بایاں بازو ـ کچھ نہیں بدلا، کچھ بھی نہیں بدلا

کل گیارہ فروری کو ایک تقریب تھی، معراج محمد خان کی یاد میں ایک ریفرینس۔ مال روڈ پر، الحمرا ہال تین میں۔ ہال ’’ہاؤس فل‘‘ تھا۔ یہ ہیں کچھ اہم اور نمایاں نکات۔ صاف بات ہے کہ یہ میرے نقطۂ نظر سے اہم اور نمایاں ہیں۔
چونکہ بائیں بازو سے میرا بہت گہرا تعلق رہا ہے، لہذا، میں ایسے اجتماعات میں جانا ضروری سمجھتا ہوں۔ ایک مقصد یہ جاننا بھی ہوتا ہے کہ اب بایاں بازو کہاں کھڑا ہے۔ گذشتہ تقریب جس میں مجھے جانے کا موقع ملا، وہ سترہ اپریل 2015 کو منعقد ہوئی تھی، اور یہ ڈاکٹرلال خان کی کتاب، ’’چین کدھر؟‘‘ کی رونمائی تھی، جس کے بارے میں یہ بلاگ پوسٹ دیکھی جا سکتی ہے: ’’چین کدھر؟ یا پاکستان کا بایاں بازو کدھر؟‘‘ 
’’عظیم انقلابی اور مزاحمتی سیاست کا میرِ لشکر: معراج محمد خان‘‘۔ یہ کتاب فکشن بُک ہاؤس نے شائع کی ہے۔ کتاب کے مرتب، ارشد بٹ نے، جو اوسلو، ناروے سے آئے تھے، بتایا کہ فکشن بُک ہاؤس نے کوئی پیسے نہیں لیے، اور یہ کتاب شائع کی ہے۔ اور یہ کہ یہ کتاب اس تقریب میں نصف قیمت پر دستیاب ہے۔ کتاب کی قیمت پانچ سو روپے ہے، اور اڑھائی سو میں دستیاب تھی۔ اس کے صفحات کی تعداد اڑھائی سو سے کم ہے، اور اس کی قیمت پانچ سو، یا حتیٰ کہ اڑھائی سو کسی بھی صورت جائز نہیں ٹھہرتی۔
تقریب کی صدارت، ارشد بٹ نے کی، جو ’’نیشنل سٹوڈینٹس فیڈریشن‘‘ (این ـ ایس ـ ایف) میں بہت سرگرم رہے تھے۔ مہمانِ خصوصی رشید اے رضوی تھے۔ تقریب بدنظمی کا شکار تھی۔ چونکہ بائیں بازو کے متعدد سرکردہ لوگ یہاں موجود تھے، مگر سٹیج پر اتنی کرسیاں نہیں تھیں۔ کرسیوں کی ایک قطار کے پیچھے ایک اور قطارمیں بھی لوگ بیٹھے تھے۔ تقریب کے ناظموں نے یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ کتنے لوگوں کو بولنے کا موقع دینا ہے، اور اس کے لیے کتنا وقت درکار ہو گا۔ تقریب تین بجے کے بجائے کوئی چار بجے شروع ہوئی، اور چھ بجے جا کر ختم ہوئی۔
تقریب کی نظامت مصدق حسین اسد کر رہے تھے، اور انھوں نے ہر مقرر کو دعوت دیتے ہوئے قریب قریب ہر مرتبہ غلطیاں کیں، جنھیں مقررین درست کرتے رہے۔ یوں محسوس ہوتا تھا، انھیں اپنی کرسی پر بیٹھنے کی جلدی ہے۔ وہ اپنی بات آدھی کچی آدھی پکی کہہ کر فوراً اپنی کرسی پر براجمان ہو جاتے۔ رشید اے رضوی کو بلایا تو انھیں سپریم کورٹ کا صدر قرار دے دیا۔
پھر یہ کہ ہر مقرر نہ صرف بائیں بازو سے متعلق بلکہ پاکستان اور دنیا بالخصوص امریکہ کے بارے میں اپنا پورا نظریہ بیان کرنے پر تلا ہوا تھا۔ ارشد بٹ نے اس شوق کو کچھ لگام دینے کی کوشش کی۔
حسین نقی نے بتایا کہ معراج محمد خان کا تعلق لیاری سے تھا، اور وہ اپنے پاس خنجر وغیرہ رکھتے تھے۔ پھر انھوں نے یہ بھی بتایا کہ معراج محمد خان کو کتابیں پڑھنے سے کوئی خاص شغف نہیں تھا۔ اور انھوں نے خود بھی اعتراف کیا کہ انھیں بھی کتاب پڑھنے کا کوئی اتنا شوق نہیں۔
حسین نقی نے یہ بھی بتایا کہ معراج محمد خان نے پیپلز پارٹی چھوڑی تو پہلے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور پھر بعدازاں تحریک انصاف سے وابستہ ہوئے۔ اس پرکچھ لوگوں نے اختلاف کیا کہ وہ  مسلم لیگ میں شامل نہیں ہوئے، مگر حسین نقی نے اپنی بات پر اصرار کیا۔
اسلم گورداسپوری نے سیدھی سادہ باتیں کیں۔ انھوں نے اعتزاز احسن کے بارے میں کہا کہ وہ بہت بڑی شخصیت ہیں، اور ایسا ’’سراپا‘‘ بنانے میں برسوں میں لگ جاتے ہیں۔ وہ معروف دانشور ہیں، نامی گرامی وکیل ہیں، سیاست دان ہیں، لیکن جب وہ بلاول بھٹو کے پیچھے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہوتے ہیں، تو یہ بات سمجھ نہیں آتی۔ اس پراعتزاز احسن کے چہرے پر کوئی ردِ عمل پیدا نہیں ہوا، وہ جیسے ’’بے حس‘‘ ہو چکے ہیں۔ اسلم گورداسپوری جب واپس اپنی کرسی کی طرف جا رہے تھے، تو اعتزاز احسن ان کی طرف دیکھتے رہے، لیکن گورداسپوری سیدھے چلتے ہوئے اپنی نشست پر جا بیٹھے۔ 
جب اعتزاز احسن کو بلایا گیا تو مجھے یہ دیکھ کر بہت حیرانی ہوئی کہ وہ ایک روبوٹ کی طرح چل رہے تھے، اور آ کر بلاتکان بولنا شروع کر دیا۔ ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا۔ وہ ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے، اور بالآخر شاعری میں پناہ لی۔ پہلے شاید اپنی نظم پڑھی، اور پھر فیض کا سہارا لیا۔
عوامی نیشنل پارٹی کے احسان وائیں نے نے ڈاکٹر لال خان کو چھیڑا۔ انھوں نے کہا، یہاں ’’سائنٹیفک سوشلسٹ مارکسسٹ‘‘ بھی تشریف رکھتے ہیں۔
بائیں بازو کے جتنے لوگوں نے بات کی، اس میں کچھ بھی نیا نہیں تھا۔ وہی پرانا تھیسس، یعنی پرانا نظریہ، جو جاگیرداروں، سرمایہ داروں کو کوسنے اورمزدوروں کسانوں اور عوام کی محرومی کے قصوں سے عبارت ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان میں عوام کی تعداد 85 فی صد ہے، اور ان کے آقاؤں کی تعداد 15 فی صد ہے۔ 
نہ چاہتے ہوئے بھی، میں نے سب کی سب تقریریں اور باتیں سنیں، اور میری رائے یہی بنی کہ بایاں بازو 35 برس قبل جہاں کھڑا تھا، آج بھی وہیں کھڑا ہے۔ کچھ بھی نہیں بدلا، کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ یہ آج بھی اسی رومانوی اور خیالی دنیا میں زندہ اور کسی ’’معجزے‘‘ کا منتظر ہے۔ اسے تحریکِ انصاف کی طرح یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ لوگ اس کے پیچھے کیوں نہیں چلتے؛ جبکہ یہ ان کی ’’بہبود‘‘ کی بات کرتے ہیں!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *