ڈان‘‘ اور سیاست دان اور عام لوگ’’

[سیاسی قضیے: [5 جولائی، 2018

ویسے تو انگریزی اخبار، ’’ڈان‘‘ اشتراکیت اور اشتراکیوں کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے، جو اپنے مقصد حصول کے لیے طاقت اور تشدد کے استعمال کو جائز سمجھتے ہیں۔ مگر لیاری میں ووٹروں نے پیپلز پارٹی کے ’’کراؤن پرنس‘‘، بلاول بھٹو زرداری کا جس طرح استقبال کیا، ’’ڈان‘‘ کو یہ انداز اچھا نہیں لگا۔ ’’ڈان‘‘ نے اس پر جو اداریہ لکھا، اس کا عنوان ہی معنی خیز ہے: سیاست دانوں کو شرم دلانا [3 جولائی، 2018]۔

اداریہ پڑھ کر اس عنوان کا مطلب یہ بنتا ہے کہ لیاری کے ووٹروں کا سیاست دانوں کو اس انداز میں شرم دلانا درست نہیں۔ ’’ڈان‘‘ کی رائے یہ ہے کہ ووٹروں کو سیاست دانوں کی نااہلی پر اپنا ردِعمل ووٹ کی صورت میں ظاہر کرنا چاہیے۔

ڈان کے مطابق یہ رجحان تکلیف دہ ہے۔ ناخوش ووٹروں نے متعدد انتخابی امیدواروں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا، اور یوں ممتاز لوگوں کی ہتک سے لوگ خوشی حاصل کر رہے ہیں۔

بظاہر لوگ بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاج، اورسیاست دانوں کو سرِعام لعن طعن کر کے اپنی رنجشوں کا اظہار کر رہے ہیں، مگر مسئلہ نہایت گمبھیر ہے۔

مثالی صورت تو یہ ہے کہ یہ کام مقامی حکومتوں کے نمائندوں کو کرنے چاہییں، لیکن اسیمبلیوں میں بیٹھنے والے بڑوں نے تمام اختیارات خود سمیٹ لیے ہیں، اور نچلی سطح کو بےاختیار بنا دیا ہے۔

اس مفہوم میں یہ احتجاج، اختیارات کے ارتکاز کے خلاف ہیں۔ احتجاج، معاہدے کا حصہ ہوتے ہیں، لیکن یہ جس انداز میں سامنے آ رہے ہیں، وہ خطرے کا احساس دلاتے ہیں۔

احتجاج کرنے والوں نے احتجاج کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا ہے، وہ ان کی مایوسی کا غماز ہو سکتا ہے۔ مگر یہ انھیں ایسے ووٹر ثابت نہیں کرتا، جو انتخاب کا اپنا حق جتا رہے ہوں۔ اب جبکہ انتخابات کے انعقاد میں تین ہفتے رہ گئے ہیں، ان کے لیے ایک زیادہ پرمعنی اور آخری ٹھپہ، نااہل سیاست دانوں کی چھٹی کرا دینا ہے۔

لیکن جو بات کہنا مقصود ہے، وہ یہی ہے کہ جس قسم کے جذبات کا اظہار کیا جا رہا ہے، جنھیں نئے اور پرانے اداکاروں نے بھڑکایا ہے اور جو انتخابات کو متنازع بنانا چاہتے ہیں، وہ آنے والے دنوں میں تشدد کو بڑھاوا دیں گے۔ یہ نہایت بدقسمتی ہو گی۔

یہ ہیں ’’ڈٓان‘‘ کے اداریے کے مندرجات۔

ڈان کیا کہنا چاہتا ہے؟

پہلی بات تو یہ کہ درست ہے کہ تشدد کو کسی صورت میں جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر میں یہی کہوں کہ سیاست میں تشدد کو رواج، سیاست دانوں نے ہی دیا، تو یہ محض حقیقت کو بیان کرنا ہے، تشدد کو درست قرار دینا نہیں۔ ’’ڈان‘‘ اس حقیقت کو نظرانداز کر دیتا ہے، مگر اسے عام لوگوں اور ووٹروں کا تشدد ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ نصف سچائی کو بیان کرنا، ’’ڈان‘‘ کا جھکاؤ کس طرف ہے، اس کی چغلی کھاتا ہے۔

واضح رہے کہ آخری مفہوم میں ’’ڈان‘‘ کا جھکاؤ، اشرافیہ کے مختلف طبقات ہی کی طرف ہے، اجلافیہ کی طرف بالکل نہیں۔

دوسسری بات یہ کہ ’’ڈان‘‘ کو اس رجحان پر بھی دکھ ہے کہ سیاست دانوں کی ہتک اور تحقیر سے لوگ خوشی کشید کر رہے ہیں۔ مگر ’’ڈان‘‘ اس حقیقت کو دیکھنے سے قاصر ہے کہ لوگ کتنی نسلوں سے سیاست دانوں کی نااہلی کا سزا بھگت رہے ہیں۔

یوں معلوم ہوتا ہے کہ اداریے کے مصنف کو کبھی کسی سرکاری ادارے سے کام نہیں پڑا، جہاں عام لوگوں کے ساتھ ’’شودروں‘‘ سے بھی بدتر سلوک ہوتا ہے۔ انھیں کبھی کسی تھانے، یا کسی کچہری، یا کسی عدالت کا رخ نہیں کرنا پڑا، جہاں عام شہری کی تذلیل کا ہر سامان مہیا ہے۔

کیا یہ کہنا غلط ہو گا کہ پاکستان کی پوری کی پوری ریاست اور حکومت، سادیت پسند ہے؛ یعنی یہ لوگوں کو تکلیف اور عذاب میں مبتلا رکھنا چاہتی ہے، اور اس سے خوشی حاصل کرتی ہے۔

تو، ایک سادیت پسند ریاست میں، سادیت پسند شہری ہی تربیت پائیں گے نا۔

تیسری بات یہ کہ ’’ڈان‘‘ کا یہ جو کہنا ہے کہ لوگوں کو سیاست دانوں کے ساتھ ’’ووٹ‘‘ کی زبان میں بات کرنی چاہیے، نہایت گمراہ کن ہے۔ پاکستان میں کئی انتخابات ہو چکے ہیں، کیا کوئی مسائل حل ہوئے۔ گذشتہ دو انتخابات کے نتیجے میں لوگوں کو کیا ملا۔ لوگ اِس یا اُس جماعت کو ووٹ دے بھی دیں، اور دیں گے، تو کیا فرق پڑ جائے گا؟

آج سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی، کونسی بنیادی سہولتیں ہیں، جو ہر شہری کو بلاامتیاز دستیاب ہیں۔ صاف پانی، صاف گلیوں، صاف سڑکوں سے لے کر صحت، تعلیم اور انصاف تک، کیا چیز ہے، جو ان سیاست دانوں کے کارناموں میں لکھی جائے۔

انتہائی اہم سوال یہ ہے کہ کیا اب ان چیزوں کے لیے ووٹ دینا پڑے گا، جیسے کہ صاف پانی کے لیے، صحت کے لیے۔ پھر یہ کہ کیا یہ چیزیں، حکومت، لوگوں کو مفت مہیا کرتی ہے، جو لوگوں پر ان کا احسان ہوا۔ شہری، ہر چیز پیسوں سے خریدتے ہیں، پھر بھی کوئی معیاری سہولت دستیاب نہیں۔

کہنے یہ مراد قطعاً نہیں کہ سیاست دانوں کے ساتھ لوگوں کا پرہتک سلوک درست ہے۔ کہنے سے مقصود یہ ہے کہ ’’ڈان‘‘ سیاست دانوں کے ساتھ ووٹ کی زبان میں بات کرنے کا جو مشورہ دے رہا ہے، وہ کتنا موثر ہے اور کس کے فائدے میں جاتا ہے۔

سیاست کا جو رجحان چل رہا ہے، اس سے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ چند سالوں میں شہریوں کو اس بات کے لیے بھی ووٹ دینا پڑے گا کہ زندہ رہنا چاہتے ہیں۔

بہتر ہوتا کہ ’’ڈان‘‘ لوگوں کو سبق پڑھانے کے بجائے، سیاست دانوں کو سبق پڑھاتا کہ وہ لوگوں کو سبز باغ دکھانا بند کریں، اور جھوٹے اور ناقابلِ عمل نعروں (جیسے کہ: ہر گھر سے بابو نکلے گا؛ یا؛ لوگوں کو پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں دیں گے۔) کے بجائے، بامقصد معاملات پر توجہ دیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *