سیاست کی سماجی جڑیں

سیاسی قضیے: [25 ستمبر، 2018]

ترقی یافتہ ملکوں کی سیاست، بالعموم، درپیش معاملات پر مرتکزکیوں ہوتی ہے؟ جیسے کہ ٹیکس کے معاملات؛ لوگوں کی زندگیوں پر حکومت کا کنٹرول؛ وغیرہ۔

ترقی پذیر و پسماندہ ملکوں کی سیاست، بالعموم، درپیش معاملات کے بجائے غیرضروری اور فروعی معاملات پر مرتکز کیوں ہوتی ہے؟ جیسے کہ جیالا، لیگیا، انصافیا، وغیرہ، ہونا؛ شخصیت پسندی؛ وغیرہ۔

اس ضمن میں، میں اس رائے پر پہنچا ہوں کہ ترقی پذیر و پسماندہ ممالک کی سیاست کا تعین  زیادہ تر ان کی سماجیات سے ہوتا ہے۔ یعنی سماجیات سے متعلق معاملات، سیاسیات سے متعلق معاملات کو نہ صرف متاثر کرتے ہیں، بلکہ بڑی حد تک ان کا تعین بھی کرتے ہیں۔

جیسے کہ ایک معاشرے کی سماجی زندگی اگر ابھی افراد کے مابین، ناپسندیدگی، امتیاز، بغض، کینہ، جلن، حسد، رقابت، کراہت، نفرت، دشمنی، انتقام، غصے، ’’شریکا‘‘، اشتعال، ظلم، سادیت، مساکیت، وغیرہ، سے عبارت ہے، تو یہ چیزیں سیاست کا چلن بھی ہوں گی۔ یہ چیزیں ایک پسماندہ معاشرے کی نشانی سمجھی جا سکتی ہیں۔

لیکن ہمارے معاشرے میں صرف یہی کچھ تو نہیں۔ کچھ خوبیاں اور اچھائیاں بھی تو ہوں گی۔ جی، بالکل ہیں۔ ہمدردی، باہمی تعاون، وغیرہ۔ مگر اس بات سے کم لوگ ہی اختلاف کریں گے کہ جنھیں ’’سماجی برائیاں‘‘ کہا جا سکتا ہے اور جن کا اوپر ذکر ہوا، ان کا پلڑا بھاری ہے۔ میں انھیں، غیرجانب دارانہ انداز میں، ’’سماجی صفات‘‘ کا نام دینا چاہوں گا۔

اصل میں گذشتہ کچھ عرصے سے مجھے یہ چیز پریشان کرتی رہی ہے کہ پاکستانی لوگ سیاست میں اس قدر ’’منتقم مزاج‘‘  کیوں ہیں۔ حتیٰ کہ وہ کسی سیاسی شخصیت کے ’’ذاتی دشمن‘‘ بن بیٹھتے ہیں۔ اور آخرِکار انتقام کی یہ آگ ’’بیلٹ باکس‘‘ تک پہنچ جاتی ہے۔

یہی وہ سوال ہے جس کے جواب کی تلاش، اس نظریے پر منتج ہوئی کہ ’’سماجی صفات‘‘ سیاست پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ کیونکہ دوسرے افراد کے ساتھ ہم جس طرح پیش آتے ہیں، سیاسی شخصیات کے ساتھ بھی ہم اسی طرح پیش آتے ہیں۔

جہاں تک سیاسی جماعتوں کا تعلق ہے، تو وہ بھی اسی چیز کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔ بجائے اس کے کہ وہ لوگوں کی سیاسی تعلیم و تربیت پر توانائی صرف کریں، اورانھیں سیاسی و معاشی معاملات پر مجتمع کریں، وہ انھیں اسی دلدل میں پھنسائے رکھتی ہیں۔ وہ بھی اسی زبان میں گفتگو کرتی ہیں، جس زبان میں لوگ سماجی معاملات میں الجھے ہوتے ہیں۔ مثلاً شیر، یا تیر، یا بَلے نے یہ کر دیا، یا وہ کر دیا۔ وغیرہ۔

یا جیسے کہ اب نواز شریف کی سزا کی معطلی اور ضمانت پر جس قسم کے تاثرات سوشل میڈیا پر جگہ پا رہے ہیں۔

کچھ برس قبل جب ہلری کلنٹن پاکستان آئی تھیں تو لاہور میں ان کی ملاقات اشراف خواتین سے کروائی گئی تھی۔ اس میں ایک خاتون نے یہ سوال کیا تھا: امریکہ، پاکستان کے ساتھ ساس کی طرح کا سلوک کیوں کرتا ہے؟

اس نظریے کو یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ اصل اور ضروری معاملات اسی لیے ہماری سیاست میں رواج نہیں پاتے کیوںکہ بیشتر لوگوں کی سوچ اور عمل، سماجیات کے انھی سانچوں میں ڈھلا ہوا ہے۔ وہ سیاست کے بارے میں بھی اسی انداز میں سوچتے ہیں۔

تو پھر کیا کیا جائے؟

اگر پاکستان میں سیاست کا تعین انھی سماجی تعلقاتی سانچوں کے ذریعے ہوتا ہے، تو پھر کیا کیا جائے۔ اسے کیسے تبدیل کیا جائے۔ یہ سوال مشکل اور پیچیدہ ہے۔

مگر ذمے داری کا تعین کیا جائے، یعنی یہ کہ اس معاشرتی پسماندگی کے ذمے دار کون ہیں، تو اس سوال کا جواب مل سکتا ہے۔

اول تو خود لوگ ذمے دار ہیں، کیونکہ وہ اپنے ہی مسائل کو اپنی سیاسی سمجھ بوجھ کے ساتھ جوڑنا نہیں چاہتے، یا بہت کم جوڑتے ہیں۔

دوسرا، سیاسی جماعتیں یا سیاسی اشرافیہ ذمے دار ہے، کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ اس کی سیاست اور اس کی بقا، اسی سماجی انداز میں پوشیدہ ہے۔ یہی سبب ہے کہ سیاسی اشرافیہ درپیش مسائل کو لوگوں کے سامنے نہیں رکھتی، اور کھلے بحث و مباحثے کو فروغ نہیں دیتی۔

تیسرا، میڈیا ذمے دار ہے، جو بیشتر سیاسی اشرافیہ کے مفادات کا نگہبان بنا ہوا ہے۔

ایک بہت بڑا اقدام، جو ان سماجی برائیوں کو مٹانے میں بہت اہم کردار ادا کر سکتا تھا، اور کر سکتا ہے، وہ آئین اور قانون کی حاکمیت ہے، جسے سیاسی اشرافیہ نے کبھی اپنے ایجینڈے میں شامل نہیں کیا۔ اس کے ساتھ، انصاف کی بروقت فراہمی اور امن و امان کا قیام بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔

اصل میں آئین اور قانون کی حاکمیت، انصاف کی تیزتر اور بروقت فراہمی اور امن و امان ایسی قدریں ہیں، جو معاشرے میں موجود ہر قسم کی اشرافی درجہ بندی اور اونچ نیچ کی جڑوں کو کاٹتی ہیں۔ یوں لوگوں میں یہ تصور جاگزیں ہوتا ہے کہ ریاست ان کے ساتھ یکساں سلوک کر رہی ہے۔ اس طرح، لوگوں میں معاشرتی برابری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اور آخرِکار یہ چیزیں متذکرۂ بالا سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے زمین ہموار کرتی ہیں۔

چوتھا یہ کہ خاصی ذمے داری شہری تنظیموں کے سر بھی عائد ہوتی ہے، کیونکہ ان میں سے چند ایک کو چھوڑ کر، اکثر نے حکومت کے کرنے کے کام خود سنبھال لیے ہیں۔ جبکہ انھیں اپنے اصل فریضے، یعنی حکومت کو جواب دہ اور ذمے دار بنانے پر توجہ دینی چاہیے تھی۔

پانچواں یہ کہ دانشوروں نے بھی اپنی ذمے داری پوری نہیں کی۔ انھوں نے سچائی اور اصول و اقدار کے ساتھ وابستگی کے بجائے، سیاسی وابستگی کو اولیت دی، اور اپنا گھر بھرنے میں لگے رہے۔ انھوں نے نہ صرف لوگوں کا ساتھ نہیں دیا، بلکہ لوگوں کو سیاسی اشرافیہ کے پیچھے لگائے رکھنے یا لگانے کا فریضہ نبھاتے رہے۔  خود ان کی وابستگی اصول و اقدار کے ساتھ ہونی چاہیے تھے، مگر وہ سیاسی و دیگر اشرافیہ کے دستِ نگر بنے رہے۔ انھوں نے لوگوں کی فکری تربیت اس نہج پر نہیں کی۔ وہ لوگوں کو شخصیات اور جماعتوں کے ساتھ جڑے رہنے کا سبق پڑھاتے رہے۔

سو، دریں حالات، ایک حل تو یہ ہے کہ ان ذمے داروں کو جواب دہ بنایا جائے۔

دوسرا حل یہ ہے کہ ایک نئی سیاسی جماعت وجود میں آئے، جو ان معاملات پر توجہ دے۔

تیسرا حل یہ ہے کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں، اور انتظار کریں کہ حالات کچھ ایسا رخ اخیتار کریں کہ مطلوبہ بگڑے معاملات درست ہونے لگیں۔ مگر یہ کوئی حل نہیں!

ہمیں، ہم جہاں بھی ہیں، کچھ نہ کچھ ضرور کرنا، اور کرتے رہنا چاہیے۔ یہی چھوٹی چھوٹی چیزیں مل کر کسی بڑی چیز کی ابتدا کا پیغام بن سکتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *