اب مسلمان آزاد ہیں، اب معلوم ہو جائے گا کہ سیاست، معاشرت، حکومت، قانون، تجارت میں مسلمان اہل ہیں یا نااہل۔

:عنوان

اب مسلمان آزاد ہیں، اب معلوم ہو جائے گا کہ سیاست، معاشرت، حکومت، قانون، تجارت میں مسلمان اہل ہیں یا نااہل۔

:نوٹ

میرے پاس ’ماہنامہ رسالہ روحانی عالم ریاست رام پور یوپی‘ کے کچھ شمارے محفوظ ہیں۔ میرے نانا مرزا اکبر بیگ اس کے خریدار تھے، جیسا کہ صفحہ بارہ پر پتا درج ہے: ’جناب مرزا اکبربیگ صاحب پکے کوارٹر نمبر۹ لین نمبر۶۸۲ متصل بڑے میاں کا درس لاہور۔ پوسٹ مغلپورہ‘

اس ماہنامے کے ’محررخصوصی‘ الحاج مولانا مرزا محمود علی صاحب شفق ہیں، اور ’اڈیٹر‘ مرزا واجد علی۔

جیسا کہ اس رسالے کے نام سے عیاں ہے، یہ روحانی معاملات سے تعلق رکھتا ہے، مگر دلچسپی کی بات یہ ہے کہ روحانی معاملات بعد میں آتے ہیں، اور پہلے ہی صفحے پر ’’سیاسی اور ملکی خبریں‘‘ کے تحت قارئین کو امورِ عامہ سے واقفیت مہیا کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں، اس میں ایسے معاملات بھی درج ہیں، جو سماجی و تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔

قیاس کیا جا سکتا ہے کہ انیسویں صدی کے ابتدائی نصف کے اواخر میں سیاسی معاملات میں لوگوں کی دلچسپی خاصی ترقی پر تھی۔

:اس سلسلے کی دوسری قسط ملاحظہ کیجیے

سیاسی اور ملکی خبریں: روحانی عالم ـ اگست 1947

Ruhaani Aalam August 1947

چیخنے والے چیختے رہے اور کام کرنے والے کام کرتے رہے۔ یعنی بقول ایک مدبر کے ’’کتے بھونکتے رہے قافلہ چلتا رہا یہاں تک کہ منزلِ مقصود تک پہونچ گیا۔ پاکستان بن گیا اور مسلمانوں کو من حیث القوم جداگانہ حیثیت تسلیم کر لیا گیا۔ نادان لوگ کہہ رہے (ہیں) کہ پاکستان کو ایک لکیر مل گئی تو کیا ہوا۔ مگر سوال کمی بیشی کا نہیں سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کو کانگریسی غلامی سے نجات مل گئی۔ غلامی کے ’’حلوہ‘‘ سے آزادی کی سوکھی روٹی بہتر ہے۔ یہ مسئلہ صاف ہو گیا کہ کانگریس ایک ہندو جماعت ہے۔ مسلمانوں کی سرپرستی کا اسے کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ اب مسلمان آزاد ہیں، اب معلوم ہو جائے گا اور تجربہ بتا دے گا کہ سیاست، معاشرت، حکومت، قانون، تجارت میں مسلمان اہل ہیں یا نااہل۔ اب دونوں قومیں جدا جدا ہو گئیں اور اب ہر ایک کے جوہر ذاتی سب کے سامنے آ جائیں گے۔ ۱۵ اگست کو دونوں حکومتوں کو اختیار مل جائیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی مسلمان ہندوؤں کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں یا دشمن اور ہندوستان کے ہندو مسلمانوں کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں یا غلام۔

روس، امریکہ، برطانیہ، ترکی جنگ کے دروازے پر کھڑے ہیں۔ توپوں کے دہانے کھل گئے ہیں اور سپاہی نشانوں پر بندوق تانے کھڑے ہیں۔ بس حکم کی دیر ہے۔ جب زمانۂ امن و سکون میں گرانی کا یہ عالم ہے تو زمانۂ جنگ میں کیا حال ہو گا۔ بس غریبوں کا حامی سوائے خدا کے کوئی نہیں ہے۔

نوٹ: ہز ہائی نس والی رامپور دام اقبالہم چند روز کی علالت کی وجہ سے بمبئی میں رونق افروز رہ کر بحکم شافی مطلق صحت یاب ہو کر رامپور میں تشریف فرما ہوئے۔ رعایا نے اپنے محبوب حکمراں کا بکمال عقیدت استقبال کیا اور صحت مزاج پر خدا کا شکر ادا کیا۔ ریاست میں عرصہ دراز سے اسلحہ رکھنے کی ممانعت تھی۔ اب ہز ہائی نس دام اقبالہم نے تلوار کو مستثنےٰ کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اور تلوار لازم و ملزوم تھے۔ سکھوں نے زبردستی کرپان کو اپنا مذہبی حق تسلیم کرایا اور مسلمانوں نے تلوار کو اپنا حقیقی اور مذہبی حق ترک کر دیا۔ ہم ہز ہائی نس دام اقبالہم کے ممنون ہیں کہ آپ نے اسلام کا مذہبی حق مسلمانوں کو عطا فرمایا۔ گو یہ اذن سب کے لیے عام ہے، مگر چونکہ مسلمانوں کا یہ مذہبی حق تھا اس لیے ہم سب سے زیادہ متشکر اور ممنون ہیں۔

یوـ پی اور پنجاب کے مشرقی حصہ میں جس قدر مسلمانوں کے خون کی ارزانی ہے اور جس قدر مسلمان بے گناہ ذبح کیے جا رہے ہیں اس کی مثال عہد چنگیز میں نہیں ملتی۔ خدائے قدوس پنڈت جی صاحب بہادر وزیر اعظم کے دل سے اب تو بخار نکال دے کہ بہت خون آشامی ہو چکی۔ اور وہ اس خوں ریزی کو بند کرا دیں۔

رامپور میں رویت ہلال ۲۹ شعبان سنیچر کے دن ہوئی اور پہلا روزہ اتوار کو رکھا گیا۔ رمضان المبارک ہی میں جنگ بدر فتح ہوئی جس نے اسلام کو بنیان مرصوص بنایا۔ خدائے قدوس اب پاکستان کو عروج اور اسلام اور مسلمانوں کو علی الرغم میدان ترقی عطا فرمائے۔ آمین، شفق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *