!میں‌ خود سے شرمندہ ہوں

سیاسی قضیے: یکم جولائی، 2018

میں ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوا، جو سراسر بے مایہ تھا۔

تربیت، دیانت داری کے چلن پر ہوئی۔ کسی کو برا نہیں کہنا۔ کسی کو دھوکہ نہیں دینا۔ کسی کو نقصان نہیں پہنچانا۔

یہ اخلاقی باتیں اچھی بھی لگیں۔ کوشش کی زندگی ان کے مطابق گزاروں۔

وہ دنیا ایک عجیب دنیا تھی، بھَری پُری۔ دلچسپیاں ہی دلچسپیاں، اطمینان ہی اطمینان۔ کوئی محرومی نہیں۔

پھر شعور نے آنکھ کھولی۔ اپنی چھوٹی سی دنیا سے باہر نکلا۔ بہت کچھ دیکھا اور سمجھا۔

پہلا فکری سانچہ، جس کی تعلیم ان دنوں میسر تھی اور جو مجھے بھی منتقل ہوئی، اس کی صورت گری ’’سوشلزم‘‘ سے ہوئی تھی۔

اب محرومیوں نے ہر طرف سے گھیر لیا۔ ہر محرومی، استحصال کا نتیجہ تھی۔

مگر میں رکنے والا نہیں تھا۔ سوشلسٹ سے آگے بڑھ کر، مارکس پسند بن گیا۔

پھر تعلیم ختم ہوتے ہوتے، یہ سب کچھ ہوَا ہو گیا، نہ سوشلزم تھا، نہ مارکس تھا۔

جب عقل کے گھوڑے نے دوڑنا شروع کیا، تو اسے تھامنا ممکن نہیں رہا۔

جو کچھ باقی رہا، باقی بچا، وہ یہ تصور تھا کہ معاشرے کی تشکیلِ نو ضروری ہے۔ اس کے اصول کیا ہوں گے، اور یہ کہ یہ اصول عقل کی رہنمائی میں طے ہوں گے، اب توجہ ان چیزوں پر مرکوز ہو گئی۔

یہی وہ تحصیل تھی، جس نے سیاست کے ساتھ جوڑ دیا۔ یہی وہ طریقہ ہے، جس سے معاشرے کو تبیدل کیا جا سکتا ہے۔

پہلے بائیں بازو کی عملی سیاست میں حصہ لیا۔ پھر اس سے دامن چھڑا لیا۔

دیکھا کیا۔ ہر قدم پراخلاقیات کو رگیدا جاتا، کچلا جاتا۔ تشدد کو روا سمجھا جاتا۔

سیکھا کیا۔ اخلاقیات ہمراہ ہو گی، تو سمت درست رہے گی۔ اگر ایک کےلیے تشدد درست ہوا، تو سب کے لیے درست ہو جائے گا۔

ساتھ ساتھ، پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی دل لگا ہوا تھا۔ وہی بائیں بازو والا چسکا تھا اس میں۔ مگر اتنی بیتابی کبھی نہیں ہوئی کہ باقاعدہ رکن بن جاؤں۔

پھر یہ تعلق ٹوٹا، اور ایک جھوٹ اور دھوکے سے جان چھوٹی۔

ایک نیا تعلق مسلم لیگ ن سے بنا۔ سبب یہ تھا کہ چلو یہ کاروبار کو آزادی تو دیتے ہیں، اور یوں دولت کی تخلیق اور لوگوں کے لیے خوش حالی کے راستوں کو بھی کھولتے ہیں۔

مگر یہ تعلق اس شعور نے ختم کر دیا کہ جو کچھ ہونا ضروری ہے، وہ نہیں ہو رہا۔ سات دہائیاں گزر گئیں، یہ سب کچھ پھر کب ہو گا۔

اب کوئی تعلق باقی نہ رہا۔ ہاں، اپنے اصولوں اور اقدار اور ایک نئی دنیا کے تصور کے ساتھ خونی رشتہ ضرور بنا اور اب بھی موجود ہے۔ اور یہ مر کر ہی ختم ہو گا۔

:مایوسی اور بےبسی

یہ ستمبر 2008 کی بات ہے، جب ایک اور ادراک ہوا اور اس نے زندگی میں مایوسی اور بےبسی کو حاوی کر دیا۔

میں پاکستان سے دور، اپنے ایک دوست کے پاس ٹھہرا ہوا تھا، امریکہ میں۔

شام کا وقت تھا اور ہم خبریں دیکھ رہے تھے۔ مسٹر ٹین پرسینٹ نے صدرِپاکستان کا حلف اٹھا لیا۔

دوست نے میرے لتے لینے شروع کر دیے۔ ان کی لعن طعن رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔

یہ ہے تمہارا ملک۔ اب ایسے لوگ تمہارے صدر بنیں گے۔ شرم کرو۔

تمہارے اوپر ایسے ایسے لوگوں کو مسلط کیا جائے گا کہ تم مایوسی اور شرمندگی میں ڈوب کر رہ جاؤ گے۔

میں شرمندہ بھی تھا۔ اور ہاں، مایوسی اور بے بسی بھی میرے دل اور ذہن میں گھر کرتی جا رہی تھی۔

میں سوچ رہا تھا۔

پاکستان کے ابتدائی چند برسوں کو چھوڑ کر، اس کے بعد آنے والے اشخاص اگر بددیانت، بدعنوان اور دھوکے باز نہیں، بدنام اور موقع پرست ضرور تھے۔ اور اب تو ایسا بھی نہیں رہا۔

اخلاقیت کی بات تو علاحدہ رہی، اب کے سیاست دان خود اپنے بنائے ہوئے آئین اور قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہیں اور انھیں سرِعام پامال کرتے ہیں۔

ہاں، یہ یہی سیاست دان ہیں، جنھوں نے اخلاقیات کے بھی اور آئین و قانون کے بھی، ایسے معیار وضع کیے کہ جو فرد جس سیاسی شخصیت کے ساتھ وابستگی رکھتا ہے، وہ حقائق کو ٹھکرا کر اس شخصیت کو اخلاقیات اور آئین و قانون کی پیروی کرنے والا دیوتا قرار دے دیتا ہے۔ وہ اپنے ’’رہنما‘‘ کو مجسم اخلاقیات، مجسم آئین اور مجسم قانون سجھنے لگتا ہے، جبکہ وہ ان سب چیزوں سے انحراف کا مجسمہ ہی کیوں نہ ہو۔

مگر یہ بھی تو کسی حد تک سچ ہے کہ کوئی فرد کسی وجہ کے بغیر تو بدنام نہیں ہو جاتا۔ کھرے کو کھوٹا ثابت کرنا اتنا آسان نہیں۔

پھر یہ بھی کہ کسی عدالت کے کہہ دینے سے کوئی دیانت دار تو نہیں بن جاتا۔

ریاست اور حکومت کے منتخب اور غیرمنتخب اشخاص پر نظر ڈالیں، بددیانت اور دھوکے باز اور موقع پرست قطار اندر قطار کھڑے آئیں گے۔

ہاں، ایسے کسی شخص کا نام ڈھونڈنا مشکل ہو گا، جو اس قطار سے باہر کھڑا ہو۔

میں سوچتا ہوں۔

ایسے اشخاص کا اس طرح کے بڑے ریاستی عہدوں پر براجمان ہونا ہمیں کیا پیغام دیتا ہے۔ یہی نا کہ دیانت داری (یعنی اخلاقیات) نظر کا فریب ہے، اور ہم جیسے بےمایہ لوگوں کے لیے تسلی کا سامان۔

فرض کریں ایسے اشخاص مسلط کیے جاتے ہیں، یا اجازت دینے والے، انھیں قبول کرتے ہیں، تب ہی یہ مسلط ہوتے ہیں۔ تو یہ لوگ، ہم بےبسوں کو کیا بتانا چاہتے ہیں۔

چلیں ایسا نہیں۔ یہ پاکستان کے سیاست دان ہی ایسے ہیں، خواہ وہ حزبِ اقتدار کی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہوں، یا حزبِ اختلاف کی جماعتوں سے، یا مذہب کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتوں سے، جو ایسے اشخاص کو صدر، یا وزیرِاعظم، یا دوسرے بڑے ریاستی عہدوں پر قبول کر لیتے ہیں۔

پھر یہ خیال بھی آیا، کیسے اشخاص؟

یعنی ایک طرف، بدعنوان، بد دیانت، دھوکے باز۔ اور دوسری طرف، بدنام، موقع پرست، اس طرح کے اشخاص۔

یعنی ایک طرف، آئین و قانون کے دشمن، اور دوسری طرف، اخلاقیات کے دشمن۔

مگر یہ کس نے ثابت کر دیا کہ بڑے ریاستی عہدوں پر فائز ہونے والے، جیسے کہ صدر، وزیرِاعظم، وزیر، مشیر، وغیرہ، بننے والے اشخاص، سب کے سب، بدعنوان، بددیانت، اور دھوکے باز ہوتے ہیں۔

لیکن ان کی اکثریت بدنام اور موقع پرست تو ضرور ہوتی ہے۔

تو یہ کون ثابت کرے گا یہ اشخاص، بدعنوان، بددیانت اور دھوکے باز ہیں۔ یہ کام تو عدالتوں کا ہی ہے نا۔

مگر یہ عدالتیں بھی تو انھی بدنام اور موقع پرست اشخاص کی بنائی ہوئی ہیں۔ آج یہ ایک گروہ کے خلاف استعمال ہوتی ہیں، تو کل دوسرے گروہ کے خلاف۔

اور یوں کسی کی بھی بدعنوانی، بددیانتی اور دھوکےبازی ثابت نہیں ہو پاتی۔

اس کا مطلب ہے کہ جب تک دیانت اور انصاف کا چہرہ داغ دار رہے گا، یہ اشخاص ’’معصوم‘‘ بنے رہیں گے۔

ہاں، بدنامی تو ان کا مقدر ہے نا۔

مگر اس سے کیا ہوتا ہے۔

اس سے ہم لوگوں کو یہ پیغام ملتا ہے کہ یہ سیاست اور یہ ریاست، اور یہ معاشرہ، ایسے اشخاص کے لیے ہی ہے۔ دیانت داروں کے لیے نہیں۔ قانون کی پابندی کرنے والوں کے لیے نہیں۔

اب آج پھر مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ میں پاکستان سے کہیں دور، اسی دوست کے پاس بیٹھا، خبریں دیکھ رہا ہوں۔ پلے بوائے کرکٹر کے بارے میں۔ اور اسی طرح کے دوسرے لوگوں کے بارے میں۔

لکیر کے دونوں جانب، بس ایسے ہی لوگوں کی نمائش جاری ہے۔

سیاست ایک دلدل میں پھنسی ہوئی ہے۔

بدعنوان، بددیانت اور دھوکے باز۔ موقع پرست اور بدنام۔

جبکہ اخلاقیات کہیں بہت پیچھے دھول چاٹ رہی ہے۔

آئین اور قانون کی روح کہیں پڑی تڑپ رہی ہے۔

مایوسی اور بےبسی کی دھند ایک مربتہ پھر مجھ پر حاوی ہو رہی ہے۔

!میں خود سے شرمندہ ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *