دا سنگہ آزادی دہ ـ آزادی یہ کیسی ہے

’’پشتون تحفظ موومینٹ‘‘ کے نام
[لاہور میں جلسے کے موقعے پر]

دا سنگہ آزادی دہ
آزادی یہ کیسی ہے، محفوظ  نہیں کوئی
آزادی یہ کیسی ہے، آزاد نہیں کوئی

دا سنگہ آزادی دہ
آزادی یہ کیسی ہے، اپنے ہی بنے آقا
آئین نہیں کوئی، سرکار نہیں کوئی

دا سنگہ آزادی دہ
آزادی یہ کیسی ہے، قانون نہیں کوئی
آزادی یہ کیسی ہے، انصاف نہیں کوئی

دا سنگہ آزادی دہ
آزادی یہ کیسی ہے، شنوائی نہیں کوئی
سننے کو گلہ ہرگز، تیار نہیں کوئی

دا سنگہ آزادی دہ
آزادی یہ کیسی ہے، تذلیل مقدر ہے
ہم بھی ہیں وطن دوست، غدار …

Continue Reading →