پاکستان مسلم لیگ (ن) کو انتخابات کا بائیکاٹ کرنا ہو گا

سیاسی قضیے: یکم جولائی، 2018

پاکستان مسلم لیگ ن کیا کرنا چاہ رہی ہے، غالبا اسے بھی خبر نہیں۔ یہ کس سمت میں جانا چاہ رہی ہے، کچھ واضح نہیں۔

ہاں، اتنا تو صاف ہے کہ یہ انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ اسے یہ گمان ہے کہ یہ انتخابات جیت جائے گی، کم از کم پنجاب میں سو سے زیادہ نشستیں حاصل کر لے گی۔

اس کا مطلب ہے کہ یہ ایک دائرے کے اندر رہ کر لڑے گی، اس سے باہر نکل کرنہیں۔

لیکن جوں جوں انتخابات قریب آ رہے ہیں، یہ بات نمایاں ہو کر سامنے آتی جا رہی ہے کہ ن لیگ کو پنجاب میں اکثریتی جماعت نہیں بننے دیا جائے گا۔ اگر ایک جانب، ن لیگ کے راستے میں ہر قسم کی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں، تو دوسری طرف، پاکستان تحریکِ انصاف کے راستے کی ہر رکاوٹ کو ہٹا کر، اس کے لیے جیت کو آسان بنایا جا رہا ہے۔

دھرنا 2014 کے دوران، جاوید ہاشمی نے جو انکشافات کیے تھے، جب سے ان پر عمل درآمد شروع ہوا ہے، اس وقت سے لے کر، پی اے ایف کے ہوائی اڈوں کے عمران خان کے مبینہ استعمال تک، لاتعداد ایسے اقدامات ہیں، جو انتخابات کی شفافیت کو مشکوک بناتے ہیں۔ ایک ستم ظریفانہ رائے یہ دی گئی ہے کہ انتخابات اتنے شفاف ہیں کہ آر پار نظر آ رہا ہے۔ یعنی یہ کہ پردے کے پیچھے کیا ہو رہا ہے، وہ بھی صاف نظر آ رہا ہے۔ اور انتخابی کمیشن جیسے کہ وجود ہی نہیں رکھتا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ آیا یہ سب کچھ ن لیگ کو بھی نظر آ رہا ہے، یا نہیں۔ کیونکہ ان معاملات پر اس کا ردِعمل عمومی بیانات سے بڑھ کر کچھ نہیں۔

پاکستان کی گذشتہ سیاسی تاریخ کا میرا مشاہدہ یہ ہے کہ جب کسی جماعت کو پیچھے رکھنا یا پیچھے دھکیلنا مقصود ہوتا ہے، تو وہ کچھ پس و پیش کے ساتھ اسے ’’قسمت‘‘ کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیتی ہے۔ تو کیا ن لیگ بھی یہی کچھ کرنے جا رہی ہے؟ شاید ایسا ہی ہے۔

ایسے میں جبکہ نواز شریف ملک میں نہیں، اور شہباز شریف ن لیگ کے کرتا دھرتا بنے بیٹھے ہیں، ن لیگ کی کشتی کسی ایک سمت میں جاتی نظر نہیں آ رہی۔ شہباز شریف، مسلم لیگ ن کی بقا سے قطع نظر، اپنے وزیرِ اعظم بننے کے امکانات پر کام کر رہے ہیں۔ اور مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ وہ مسلم لیگ ن کے لیے وہی کچھ ثابت ہوں گے، جو کچھ پیپلز پارٹی کے لیے آصف علی زرداری ثابت ہوئے ہیں۔

:انتخابات کا بائیکاٹ کیوں ضروری ہے

اب جبکہ انتخابات میں بس گنے چنے دن باقی رہ گئے ہیں، تاحال ن لیگ کوئی فیصلہ نہیں کر پائی ہے کہ اسے کیا کرنا ہے۔ خود یہ چیز اس کی شکست خوردگی پر دلالت کرتی ہے۔

میری رائے یہ ہے کہ دریں حالات ن لیگ کو انتخابات کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ چونکہ یہ تین بڑی سیاسی جماعتوں میں سرِفہرست ہے، لہٰذا، اس کا بائیکاٹ پورے کے پورے کھیل کو، جو انتخابات کے پردے میں رچایا جا رہاہے، دھڑام سے نیچے گرا دے گا۔ اسے اپنے اتحادیوں، جیسے کہ اے این پی، وغیرہ، اور اپنے ووٹروں کو بھی بائیکاٹ کے لیے تیار کرنا چاہیے۔ ایک بڑی جماعت ہونے کے ناطے، ن لیگ بائیکاٹ کو موثر بنا سکتی ہے۔

اس دلیل کو ایک اصول کے طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے، اور ثبوت میں پیپلز پارٹی کے بائیکاٹ کو پیش کیا جاتا ہے کہ یوں پیپلز پارٹی سیاسی عمل سے باہر ہو کر رہ گئی تھی۔ لیکن اب حالات بہت مختلف ہیں۔

فرض کریں ن لیگ پنجاب میں سو کے آس پاس نشستیں جیت لیتی ہے، تو کیا اسے حکومت بنانے دی جائے گی۔ اگر ایسا ہی ہونے دینا ہے، تو پھر سارا کھیل رچانے سے کیا فائدہ! اور اگر ن لیگ مناسب تعداد میں نشستیں جیت نہیں پاتی، تو یہ چیز اسے مزید بکھرنے سے بچا نہیں سکے گی۔

اور فرض کیجیے اگر ن لیگ کے بائیکاٹ کے باوجود، انتخابات منعقد ہوتے ہیں، تو ان انتخابات کی ساکھ مشکوک ہو گی، اور یہ جمہوریت کے نام پر ایک بدنما دھبہ کہلائیں گے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ حکومت سے باہر رہ کر، ن لیگ ایک زیادہ بڑی طاقت کا کردار ادا کر سکے گی۔

مگر جیسا کہ ابھی تک ن لیگ یہ سمجھ رہی ہے کہ وہ پنجاب میں بیشتر نشستیں جیت لے گی، تو اس کا یہ زعم، خیالِ خام ہے۔ اشارے بتا رہے ہیں کہ اسے کسی صورت اقتدار میں آنے نہیں دیا جائے گا، نہ تو مرکز میں اور نہ ہی پنجاب میں۔

اس وقت ن لیگ جو بھی فیصلہ کرتی ہے، وہ اس کی بقا پر اثرانداز ہو گا۔ اگر یہ دائرے کے اندر رہ کر لڑنا چاہتی ہے، تو یہ انتخابات میں حصہ ضرور لے گی، اور اس ’’کھیل‘‘ سے جو اور جتنا فائدہ اٹھا سکتی ہے، اٹھانے کی کوشش کرے گی۔ مگر یوں یہ نہ صرف اپنی بقا کو خطرے میں ڈال لے گی، بلکہ اپنے ووٹروں اور وفاداروں سے غداری کی مرتکب بھی ٹھہرے گی۔

ہاں، اگر یہ دائرے سے باہر آ کر لڑنا چاہتی ہے، تو اسے انتخابات کا بائیکاٹ کرنا ہو گا۔ یہی وہ راستہ ہے، جس پر چل کر یہ سیاسی حکومت کی بالادستی کی لڑائی لڑ سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *