بے چارگی کی زندگی

سیاسی قضیے [ 29اکتوبر، 2018]

[نوٹ: یہ تحریر اگست 2007 میں انگریزی میں لکھے گئے، ایک پرانے مضمون میں بیان کیے گئے اور چند ایک حالیہ واقعات و تجربات پر مبنی ہے۔ اپریل 2013 روزنامہ ’’مشرق‘‘ پشاور میں شائع ہوئی۔ مگر افسوس کہ یہ آج بھی اسی طرح ’’تازہ‘‘ ہے۔ یعنی گذشتہ چودہ پندرہ برسوں میں کچھ نہیں بدلا۔ کچھ بھی نہیں بدلا۔]

کچھ سال کی بات ہے ، مجھے لاہور میں نیشنل بُک فاؤنڈیشن کی بُک شاپ پر جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ ایک نیم سرکاری ادارہ ہے۔ مجھے کچھ کتابیں، اور بالخصوص آئینِ پاکستا ن کے سرکاری اردو ترجمے کی تلاش تھی۔ وہاں جو صاحب انچارج تھے، صرف وہی موجود تھے۔ یہاں کتابوں کی دکان پر رش کیسے ہو سکتا ہے۔ وہ مجھ سے بہت اچھی طرح ملے، جو کتابیں مجھے درکار تھیں، وہ دکھانے کے ساتھ ساتھ اور کتابیں بھی دکھائیں۔ میری دلچسپیوں کے بارے میں پوچھتے رہے۔ کتابوں کے بارے میں بتاتے رہے۔ یوں ذرا سی دیر میں ان سے ایک تعلقِ خاطر پیدا ہو گیا۔ انھوں نے اپنے بار ے میں بھی بتایا۔ وہ بہت دل برداشتہ اور ملول دِکھ رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ کہاں رہتے ہیں، اور کیسے وہاں اس آبادی میں کچھ بدمعاش اور اوباش لوگوں نے وہاں رہنے والے لوگوں کا جینا دوبھر کیا ہوا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی ایک بیٹی، اور دو بیٹے ہیں۔ بڑی بیٹی کالج میں پڑھ رہی ہے، اور بیٹے چھوٹے ہیں اور سکول میں ہیں۔ انھوں نے بتا یا ان کا گھر گلی کے بالکل کونے پر واقع ہے، اوریہ اوباش وہیں بیٹھے رہتے ہیں، اور جب ان کی بیٹی، یا اور لڑکیاں کالج جاتی اور واپس آتی ہیں، انھیں تنگ کرتے ہیں، چھیڑتے ہیں۔ عورتوں کو آتے جاتے گھورتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، وہ بے بس ہیں، پریشان ہیں۔ کچھ ایساویسا نہ ہو جائے!

انھوں نے مجھ سے پوچھا، کیا کرنا چاہیے۔ میں خود بے چارگی کی کیفیت میں معلق تھا۔ کچھ تسلی کے لیے میں نے ان سے کہا: آپ نے پولیس کو رپورٹ کیا، تھانے میں درخواست دی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ سب کچھ پہلے ہی کر بیٹھے ہیں۔ لیکن یہ لوگ پولیس سے ملے ہوئے ہیں۔ پولیس ان کی سرپرستی کرتی ہے، اور یہ دوسرے جرائم میں بھی ملوث ہیں۔ اب میں عجیب مشکل میں تھا۔ کیا کہوں، کیا کروں۔ میں نے ان سے کہا، آ پ کو چاہیے اپنے علاقے کے لوگوں کو اکٹھا کریں، اور سب لوگ مل کر ان اوباشوں کو سمجھائیں، اور پولیس پر دباؤ ڈالیں۔ وہ کچھ دیر چپ رہے۔ پھر کہنے لگے، یہاں کون کسی کی بات سنتا ہے۔ کون کسی کا ساتھ دیتا ہے۔ ہم کچھ لوگ پولیس کے پاس گئے تھے، پر اس کا بھی کوئی خاطر خواہ اثر نہیں ہوا۔ وہ اوباش لوگ اور بھڑک گئے۔ میں نے بیٹی کو کالج جانے سے روک دیا، لیکن کب تک۔ وہ پھر کالج جانے لگی ہے۔

ابھی کچھ دن ہوئے، میرے ایک دوست، جو ایک عرب ریاست میں کسی نجی کمپنی میں کام کرتے ہیں، لاہوراپنے گھر آئے، تو مجھ سے بھی ملنے آئے۔ انھیں جب پتہ چلا کہ میں باقاعدگی سے ”مشرق“ میں کالم لکھ رہا ہوں تو جیسے ان کی چہرے پر ایک روشنی سی آ گئی۔ جیسے انھیں امید کی کرن نظر آ گئی ہو۔ کسی مشکل کا حل مِل گیا ہو۔ وہ بتانے لگے، جب سے یہ سوئی (نیچرل) گیس کی کمی ہوئی ہے، اور فیکٹریوں اور بھٹیوں کو اس کی سپلائی روکی گئی ہے، ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔ ان فیکٹریوں نے خاص طور پر پرانے ٹائر اور اسی طرح کا دوسرا کوڑکباڑ بھٹیوں میں جلانا شروع کر دیا ہے۔ پہلے بھی یہ بھٹیاں اور فیکٹریاں ماحول کو آلودہ کرتی تھیں، لیکن یہ کسی حد تک نامحسوس تھا۔ مگر اب جب سے یہ ٹائر اور کوڑکباڑ بھٹیوں کا ایندھن بنا ہے، سیاہی اور دھوئیں کی تہیں ہیں، جو گھر کی ہر چیز پر جمنا شروع ہو گئی ہیں۔ جس چیز کو ہاتھ لگائیں، اس پر سیا ہی کی تہہ جمی ہوئی ہے۔ ہاتھ، پاؤں دھوئیں تو سیاسی چھُٹتی ہے۔ صبح اٹھ کر دیکھیں تو فرش سمیت ہر چیز پر یہی سیاہی جمی ہو گی۔ یقیناً یہ سانس کے راستے، اور پھر خوراک کے ساتھ، ہمارے جسم کے اندر بھی جا رہی ہو گی۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کیا کریں، کس سے کہیں۔ آپ اپنے کالم میں اس کا ذکر کریں۔

میں نے ان سے کہا، ٹھیک ہے، میں کالم میں اس مسئلے پر توجہ دلاؤں گا۔ لیکن میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا، اس بے حس ریاست، بے حس حکومت، اور بے حس حکومتی مشینری پر اس کا کیا اثر ہو گا۔ اس کالم کو اربابِ اختیار میں سے کون پڑھے گا، اور کون ان مسئلوں پر توجہ دے گا۔ پاکستان میں کتنی ہی آبادیاں اور علاقے ہوں گے، جہاں اخلاق دشمن، قانون دشمن، اوباش اور بد معاش دندناتے پھر رہے ہوں گے۔ انھوں نے عام شہریوں کی زندگی کو بے بسی کی تصویر بنا دیا ہو گا۔ مگر ریاست غائب ہو گی۔ پولیس، عام شہریوں کو تحفظ نہیں دیتی، اور خود اوباش لوگوں کے ساتھ مل جاتی ہے، اور عام لوگوں کی دشمن بن جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پولیس عام لوگوں کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ یہ اس لحاظ سے عام شہریوں کے لیے خطرناک دشمن ثابت ہوتی ہے کہ اسے ریاست اور قانون کی سرپرستی حاصل ہے۔ بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ پاکستان کی ریاست، پاکستان کی حکومت، عام شہریوں کی سب سے بڑی دشمن کا کردار ادا کر رہی ہیں۔

جہاں تک دوسرے معاملے کی بات ہے، حقیقت یہ ہے کہ ریاست ہی اس بات کی ذمے دار ہے کہ شہریوں کو صاف ستھرا ماحول مہیا کرے۔ اس ضمن میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ریاست یہ کام قوانین، اور قواعد و ضوابط تشکیل دے کر کرتی ہے۔ پھر ان قوانین اور قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کروانے کے لیے ادارے قائم کرتی ہے۔ توجہاں تک رہائشی علاقوں میں بھٹیوں، فیکٹریوں کی موجودگی کا تعلق ہے، تو اس حوالے سے قواعد و ضوابط موجود ہیں۔ ان پر عمل درآمد کروانے کے لیے ادارے بھی موجود ہیں۔ اور ان اداروں میں افسراور اہلکار بھی موجود ہوں گے۔ ان سب کو شہریوں کے ٹیکس کے پیسے سے تنخواہیں اور مراعات بھی مل رہی ہوں گی۔ لیکن یہ بات بس یہیں ختم ہوجاتی ہے۔ ہرادارہ، جس مقصد کے لیے قائم کیا گیا ہے ، اس مقصد کے حصول کے لیے کچھ نہیں کر رہا۔ بلکہ اس مقصد کے مخالف کام کر رہا ہے۔ صحت مندانہ ماحول کے استقرار کے لیے، جو ادارے موجود ہیں، وہ ماحول دشمن کاروباروں اور افراد سے رشوت لے رہے ہوں گے، اور اس مقصد کے خلاف کام کر رہے ہوں گے، جس کے لیے انھیں ملازم رکھا گیا ہے۔ بالکل اسی طرح، جیسے صفائی کے ادارے ہیں۔ یہ نہیں کہ صفائی سے متعلق ادارے موجود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ادارے صفائی کے خلاف کام کر رہے ہوں گے۔

اس بات کو ذرا بڑھا کر دیکھیں تو پاکستان کی ریاست کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ یہ ریاست، جس مقصد کی خاطر قائم ہوئی، اس کے برعکس کام کر رہی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ: آوے کا آوہ ہی بگڑا ہوا ہے، محاورہ پاکستان کے لیے بنا ہے۔ جیسا کہ میں نے اکثر اپنے کالموں میں ذکر کیا ہے کہ ریاست کا اولین فریضہ اپنے شہریوں کی جان اور مال کی حفاظت کرنا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ چیز بھی جڑی ہوئی ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کے لیے ان کی آزادی اور ان کے حقوق کی دستیابی کو بھی ممکن بنائے۔ مگر، پاکستان کی ریاست شروع سے ان بنیادی ذمے داریوں سے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتی آ رہی ہے۔ روزانہ کراچی سے لے کر پشاور تک، عام لوگ دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں اپنے مال اور اپنی جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ ریاستی مشینری کے ہاتھوں سینکڑوں قسم کے مسائل میں الجھائے جا رہے ہیں۔ پولیس کے ہاتھوں لوٹے جار ہے ہیں۔ لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ایک عام شہری، جو بے حیثیت ہے، تہی دامن ہے، بے مایہ ہے، وہ پاکستان میں بے چارگی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ یا اگراس نے محنت کر کے، یا دیانت داری کے ساتھ محنت کر کے کچھ کمایا بنایا ہے، اور کچھ نہ کچھ خوش پوش اور خوش حال ہو گیا ہے، مگر پھر بھی وہ ایک عام شہری ہے، تو پاکستان اس کے لیے نہیں۔ یہاں، اس کے مقدر میں بے چارگی کے سوا کچھ نہیں!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *