اتحادی سیاست – خرابی کہاں‌ ہے

سیاسی قضیے: 7 اگست، 2018

اصول یہ ہے کہ حکومت شفاف طریقے سے چلنی چاہیے۔

اصول یہ بھی ہے کہ حکومت شفاف طریقے سے بننی چاہیے۔

پارلیمانی نظام میں انتخابات کے بعد حکومت کی تشکیل کے لیے بالعموم جیتنے والی سیاسی جماعتوں اور دوسرے گروہوں کے ساتھ اتحاد بنانا اور آزاد ارکان کا کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا یا ان کی حمایت کرنا، معمول کی بات ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کو اتنی تعداد میں نشستیں دستیاب ہو جائیں کہ حکومت بنانے کے لیے اسے کسی دوسرے فریق کی ضرورت نہ پڑے۔

یہی کچھ اب تحریکِ انصاف بھی کر رہی ہے، اور دوسری جماعتیں بھی اپنی سی کوشش میں لگی ہیں۔ خود اس عمل میں کچھ برائی یا خرابی نہیں۔ یہ اچنبھا ضرور ہے کہ خود تحریکِ انصاف اس عمل کو برا قرار دیتی رہی ہے، اور جب خود اسے یہ عمل کرنا پڑا ہے، تو وہ درست قرار پا گیا ہے۔

ہاں، سیاسی اتحاد میں اگر کچھ برائی یا خرابی ہے، تو اول تو اس انداز میں ہے، جو اس عمل میں اختیار کیا جاتا ہے۔ میرا اشارہ ’’چھانگا مانگا‘‘ انداز کی طرف ہے؛ یعنی آزاد ارکان کو قابو میں لانا اور انھیں چھپا کر رکھنا، اور ان کی حرکت اور میل جول پر پابندی یا نظر رکھنا، کہ کوئی اور انھیں اچک کر نہ لے جائے۔

دیکھنے میں تو اس خرابی کے ذمے دار خود آزاد ارکان ہیں، جو ’’بکاؤ مال‘‘ کی طرح دستیاب شے بن جاتے ہیں۔ جبکہ انھیں علیٰ الاعلان اپنی ترجیحات سب کے سامنے رکھنی چاہییں، جن پر وہ کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کریں گے یا اس کی حمایت کریں گے۔ جیسے خیبرپختونخوا سے دو منتخب ارکان، محسن داوڑ اور علی وزیر نے کیا ہے۔

مگر آزاد ارکان کی بڑی کھیپ ایسی نہیں۔ بلکہ چھوٹی سیاسی جماعتوں کا بھی یہی حال ہے۔

بہرحال، دوسری برائی یا خرابی، خود یہ لین دین یا سودے بازی ہے، جو آزاد ارکان اس سیاسی جماعت کے ساتھ کرتے ہیں، یا وہ سیاسی جماعت ان آزاد ارکان کے ساتھ کرتی ہے۔ یہ سودے بازی بالعموم خفیہ ہوتی ہے۔ یعنی اس ’’سودے‘‘ کو ظاہر نہیں کیا جاتا۔

جیسا کہ ابھی تحریکِ انصاف نے ایم کیو یم کے ساتھ اتحاد بنایا ہے، اور دونوں نے ایک معاہدے پر اتفاق کیا ہے، جس کی شرائط اخبارات میں شائع ہوئی ہیں۔ لیکن کیا یہی شرائط طے ہوئی ہیں، اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ کیونکہ ایسے سیاسی اتحادوں میں جو لین دین ہوتا ہے، عام طور پر اسے پوشیدہ رکھا جاتا ہے۔ یہی خرابی ہے اتحادی سیاست میں۔

جہاں تک آزاد ارکان کا معاملہ ہے، تحریکِ انصاف نے ان کے ساتھ، یا انھوں نے تحریکِ انصاف کے ساتھ کیا معاہدہ کیا، ان میں سے کسی ایک ’’سودے‘‘ کی تفصیلات اخبارات کی زینت نہیں بنیں۔ یہی خرابی ہے آزاد ارکان کی سیاست میں۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ دیانت داری کے ساتھ جن شرائط پر بھی اتفاقِ رائے ہوتا ہے، انھیں من و عن شہریوں اور ووٹروں کے سامنے رکھا جائے، جنھوں نے اس سیاسی جماعت کو اور ان آزاد ارکان کو اپنا نمائندہ بنا کر پارلیمان میں بھیجا ہے۔ مگر قریب قرب سو فی صد صورتوں میں ایسا نہیں ہوتا۔

اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی ’’سودا‘‘ ہوا ہے، وہ اس قابل نہیں کہ اسے سب کے سامنے رکھا جائے۔ دوسرے الفاظ میں کہ کہ یہ سودا، غیراخلاقی، یا غیرقانونی اور غیرآئینی ہے۔ یہی خرابی ہے اتحادی سیاست میں۔

:حل کیا ہے

اس خرابی کا ایک حل تو یہ ہو سکتا ہے کہ اتحاد کے ضمن میں سیاسی جماعتیں اپنی ترجیحات پہلے ہی بیان کر دیں کہ ان کی حمایت کن شرائط سے جڑی ہو گی۔ اسی طرح، آزاد ارکان بھی اپنی ترجیحات کو پہلے ہی ظاہر کر دیں کہ وہ کن شرائط پر کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کریں گے یا اس کی حمایت کریں گے۔

دوسرا حل یہ ہو سکتا ہے کہ اگر سیاسی جماعتیں اور آزاد ارکان اپنے لیے خود کوئی ضابطہ نہیں بناتے، تو پھر اس چیز کو انتخابی قوانین کا حصہ بنا دیا جائے۔ جیسے کہ آزاد ارکان کے لیے یہ ضابطہ موجود ہے کہ انھیں منتخب ہونے والے ارکان کے باضابطہ اعلان کے بعد تین دنوں کے اندر اندر کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ہو گی۔

یقیناً جب یہ ضابطہ بن جائے گا کہ سیاسی جماعتیں یا گروہ اور آزاد ارکان، جس سیاسی اتحاد میں شامل ہوتے ہیں، اور جن شرائط پر کسی معاہدے پر دستخط کرتے ہیں، انھیں وہ معاہدہ الیکشن کمیشن کے پاس جمع کروانا ہو گا، اوریہ کہ اس معاہدے سے انحراف کی صورت میں ضروری عدالتی عمل کے بعد انھیں سزا یا ہرجانہ کیا جا سکے گا۔

اس استدلال کا حاصل سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں سے یہ استدعا ہو گی کہ سیاسی اتحاد ضرور بنائیں، مگر اس میں شفافیت لائیں اور اسے ووٹروں اور شہریوں کے سامنے رکھیں۔

اور بہتر یہ ہو گا کہ اپنا احتساب اپنے ہاتھ میں رکھیں، اسے کسی دوسرے، جیسے کہ الیکشن کمیشن، عدالتوں، وغیرہ، کے ہاتھ میں نہ دیں۔ آپ کی آزادی اسی چیز میں پوشیدہ ہے کہ آپ خود ذمے دار بنیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *