نواز شریف کیا کرنا چاہتے ہیں، انھیں صاف صاف بتانا ہو گا

سیاسی قضیے:17  جولائی، 2018

نواز شریف 1999 کے مارشل لا کے بعد جس مقام پر پہنچے تھے، آج ایک مرتبہ پھر مارشل لا کے بغیر اسی مقام پر پہنچ چکے ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ لوگ سزا سے بچنے کے لیے پاکستان سے بھاگ جاتے ہیں، اور نواز شریف خود بھی ایسا کر چکے ہیں، مگر اس مرتبہ وہ سزا بھگتانے کے لیے پاکستان آئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے وہ کچھ عزائم رکھتے ہیں۔

ان سے متعلق ایک اور بات کہی جا رہی ہے کہ ان کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں، لہٰذا، وہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

یہ سب باتیں اپنی جگہ درست ہوں گی۔ مگر میرے تحفظات، مجھے ان باتوں پر یقین نہیں کرنے دیتے۔ میرا موقف یہ ہے کہ نواز شریف کو کھل کر بتانا چاہیے کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں، اور کیسے کرنا چاہتے ہیں۔ انھیں اپنا ایجینڈا واضح طور پر سب کے سامنے رکھنا ہو گا۔

مجھے ان سب لوگوں سے اختلاف ہے، جو مفروضہ طور پر یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ نواز شریف سویلین بالادستی کی جنگ لڑنے کے لیے پاکستان آئے ہیں۔ متعدد لوگ اسی مفروضے پر سنجیدگی سے لکھ رہے ہیں، اورسنجیدگی سے یہی سمجھ رہے ہیں کہ نواز شریف ایک مرتبہ پھر سویلین بالادستی کے علم بردار بن گئے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں بھی نواز شریف کی سیاست سے متعلق ایسے ہی مفروضات بنائے گئے، مگر عملاً کچھ اور ہوا۔ لہٰذا، ضروری ہے کہ اب ایسے کسی مفروضے پر یقین نہ کیا جائے، اور نواز شریف سے ان کے ایجینڈے اور راہِ عمل کے بارے میں سوال کیا جائے۔

اگر ان کے پاس اس کا کوئی واضح جواب موجود ہے، تو پھر ان پر اعتبار کیا جا سکتا ہے؛ وگرنہ انھیں اسی اقتداری سیاست کے خانے میں رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ مراد یہ کہ ان کا مقصد وہی اقتداری سیاست ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ سیاست دان جب تک حکومت میں ہوتے ہیں، انھیں کچھ یاد نہیں آتا۔ جیسے ہی وہ اقتدار سے باہر آتے، یا کیے جاتے ہیں، انھیں وہ سب کچھ یاد آنے لگتا ہے، جو کچھ آج کل نواز شریف کو یاد آ رہا ہے۔

جب سے نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا ہے، تب سے ہی وہ ’’ووٹ کوعزت دو، ووٹ کو عزت دو‘‘ کی تکرار کر رہے ہیں۔ اس سے متعلق میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں: ووٹ کو عزت دو، یا ووٹر کو عزت دو۔

نواز شریف بہت سے سوال بھی اٹھا رہے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے، ایسا کون کرتا ہے۔ وغیرہ، وغیرہ۔ جب وہ وزیرِاعظم تھے، تو انھیں کوئی سوال یاد نہیں آتا تھا۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ تب تو انھیں غیرملکی دوروں سے فرصت نہیں ملتی تھی۔

آج کل جب میں صحافیوں کے ساتھ ان کی گفتگو اور ان کی تقریریں سنتا ہوں، اور ان کے بیانات پڑھتا ہوں، تو جو سوال وہ اٹھا رہے ہیں، میرا دل چاہتا ہے، یہی سوال میں ان سے پوچھوں۔ مگر میرے جیسے بہت لوگ یہ سوال پہلے بھی اٹھاتے رہے ہیں، مگر نواز شریف نے کبھی ان پر توجہ دینا گوارا نہیں کیا۔

:مثال کے طور پر، انھوں نے لنڈن میں 11 جولائی کو جو پریس کانفرینس کی، اس میں انھوں نے یہ سوالات اٹھائے۔ انھوں نے کہا

ووٹ کو عزت دو کا مقصد یہی ہے کہ عوام کی حاکمیت قائم ہو، ان کی رائے کو اہمیت دی جائے، ان کو بھیڑ بکریاں نہ سمجھا جائے، ان کو جہاں چاہو جب چاہو ہانک دیا جائے، یہ منظور نہیں۔

میں بھی نواز شریف سے یہی سوال پوچھتا ہوں کہ آیا انھوں نے اپنے دورِحکومت میں ووٹ کو ذرا سی بھی عزت دی۔ کیا انھیں اس وقت عوام کی حاکمیت کا خیال آیا۔ کیا انھوں نے عوام کو بھیڑ بکریاں نہیں سمجھا۔ کیا انھوں نے عوام کو ہانکا نہیں لگایا۔ کیا وہ ان سوالوں کا جواب دیں گے۔

:نواز شریف نے یہ سوال بھی پوچھا

کس قدر ظلم ہے کہ ستر سالوں سے عوام کے ووٹ کی توہین کی جا رہی ہے۔ ان کی رائے کو پاؤں تلے کچلا جا رہا ہے۔ حکومت کسی کی ہوتی ہے، حکمرانی کوئی اور کرتا ہے۔ اختیار کسی کا ہوتا ہے، اور پالیسیاں کوئی اور بناتا ہے۔ فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔ صفائیاں سیاست دانوں کو پیش کرنا پڑتی ہیں۔

تو بات یہ ہے کہ میں بھی نواز شریف سے یہی سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ ستر سالوں سے عوام کے ووٹ کی جو توہین کی جا رہی ہے، اور ان کی رائے کو پاؤں تلے کچلا جا رہا ہے ، کیا انھوں نے اس کے سدِ باب کے لیے کچھ کیا۔

نواز شریف کہتے ہیں کہ حکومت کسی کی ہوتی ہے، اور حکمرانی کوئی اور کرتا ہے۔ تو آپ نے اس کے ضمن میں کیا کیا۔ لوگوں نے اپنے ووٹ کے ذریعے حکمرانی کا اختیار آپ کو دیا، مگر آپ اس اختیار کی حفاظت نہیں کر سکے، اس کا احترام نہیں کر سکے۔ آپ نے کسی اور کو حکمرانی کرنے دی۔

نواز شریف کہتے ہیں کہ اختیار کسی کا ہوتا ہے، اور پالیسیاں کوئی اور بناتا ہے، فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔ تو نواز شریف کو بتانا ہوگا کہ جب وہ ریاست کے سب سے بڑے عہدے دار تھے، تو انھوں نے اپنے اختیار کو استعمال کیوں نہیں کیا۔ اس اختیار میں کسی اور کو شریک کیوں بنایا۔ آپ نے دوسروں کی صفائیاں کیوں پیش کیں۔ آپ بھی مجرم ہیں۔ اتنے ہی بڑے مجرم، جتنا بڑا مجرم کوئی اور ہے۔ آپ پاکستان کے شہریوں کے مجرم ہیں، کیونکہ آپ نے ان کے دیے ہوئے اختیار کی حفاظت نہیں کی، اور اس میں دوسروں کو شریک بنایا۔

:پھر نواز شریف کہتے ہیں

کبھی ہم سٹیٹ وداِن دا سٹیٹ کی بات کرتے تھے، یعنی ریاست کے اندر ایک ریاست، ریاست کے اندر ایک اور ریاست۔ اب معاملہ سٹیٹ ایبوَ دا سٹیٹ تک آن پہنچا ہے، یعنی ریاست کے اوپر ایک اور ریاست۔

محترم نواز شریف، میں بھی آپ سے یہی سوال پوچھتا ہوں، ستر برس ہو گئے ہیں، آپ تین مرتبہ وزیرِاعظم بنے، مگر آپ نے اس ریاست کے اندر ریاست یا ریاست کے اوپر ریاست کے خاتمے کے لیے کیا کیا۔

کیا آپ وزیرِاعظم بن کر یہ سب کچھ بھول نہیں جاتے رہے۔ کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ آپ آج بھی غلط ہیں، اور آپ اس وقت بھی غلط تھے، جب آپ حکومت میں براجمان تھے۔ کیا آپ نے حکومت میں رہتے ہوئے، کبھی اس ریاست کے اندر ریاست سے متعلق شہریوں کو اعتماد میں لیا۔ مگر حکومت کا نشہ تو آپ کو یہ سب کچھ بھلا دیتا ہے۔

یہی وہ بےاعتباری ہے، جومجھے اپنی طرف سے تراشے گئے مفروضوں پر یقین کرنے سے روکتی ہے۔ اس مرتبہ میں کوئی مفروضے پالنے کے حق میں نہیں۔ ضروری ہے کہ نواز شریف ایک چارٹر تیار کریں، اور اس میں واضح طور پر اپنا ایجینڈا بیان کریں، اور وہ اس ایجینڈے پر عمل درآمد کیسے کریں گے، اس کی تفصیل بھی درج کریں۔ پھر شہریوں کے ساتھ اور ان کے سامنے یہ عہد کریں کہ وہ اس چارٹر پر من و عن عمل کریں گے۔

اگرچہ انتخابات میں سات آٹھ روز باقی ہیں، مگر عیاں ہے کہ جو اور جیسی بھی کٹھ پتلی حکومت بنے گی، وہ زیادہ دن زندہ نہیں رہ پائے گی، لہٰذا، اس چارٹر کی تیاری کے لیے آپ کے پاس وافر وقت موجود ہے۔ یہ چارٹر تیار کریں اور شہریوں کو بتائیں کہ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں اور کیسے کرنا چاہتے ہیں۔ بصورتِ دیگر، آپ پر مزید اعتبار کرنا مشکل ہو گا۔

4 thoughts on “نواز شریف کیا کرنا چاہتے ہیں، انھیں صاف صاف بتانا ہو گا”

  1. Absolutely rite ..ur all doubts. Are doubts of a cautious mind. NS was only PM who had the majority that he could have addressed well in time of the doubts which u mentioned. .he could have bravely resigned
    Whenever he noticed that there is going to be state above the state and takes that matter to public..but as everyone he and his party spent billions to takes the power so it’s impossible for them to leave the seat on PRINCIPLES. .they will never do ..now their focus is to re gain power and OVER RULE all the judgements against them and to save their real estate empire after that if have some time they ll think about..

    KON HAY..KAHAN REHTA HAY..KESAY KERTA HAY..KON HOTA HAY KERNAY WALA..

  2. Khalil sahib
    Good Qns raised for NS…..
    But u seems trying to become “”Saada””
    Avoinding to define any thing ….rather highly conscious & careful …ok n drawing
    conclusions ….
    If a person like ur stature can’t understand…these Qns & Political behavior of NS
    The msg between the lines
    Who other will be … ????

  3. Good Qns
    But highly conscious & careful …
    I need to draw conclusions ….
    Of a person like ur stature can’t understand…
    The msg between the lines
    Who other will be … ????

  4. Good Qns
    But highly conscious & careful …
    I need to draw conclusions ….
    Of a person like ur stature can’t understand…
    The msg between the lines
    Who other will be … ????

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *