور عقل سے عاری ہے۔ گدھا ہے۔

اسی بات نے یہ شکل بھی دھاری: ہر باشعور اور سمجھ دار فرد عمران خان اور تحریکِ انصاف کا حامی ہے۔

آخراً یہ رجحان تشدد کے ساتھ آمیز ہو گیا۔ 2013 کے عام انتخابات سے قبل ہی تحریکِ انصاف تشدد کی راہ پر چل پڑی۔ اور 2014 کے اسلام آباد دھرنے میں، تحریکِ انصاف کی متشدد فسطائیت کا کھل کر مظاہرہ ہوا۔

یہاں یہ چیز بھی نظر میں رہنا ضروری ہے کہ تحریکِ انصاف نے عدم برداشت اور تشدد کو علی الاعلان فروغ دیا۔ مثلاً عمران خان اور تحریکِ انصاف پر تنقید کرنے والوں کو نہ صرف دشنام طرازی، بلکہ تشدد کی دھمکیوں اور تشدد کا ہدف بھی بننا پڑا۔

اب جبکہ تحریکِ انصاف، اقتدار حاصل کر چکی ہے، اس کی فسطائیت ایک نیا چہرہ اوڑھ رہی ہے۔

تو یہ بات تو صاف ہوئی کہ فسطائیت کا رجحان لوگوں کی ایک بڑی تعداد میں موجود تھا۔ عمران خان اور تحریکِ انصاف نے اسے سینچا اور اب یہ بڑھ کر ایک تناور درخت بن گیا ہے۔

ہاں، یہ بات قابلِ غور ہے کہ خیبرپختونخوا میں تحریکِ انصاف کی حکومت نے کوئی ایسا بڑا کام نہیں کیا، مگر فسطائی ذہنیت نے ایسے کاموں کو بھی ’’اہم‘‘ قرار دے ڈالا، جنھیں کسی بھی طرح نظامی تبدیلیاں نہیں گردانا جا سکتا۔

مثلاً، شجرکاری کا معاملہ۔ یہ ایک حیلہ تو ہو سکتا ہے، اچھی حکمرانی کی گواہی نہیں۔

پولیس کے محکمے میں اصلاحات کا معاملہ۔ اس ضمن میں جو فسانے بیان کیے جاتے ہیں، وہ حقیقت سے بہت دور ہیں، اور درست تجزیے پر مبنی نہیں۔

اگر خیبرپختونخوا میں اچھی حکمرانی سے متعلق تحریکِ انصاف کی مجموعی پنج سالہ کارکردگی کو سامنے رکھا جائے، تو اس کے کھاتے میں کوئی بڑی نظامی کامیابی درج نہیں۔

ہاں، بری حکمرانی کے جتنے عیب پاکستان کی مختلف وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے خاص سمجھے جاتے ہیں، خواہ یہ کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت ہو، وہ تحریکِ انصاف کی حکومت میں بھی بدرجۂ اتم موجود رہے ہیں۔ جیسے کہ مالی بدعنوانی؛ اختیارات سے تجاوز؛ اختیارات کا غلط استعمال؛ وغیرہ ۔

مراد یہ کہ گوکہ کوئی ایسا بڑا کام نہیں کیا گیا، مگر چہرے کو میک اپ سے خوب لاد کر اور بدل کر پیش کیا گیا۔ اس کے پیچھے بھی یہی سوچ کارفرما ہے کہ چونکہ یہ کام ہم نے کیا، لہٰذا، یہ بہت بڑا کام ہے۔ یعنی کام کی بڑائی کا تعین کام سے نہیں ہوا، بلکہ کام اس لیے بڑا ٹھہرا کہ اسے ایک بڑے نے کیا۔ اور وہ ’’بڑا‘‘ خیبرپختونخوا میں تحریکِ انصاف کی حکومت تھی۔

یہی کچھ اب وفاق میں، خیرپختونخوا میں، پنجاب میں (اور بلوچستان میں) بھی ہو رہا ہے۔

پاکستانی فسطائیت کے اہم خد وخال:

یہاں ایسے خد و خال کو سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو فسطائیت کی عمومی خصوصیات کے ساتھ ساتھ اس کی مقامی (پاکستانی) خصوصیات کی تشکیل بھی کرتےہیں۔ یقیناً یہ فہرست نامکمل ہے۔

معصومیت:

جیسا کہ کہا جاتا ہے، وہ آیا، اس نے دیکھا، اور فتح کر لیا۔ تحریکِ انصاف بھی اسی مخمصے میں گرفتار ہے کہ ہم آ گئے، مگر کچھ ہو نہیں رہا۔ کیوں نہیں ہو رہا۔ یعنی سب کچھ فتح کیوں نہیں ہو رہا۔

اور یہ کہ ہم تو ہیں ہی صحیح اور ہر کوئی ہمارا پیروکار ہے۔ ’’اوئے تم کون ہو، جو ہمارے پیروکار نہیں!‘‘

یہ سوچ شدید قسم کی مریضانہ داخلیت کی غمازی کرتی ہے۔

جن دنوں اسلام آباد میں تحریکِ انصاف کا دھرنا جاری تھا اور جاوید ہاشمی نے دھرنے کو خیرباد کہہ کر دھرنے کے مقاصد سے متعلق انکشافات کیے، ایک انصافی دوست کا کہنا تھا: یہ جاوید ہاشمی تھوڑا سا انتظار کر لیتے، دھرنا کامیاب ہو جاتا تو پھر اپنے انکشافات کر لیتے!

اسی طرح، جب دوسری بار دھرنا دیا گیا، اور انصافی بنی گالا کے باہر جمع تھے، اور پولیس بھی تعینات تھی، تو ایک انصافی دوست نے حیرت کا اظہار کیا: یہ پولیس ہر چار پانچ گھنٹے بعد لوگوں (انصافیوں) پر لاٹھی چارج کیوں کرنے لگتی ہے!

معجزاتی تساہل:

نہ کوئی تیاری ہے، نہ کوئی تیاری کرنی ہے۔ نہ کوئی کام کیا اور نہ ہی اہلیت ہے، اور یہ سوچ ہے کہ بس ہم چاہیں گے، کہیں گے اور کام ہو جائے گا۔ بیٹھ کر سوچتے رہو، کوئی نہ کوئی معجزہ خود بخود واقع ہو جائے گا۔

کہا جاتا تھا اور اب بھی یہی کہا جا رہا ہے کہ بس ہمارے پاس ہر حل موجود ہے، اتنے دنوں میں، نوے دنوں میں، یا سو دنوں میں، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ مگر حکومت میں آتے ہی ڈھول کا پول کھل گیا ہے کہ کچھ تیاری نہیں۔ محض خوش فہمیاں تھیں، جو نہ تو پوری ہو رہی ہیں، نہ ہی پوری ہونے والی ہیں۔ جیسا کہ سمندرپار پاکستانی بس تیار بیٹھے ہیں، زرِ مبادلہ بھیجنے کے لیے۔ مگر کچھ نہ ہوا۔

یہ بھی پاکستانی فسطائیت کی انتہائی مقامی صورت ہے کہ بزعمِ خود پھنے خاں بن بیٹھو اور جب کچھ کرنے کا وقت آئے تو آئیں بائیں شائیں شروع کر دو۔

اور یہ تو بالکل ایک عجوبہ ہے کہ عمران خان جس ملک کا دورہ کر رہے ہیں، وہ کہتے ہیں میں یہاں یہ سیکھنے آیا ہوں، یہاں میں یہ سیکھنے آیا ہوں۔ سو لگتا ہے کہ پانچ برس یونہی سیکھتے گزر جائیں گے۔

تکبرونخوت:

رعونت ایک ایسا اظہار ہے، جو تحریکِ انصاف کے بیشتر حامیوں کے چہروں پر لٹکا ہوا ہے: جو ہمارا حامی نہیں، وہ عقل و دانائی سے عاری ہے۔ تنہا ہم عقل و دانش کے علم بردار ہیں۔

جبکہ سرکردہ انصافی شخصیات کا مبلغ علم سنی سنائی باتوں پر مشتمل ہے۔ جب سے حکومت قائم ہوئی ہے، عدم اہلیت اور عدم قابلیت اُبل اُبل کر سامنے آ رہی ہیں۔ خود عمران خان کا ’’وژن‘‘ سنی سنائی متضاد باتوں کا ایک بے ہنگم ملغوبہ ہے۔

انتخابات کی اثنا میں، ایک محترم انصافی دوست نے اپنی فیس بک پر لکھا: ’’کوئی باہوش شخص جس میں ذرہ بھر سمجھ بوجھ ہے، اس کے پاس پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔‘‘

عدم پسندی:

یعنی ہر چیز کا انکار۔ ہر چیز کا رد ۔ تحریکِ انصاف کی فسطائیت کی ایک اہم خصوصیت ہر چیز کا رد و انکار ہے۔ یہ روایات، اصول، اقدار، ہر چیز کو پامال کر چکی ہے۔ یہ آئین و قانون، قاعدوں ضابطوں کسی چیز کو خاطر میں نہیں لاتی۔

لاہور میں 30 اکتوبر، 2011 کے جلسے کے بعد اس کے سر پر ایسا جنون یا خون سوار ہوا ہے کہ یہ ہر چیز کے قتل کے درپے ہے۔ 2014 کے اسلام آباد دھرنے میں یہ ’’قتلِ عام‘‘ ہو گیا۔ ایسا کونسا غیرآئینی، غیر قانونی کام ہے، جو تحریکِ انصاف نے نہیں کیا۔ ایسا کونسا غیراخلاقی، غیرانسانی فعل ہے، اس نے جس کی دھجیاں نہیں بکھیریں۔ پارلیمان اور قومی ٹی وی سمیت کونسا ایسا آئینی ادارہ ہے، تحریکِ انصاف نے جس کی مٹی پلید نہیں کی۔

2014 کے اسلام آباد دھرنے کو ایک ’’سویلین کو دیتا‘‘ کا نام دینا چاہیے، جو قلعے کو فتح تو نہیں کر سکا، مگر اس کی فصیلوں کو شکستہ ضرور کر گیا۔

غالباً اس امر کے پیچھے یہی سوچ موجود ہے کہ اخلاقیات، آئین، قانون، وغیرہ، کیا چیزیں ہیں۔ ہم خود اخلاقیات ہیں۔ ہم خود آئین ہیں۔ ہم خود قانون ہیں۔ ہم جو کہہ دیں، کر دیں، وہی اخلاقیات ہے، وہی آئین ہے، وہی قانون ہے۔

پاکستانی فسطائیت کی عدم پسندی کا رنگ اتنا گہرا ضرور ہے کہ اسے معاشرے کے ایک بڑے حصے کی ’’آروزئے موت‘‘ سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ یعنی بے بسی، مایوسی اور ناامیدی کا اگر کوئی علاج نہیں، تو موت اور تباہی سب کا مقدر بننی چاہیے۔

کذب پسندی:

فسطائیت کی ایک بڑی کرداری خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ بڑے بڑے جھوٹ گھڑتی ہے۔ اور ایسی دلیری سے لوگوں کے منہہ پر جھوٹ بولتی ہے کہ لوگ ششدر رہ جاتے ہیں۔ یہ آپ کہ منہہ پر کہے گی کہ آپ موجود ہی نہیں، بس یہ ہی یہ موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایسا ہی سمجھتی بھی ہے اور اسی پر عمل بھی کرتی ہے۔

اخبارات، ٹی وی چینل، فیس بُک، ٹویٹر،یوٹیوب، وغیرہ، پر اس کے کذب و افترا کے حقائق سننے دیکھنے والوں کی آنکھیں چندھیا رہے ہیں۔

بد زبانی:

تحریکی فسطائیت کی ایک نمایاں پہچان اس کی بد زبانی ہے۔ اس کا آغاز بھی اس کے عروج کے ساتھ ہی ہو گیا تھا، اور یہ بد زبانی روز بروز مزید عروج حاصل کر رہی ہے۔ اسے تحریکِ انصاف کی فسطائیت کی ایک مقامی پاکستانی خصوصیت ہی کہا جا سکتا ہے، کیونکہ فسطائیت تو زبان کو نہایت نفاست کے ساتھ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی تاریخ رکھتی ہے۔

عقل دشمنی:

عقل سے دشمنی بھی ایک اہم خصوصیت ہے۔ وگرنہ فسطائیت، عقل دشمنی کی خاطر عقل کو بھی نہایت زیرکی سے کام میں لاتی رہی ہے؛ گوکہ اپنی کلی حیثیت میں یہ ایک عقل دشمن مظہر ہے۔ تحریکِ انصاف کی فسطائیت کی عقل دشمنی بیشتر شخصیت پرستی سے عبارت ہے۔ عمران خان جو بات بھی کہہ دیں گے، خواہ وہ عقل اور فہمِ عامہ سے مطابقت رکھتی ہو یا نہیں، انصافیوں کے لیے اس کی توجیہہ اور دفاع لازم ہو جاتا ہے۔ وہ کبھی اس بات کو عقل کے معیار پر نہیں پرکھیں گے۔ یعنی ان کے نزدیک ان کا ’’قائد‘‘ مجسم عقل ہے۔

تازہ ترین فسانہ چین کا روشنی کی رفتار سے تیز تر ٹرین بنانے سے تعلق رکھتا ہے۔

ہدف پسندی:

فسطائیت کا خاصہ ہے کہ یہ بالعموم معاشرے کے کسی حصے یا طبقے کو اپنا ہدف قرار دیے لیتی ہے۔ یہ ہدف ایک بھی ہو سکتا ہے، اور ایک سے زیادہ بھی۔ ہٹلر نے ابتدا ہی سے یہودیوں کا اپنا نشانہ بنایا ہوا تھا۔  تحریکِ انصاف کی فسطائیت بھی اس سے مبریٰ نہیں۔ اس کی فسطائیت نے مسلم لیگ ن اور بالخصوص شریف خانوادے کو اپنا ہدف بنایا ہوا ہے۔ اصل میں یوں فسطائیت کو باآسانی ایک ایسی ہستی میسر آ جاتی ہے، جسے تمام برائی اور فساد کی جڑ قرار دیا جا سکے، اور لوگوں کو بتایا جا سکے کہ بس یہ برائی ختم ہوئی نہیں کہ سب کچھ ایک حسین تعبیر کی صورت میں سامنے آ جائے گا۔

ایجاد پسندی:

تحریکِ انصاف کی فسطائیت اس مفہموم میں نہایت مقامی بن جاتی ہے کہ یہ سمجھتی ہے کہ یہ ہر چیز ایجاد کر رہی ہے۔ اسے اس بات کا کوئی احساس و ادراک نہیں کہ دنیا میں اس سے پہلے بہت کچھ واقع ہو چکا ہے اور بہت کچھ نیا وجود میں آ چکا ہے۔ مگر یہ اپنے دعووں سے باز نہیں آتی کہ بس یہ کام پہلی مرتبہ ہم کر رہے ہیں!

جیسا کہ چینی کرنسی، یوان میں تجارت وغیرہ کا معاملہ ہے، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ انھوں نے شروع کیا۔ جبکہ اس کی ابتدا 2013 سے ہو چکی ہے۔ مگر اسے فروغ نہیں مل سکا۔

نیک پروینیت:

تحریکِ انصاف کی فسطائیت یہ سمجھتی ہے کہ ساری دنیا میں بس ایک یہ ہی نیک ہے اور نیک پروین بھی۔ باقی سب کے سب بدکار اور بےکردار ہیں۔ بزعمِ خود نیکوکار ہونے کا اس کا دعویٰ انتہائی مایوس کن ہے، مگر دوسروں کے لیے۔ کیونکہ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی بےلباس شخص یہ کہے کہ اس سے بہتر لباس کسی نے پہنا ہی نہیں۔

تحریکِ انصاف کے دعوے ایسے ہوتے ہیں کہ دوسرا شخص انگشت بدنداں رہ جاتا ہے کہ وہ کیا کہے۔ بلکہ گہری مایوسی میں ڈوب جاتا ہے۔

یہ فسطائیت دوسروں کے ذہن کو شل کر دیتی ہے۔ تو کیا اس فسطائیت سے خطرناک کوئی فسطائیت ہو سکتی ہے!

مطلب براریت:

فسطائیت کے نردیک دنیا میں اہم ترین چیز اس کے مقاصد ہوتے ہیں، اور ان مقاصد کے حصول کے لیے یہ ہر وہ ذریعہ اختیار کر سکتی ہے، جس کی مدد سے یہ اپنے مقاصد تک پہنچ سکتی ہے۔ تحریکِ انصاف بھی عملاً  اسی سوچ پر عمل پیرا ہے۔ یعنی مطلب براری اس کا سب سے بڑا اصول ہے۔ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اس نے کیا کچھ نہیں کیا۔ ہر چیز کو تہہِ تیغ کیا۔ پامال کیا۔ پاؤں میں روندا۔ اس میں آئین، قانون، اخلاقیات، وغیرہ، سب کچھ شامل ہے۔

اقتدار حاصل کرنے کی خاطر تحریکِ انصاف نے جو کوششیں کیں، ان کی تاریخ انتہائی سبق آموز ہے۔ یہ خود تحریکِ انصاف کے مقاصد کو جھٹلاتی ہے۔ اور یہ سوچنا ضروری ہو جاتا ہے کہ یہ اقتدار کے ذریعے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔

30 اکتوبر، 2011 سے  24 جولائی، 2018 تک اس کے ’’کارناموں‘‘ کا کچا چٹھا یہ سوال اٹھانے پر مجبور کر دیتا ہے کہ یہ کونسے آئین اور کونسے قانون کو مانتی ہے، اور اب اقتدار میں آ کر ان کا کیا حال کرے گی!

ریاکاریت:

تحریکِ انصاف اپنے عروج کی ابتدا سے دوسری سیاسی جماعتوں کو جن چیزوں کے لیے تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے، خود جو کچھ کرنے کے وعدے کرتی رہی ہے، اور خود جو کچھ کر دکھانے کے دعوے کرتی رہی ہے، خیبرپختونخوا میں اقتدار ملنے کے باوجود اس نے کچھ نہیں کیا۔ اور اب وفاق اور قریباً تین صوبوں میں ’’اپنی‘‘ حکومت ہونے کے باوجود، جبکہ خود اس کے مطابق اس کی حکومت کے سو دن پورے ہو گئے ہیں، مگر اس نے کچھ نہیں کیا۔

تحریکِ انصاف کی ریاکاریت اتنا بڑا جھوٹ ہے کہ اس کے سامنے انسان مایوسی کے اندھیروں میں کھو جانا چاہتا ہے۔

یوٹرنیت:

چونکہ تحریکِ انصاف کے وعدے، دعوے، بلند بانگ مثالیں، محض دکھاوا تھیں، اور اس میں نہ کوئی اہلیت ہے، نہ قابلیت، اور نہ کوئی ’’وژن‘‘، لہٰذا حکومت میں آتے ہی، پہلے کی طرح، یہ اپنی ہر بات سے مکرنا شروع ہو گئی ہے۔ اپنے ہر موقف سے واپسی اختیار کر رہی ہے۔ اور اب اپنے اس منفی عمل کو ’’یوٹرن‘‘ کا نام دے رہی ہے۔ یہ بھی ایک انوکھا فعل ہے کہ ساری لغات کو جھٹلا کر اس نے اپنے کہے سے مکرنے کے فعل کو ایک مثبت فعل میں ڈھالنے کا جتن کیا ہے۔ اس سے آنے والے دور کا اندازہ ہو جانا چاہیے۔

اور اب تو عمران خان نے یوٹرن لینے کوہر بڑے ’’لیڈر‘‘ کی پہچان قرار دے دیا ہے۔

اناپسندی:

ایک ایسی خصوصیت تحریکِ انصاف کی فسطائیت ابتدا سے جس کی حامل تھی، اور جس نے مجھے ابتدا ہی میں چونکا دیا تھا، وہ اس کی اناپسندی ہے، یعنی اس کی ’’میں‘‘۔ اکثر انصافیوں کی ’’میں‘‘ اتنی بڑی ہے کہ اس کے سامنے پوری کائنات بھی کم پڑ جاتی ہے۔ ’’میری پارٹی‘‘؛ ’’میرا ملک‘‘؛ ’’میری فوج‘‘؛ ’’میری ایجینسیاں‘‘؛ ’’میرا کپتان‘‘، وغیرہ۔ شاذ ہی کوئی ایسا انصافی ملے گا، عام زندگی میں بھی جس کی ’’میں‘‘ کسی کوہِ ہمالہ سے چھوٹی ہو!

منہہ زوریت:

چوری اور سینہ زوری، پاکستانی فسطائیت کی ایک اور بڑی خصوصیت ہے۔ پاکستان میں اکثر ایسے لوگ ہیں، جن کا کردار اور طرزِ عمل آپ کو شش و پنج میں ڈال دیتا ہے۔ یہ لوگ آپ کو نقصان پہنچائیں گے، اور الٹا آپ کے سر چڑھیں گے اور آپ کو موردِ الزام ٹھہرائیں گے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے: الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔

اوپر بار بار مذکور ہوا کہ تحریکِ انصاف نے آئین، قانون، اخلاقیات سمیت ہر چیز کو پامال کیا اور روندا، اور دعویٰ یہ کیا کہ دوسرے لوگ ایسا کرتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ لوگوں کو ہر چیز میں حلال اور حرام کی تمیز کرنا پڑی۔ جیسے کہ حلال پروٹوکول اور حرام پروٹوکول۔ اسی طرح، لاتعداد ایسی چیزیں، جن میں تحریکِ انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد اضافہ ہو گیا ہے۔

خودتقرریت:

جس طرح اشتراکی اور اشتمالی جماعتیں بزعمِ خود محنت کشوں کی نمائندہ بن بیٹھی تھیں اور ان کے لیے ایک اشتراکی جنت کی تخلیق کا کام سنبھال لیا تھا، جہاں خود ان محنت کشوں کی زندگی ’’گُلاگ‘‘ اور ’’سماجی غلامی‘‘ کی نظر کر دی گئی۔ اسی طرح، تحریکِ انصاف بھی بزعمِ خود پاکستان کے لوگوں کی واحد نمائندہ جماعت بن بیٹھی، اور اس مقام پر اپنا تقرر خود ہی کر لیا۔ مگر جب 2013 کے عام اںتخابات میں لوگوں نے اسے خاطرخواہ تعداد میں ووٹ نہیں دیے، تو انھیں بے وقوف اور گدھا قرار دیا گیا۔

خودپسندی:

تحریکِ انصاف کی فسطائیت مریضانہ حد تک خودپسندی کی حامل بھی ہے۔ بغیر کسی خارجی گواہی کے اس نے خود کو ایک ایسے مقام پر فائز کر لیا ہے، جہاں بس یہ خود کو پوجتی اور اپنی پرستش کرتی ہے، اور دوسری تمام سیاسی جماعتوں کو رگیدتی ہے۔

اس کا مظاہرہ اب حکومت میں آنے کے بعد تو بہت عام ہو گیا ہے۔ عمران خان جس جس غیرملک جا رہے ہیں، وہ وہاں جا کر یہ بات ضرور دہراتے ہیں کہ حزبِ اختلاف کی جماعتیں بے حد بدعنوان اور نااہل ہیں، اور یہ بس ان کی جماعت ہے، جو دودھ کی دُھلی ہوئی ہے۔ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں، اس کی سیاسی توجیہہ تو غالباً ممکن نہیں، ہاں، نفسیاتی توجیہہ ضرور ممکن ہے۔

مزید یہ بھی کہ عمران خان جس ملک بھی جاتے ہیں، بتایا یہ جاتا ہے کہ وہاں جتنا ’’شاندار‘‘ استقبال ان کا ہوا، پہلے کبھی کسی سربراہ کا نہیں ہوا۔ جیسے کہ وہ کوئی ’’یکتا چیز‘‘ ہیں۔

یکتائیت:

تحریکِ انصاف کی فسطائیت میں یہ چیز نہایت مریضانہ حد تک پیوست ہے کہ یہ کوئی نہایت منفرد اور یکتا چیز ہے۔ اور باقی ہر کوئی، سب کے سب بس کوڑ کباڑ ہیں۔ یہ چیز بھی اوپر سے یعنی عمران خان سے نیچے کی طرف سفر کرتی ہے۔ ان کی سوچ، فکر، طرزِ عمل، رویے سے یہ چیز عیاں ہے کہ وہ کوئی انہونی چیز ہیں، اور باقی سب لوگ عام شام سی چیز ہیں۔ یہ دنیا پِتل دی، بے بی ڈال میں سونے دی!

کند ذہنی:

تحریکِ انصاف کی کند ذہنی، پیدائشی یا فطری نہیں۔ بلکہ سیکھی ہوئی ہے۔ کیونکہ ایسے بہت لوگ ہوتے ہیں، جو یہ سمجھتے ہیں کہ بس تنہا وہ ذہین و فطین ہیں، اور باقی ہر کوئی کند ذہن اور جاہل ہے۔ جبکہ خود ایسے شخص کا ذہن بند اور استعمال نہ کیے جانے کے سبب کند ہو گیا ہوتا ہے۔ یہ تصورات کی ایک ایسی دنیا میں بسے ہوتے ہیں، جو خود ان کی تراشی ہوئی ہوتی ہے، اور حقیقت سے جس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

بےبصیرتیت:

یہاں میں جس مظہر کو بیان کرنا چاہتا ہوں، وہ کچھ یوں ہے: جب کوئی شخص اپنے گریبان میں تو نہ جھانک سکے، یا نہ جھانکے، یا جھانکنے پر تیار نہ ہو، جبکہ دوسروں پر الزام تراشی کرنا اس کا وطیرہ بن چکا ہو۔ اب ’’بےگریبانیت‘‘ کی اصطلاح بنتی ہے یا نہیں، اسی شک کی بنا پر میں نے ’’بےبصیرتیت‘‘ کی اصطلاح سے کام لیا ہے۔ تحریکِ انصاف اتنی بصیرت سے بھی عاری ہے کہ جن باتوں کے لیے یہ دوسری سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کو کوستے نہیں تھکتی، یہ خود اپنے گریبان میں جھانکے اور دیکھے تو اسے پتا چلے کہ یہ خود بھی تو ان تمام باتوں کی مرتکب تھی اور مرتکب ہو رہی ہے۔ بلکہ باقی سب سیاست دانوں سے کہیں بڑھ کر مرتکب ہو رہی ہے۔ یہ بےبصیرتی نہیں تو اور کیا ہے۔

دعویٰ پسندی:

2011 کے بعد سے تحریکِ انصاف کی سیاست محض دعووں اور وعدوں سے عبارت ہے۔ گو کہ 2013 میں اسے خیبرپختونخوا میں حکرانی کا موقع ملا، مگر اس نے کچھ نہیں کیا۔ کچھ نہیں سیکھا۔ اب وفاق اور دوتین صوبوں میں حکومت بنانے کے باوجود اس کا کوئی دعویٰ اور کوئی وعدہ ایسا نہیں، جو پورا ہونا نظر آ رہا ہو، یا جس کے پورے ہونے کا کوئی امکان ہو۔ جبکہ اس کی دعویٰ پسندی، متکبرانہ غرور سے لت پت ہے۔

مضحکہ خیزی:

ان میں سے بیشتر خصوصیات مجتمع ہو کر ایک مضحکہ خیز صورتِ حال پیدا کر دیتی ہیں۔ جسے لوگ مسلسل تفریح کا ایک ذریعہ بھی قرار دے رہے ہیں۔ اس کی بڑی مثالیں یوٹرن اور چین میں روشنی کی رفتار سے تیزتر ٹرین کی تخلیق سے متعلق انکشافات ہیں۔ ویسے اس چیز کا عملی مظاہرہ خود عمران خان اسلام آباد دھرنے میں کر چکے ہیں، جب انھوں نے اپنے چہرے پر دوپٹہ لپیٹ کر معروف سیاست دان محمود اچکزئی کی نقل پیش کی تھی۔

تحقیریت:

پاکستانی فسطائیت کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ اپنے علاوہ ہر دوسرے کے لیے ناپسندیدگی، نفرت اور حقارت سے لبریز ہے۔ تحریکِ انصاف اس کا مثالی نمونہ پیش کرتی ہے۔ قریب قریب تمام انصافی سیاست دان، ہر دوسرے سیاست دان اور سیاسی جماعت کے بارے میں شدید حقارت کے حامل ہیں۔ بلکہ دوسرے سیاست دانوں اور دوسری سیاسی جماعتوں کے حامیوں کے بارے میں بھی انتہائی تحقیرآمیز رویے کا اظہار کرتے ہیں۔ پاکستانی سیاست میں یہ نفرت و تحقیر گو کہ بالکل نئی چیز نہیں؛ مگر تحریکِ انصاف نے اسے آخری حدوں تک پہنچا دیا ہے۔ اس کے بعد اگلا قدم  تو بس ’’سیاسی خانہ جنگی‘‘ ہی رہ گیا ہے!

انتخاب دشمنی:

یہ فسطائیت کی ایک کرداری خصوصیت ہے، گوکہ پورے نظام کو تلپٹ کرنے کے لیے، اس کے پاس انتخابات میں حصہ لیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح چونکہ پاکستان میں ایک پارلیمانی جمہوری نظام کا ہیولا موجود ہے، لہٰذا تحریکِ انصاف کو مجبوراً یہ راستہ اختیار کرنا پڑا۔ مگر انتخابات کے نئائج کے بعد اس کی انتخابات دشمنی چھپی نہیں رہ سکی۔ اصل میں فسطائیت خود کو ایسے اعلیٰ و ارفع مقام پر فائز کر لیتی ہے، بلکہ حقیقتاً خود کو اس مقام پر فائز سمجھنے بھی لگتی ہے، لہٰذا، اسے یہ چیز گوارا نہیں ہو سکتی کہ یہ انتخابات میں حصہ لے۔ کیونکہ اس کے نزدیک اصل میں تو تنہا یہی ہے، جو لوگوں کی نمائندہ ہو سکتی ہے۔

یہاں ایک شبہے کا اظہار نامناسب نہیں ہو گا۔ تحریکِ انصاف جیسے تیسے اقتدار حاصل کر چکی ہے، اور جیسا کہ اس کا مقدر ہے کہ یہ کچھ بڑی کامیابی حاصل نہیں کرسکے گی، لہٰذا، خاصا امکان ہے کہ یہ انتخابات سے جان چھڑانے کا جتن کرے گی؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ انتخابات کا انعقاد خطرے میں پڑ جائے گا!

عدم برداشت:

تحریکِ انصاف کے کل سیاسی رویے میں عدم برداشت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اس کا سیاسی و سماجی طرزِ عمل نہ صرف عدم برداشت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، بلکہ اس نے تحریکِ انصاف کی فسطائیت کی تشکیل میں اساسی کردار ادا کیا ہے۔

تشدد پسندی:

تحریکِ انصاف کی سیاست میں تشدد پسندی کا رجحان موجود رہا ہے، اور اس کا بھرپور اظہار اسلام آباد کے دھرنے میں ہوا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت میں ہوتے ہوئے، یہ رجحان کیا صورت اختیار کرتا ہے۔ گوکہ یہاں وہاں سرکردہ انصافی وزیر و مشیر تشدد میں ملوث ہو رہے ہیں۔

فسطائی سنڈروم:

تحریکِ انصاف کی فسطائیت بہت سی مختلف خصوصیات کی حامل ہے۔ انھیں سماجی سے زیادہ نفسیاتی انداز میں سمجھنا چاہیے۔ تاہم، ان کا ظہور سیاسی شکل میں ہوا ہے، یا یہ کہ ان کے سیاسی نتائج مرتب ہو رہے ہیں۔

میں سوچتا رہا اور دوستوں سے بھی استفسار کیا کہ ان تمام خصوصیات یا نفسیاتی عوارض کو کوئی ایک نام دیا جا سکتا ہے۔ مگر جواب نفی میں ہے۔ یہی سبب ہے کہ میں نے اسے ’’فسطائی سنڈرروم‘‘ کا نام دیا۔ سنڈروم متعدد بیماریوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ یہاں بھی کچھ ایسی ہی صورتِ حال ہے۔ بہت سے سماجی اور نفسیاتی امراض ایک جگہ جمع ہو گئے ہیں۔ یہ پہلے ہی سے نہ صرف عمران خان کی شخصیت میں، بلکہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد میں بیشتر خوابیدہ یا غیرفعال حالت میں پڑے ہوئے تھے، تحریکِ انصاف کے عروج کے ساتھ انھیں سازگار ماحول میسر آ گیا، اور یہ پنپ کر خار و خس  اور جھاڑ جھنکاڑ کی صورت میں اُگ آئے اور اب تو بڑھ اور پھیل کر ہر جگہ قابض ہونے کی کوشش میں ہیں۔

تاہم، اس فسطائی سنڈروم کی تہہ میں جو روح چھپی ہوئی ہے، وہ خود پسندی اور دوسروں کے لیے شدید تحقیر سے آلودہ ہے۔ یہ یہی سرچشمہ ہے، جہاں سے اس فسطائیت کی باقی تمام خصوصیات وارد ہوئیں اور ہو رہی ہیں۔ آخرالامر یہ ایک نفسیاتی عارضہ ہے، اور یہ نفسیاتی عارضہ معاشرے کے ایک بڑے حصے میں سرایت کیے ہوئے ہے۔

ایک جملۂ معترضہ کے طور پر اس کے حل کے ضمن میں اتنا اشارہ ضروری ہو گا کہ آئین اور قانون کی بالادستی کے ضمن میں کسی بھی قسم کی خارجی مداخلت قطعاً ختم ہونی چاہیے۔ ریاست اور حکومت کو امنِ عامہ کے قیام اور فوری انصاف کی فراہمی پر متوجہ ہونا چاہیے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ حبس اور گھٹن کے ماحول کے خاتمے کی خاطر تازہ ہوا کے جھونکوں کو آنے اور چلنے دیا جائے۔ بصورتِ دیگر، یہ فسطائیت نقصان و تباہی پہنچائے بغیر تو رہے گی نہیں، بلکہ جب یہ خود ایک بھبکے کی طرح اُڑے گی تو پاکستان کے شہریوں کا نفسیاتی بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔

حاصلِ بحث:

آخر میں یہ بات صاف کر دینا بجا ہو گا کہ تحریک انصاف کی فسطائیت کی ان خصوصیات میں کئی خصوصیات ایسی بھی ہیں، جنھیں دوسری سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں میں بھی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ درست ہے۔ مگر اس ضمن میں یہ بات واضح رہے کہ تحریکِ انصاف کے معاملے میں فسطائیت کے ان خد و خال کا منبع اس کی فسطائیت ہے۔ یہ اس کی فسطائیت ہے، جس سے اس کی باقی خصوصیات کا ظہور ہوا اور ہو رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس کی فسطائیت زائل ہو جائے، تو اس کی باقی ماندہ خصوصیات کی نوعیت بالکل ویسی ہی ہو جائے گی، جیسا کہ دوسری سیاسی جماعتوں کے ضمن میں ہے، اور یوں یہ بھی باقی سیاسی جماعتوں سے ملتی جلتی ایک سیاسی جماعت بن جائے گی؛ فسطائی جماعت نہیں رہے گی۔

حاصلِ کلام یہ کہ تحریکِ انصاف کی فسطائیت نے پاکستان کو کئی دہائیاں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ کیونکہ اس نے سیاسی مسائل کو حل کرنے کے بجائے، ان کے حل اور تصفیے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس نے شہریوں میں پیدا ہونے والی مزمن اور قدیمی بے بسی، ناامیدی اور مایوسی کو مثبت انداز میں تعمیری سیاست کا اینٹ گارہ بنانے کے بجائے، اسے اپنی منفی اور تباہ کن سیاست کا ایندھن بنایا۔ اس نے نفرت، حقارت اور تشدد پسندی کو فروغ دے کر پاکستانی لوگوں میں ایک طرف یک جہتی اور دوسری طرف آئین و قانون پسندی کے امکان کو بہت مشکل بنا دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *