انتخابات کا بائیکاٹ اور آئین کی بالادستی

سیاسی قضیے:3  جون، 2018

جولائی میں ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ اس لیے ضروری ہے، کیونکہ کوئی بھی سیاسی جماعت حکومت میں آ جائے، عام لوگوں کی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

وہ اسی طرح دولت کماتے اور اس کا ایک بڑا حصہ ٹیکسوں کی صورت میں ریاست اور حکومت کے اللوں تللوں کے لیے دیتے رہیں گے۔ انھیں اپنی جان و مال، حقوق اور آزادیوں کا تحفظ اور انصاف میسر نہیں آئے گا۔

یعنی جب تک ملک میں آئین کی بالادستی قائم نہیں ہو گی، یہ مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اور جب آئین کی بالادستی قائم ہی نہیں ہونی، تو پھر انتخابات میں ووٹ دینے سے کیا فائدہ۔

پہلے مضمون، ’’کیا انتخابات کا بائیکاٹ موثر ثابت ہو سکتا ہے؟‘‘ میں اسی استدلال کی بنیاد پر انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کی گئی تھی۔

یہاں موجودہ پوسٹ میں، اسی استدلال کو مزید وضاحت سے پیش کیا جائے گا، اور اس سے متعلق کچھ شکوک کا ازالہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اگر میں انتخابات کے بائیکاٹ کی بات کر رہا ہوں، تو اس کا سبب یہ ’’فہم‘‘ قطعاً نہیں، جیسا کہ اس وقت اکثر لوگ یہ سمجھ رہے ہیں، کہ چونکہ انتخابات کو مخصوص جماعتوں اور افراد کے حق میں توڑا مروڑا اور ڈھالا جا رہا ہے، لہٰذا ان کا بائیکاٹ کیا جائے۔

اس بارے میں میری رائے، نہایت سادہ اور آئینی و قانونی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سازش اس وقت تک سازش ہوتی ہے، جب تک یہ پردے یا پردوں کے پیچھے رہے، اور جو لوگ اس کا ہدف ہوتے ہیں، وہ اور دوسرے لوگ اس کے بارے میں اپنے اپنے قیاس کے گھوڑے دوڑاتے رہیں۔ جیسے ہی کوئی سازش طشت از بام ہوتی ہے، تو یہ سازش نہیں رہتی، بلکہ ایک غیرآئینی یا آئین دشمن، یا پھر غیرقانونی یا قانون دشمن اقدام بن جاتا ہے، اور ضروری ہے کہ اس کے تدارک کے لیے اور آئین و قانون کی بالادستی کی خاطر، ان تمام افراد پر مقدمہ چلایا جائے، اور انھیں قرارِواقعی سزا دی جائے، قطع نظر اس سے کہ ان کا عہدہ و حیثیت کیا ہے۔

بڑی مثالیں آئی جے آئی سے متعلق اعترافات اور حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب، ’’دا سپائی کرانیکلز‘‘ ہے۔

ایک اورمثال نوازشریف کے ’’انکشافات‘‘ ہیں۔ جیسا کہ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے نیب میں اپنے بیان اور پھر بعد میں پریس کانفرینس میں بتایا کہ 2014 میں اسلام آباد میں تحریکِ انصاف اور عوامی تحریک نے جو دھرنا دیا تھا، وہ ان کی حکومت نے جینرل پرویز مشرف (ریٹائرڈ) پر آئین شکنی سے متعلق جو مقدمہ شروع کیا تھا، اس کا جواب تھا۔ اور یہ بھی کہ اس وقت ایک ایجینسی کے سربراہ نے انھیں پیغام بھیجا کہ وہ یا تو طویل چھٹی پر چلیں جائیں، یا پھر استعفیٰ دیں (ملاحظہ کیجے  24مئی کے اخبارات)۔

سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں ایک وزیرِ اعظم کو کیا کرنا چاہیے۔ جبکہ یہ وزیرِ اعظم ہی ہے، جو ریاست کا سب سے زیادہ بااختیار اور منتخب عہدے دار ہے۔ کیا اسے ایسے کسی بھی فرد کو، جو وزیراعظم کو ایسا پیغام بھجواتا ہے، فوراً برخاست نہیں کر دینا چاہیے، اور ساتھ ہی اس پر مقدمہ قائم نہیں کروانا چاہیے۔ اگر وزیرِاعظم ایسا نہیں کر سکتا، تو اسے وزیرِاعظم رہنے کا قطعاً کوئی حق نہیں۔ ووٹروں نے اس ووٹ دے کر، بااختیار اس لیے نہیں بنایا کہ وہ کسی بھی فرد کی اس نوع کی حرکتوں کو محض تماشائی بن کر دیکھتا رہے، جو نہ صرف اس کے عہدے، بلکہ آئین و قانون کا تمسخر اڑانے کے مترادف ہوں۔

مزید یہ بات بھی اہم ہے کہ جب نوازشریف کو نااہل کیا گیا، تو حکومت ان کی جماعت کے ہاتھ سے نہیں نکلی۔ اب بھی جبکہ یہ کہا جا رہا ہے کہ ان کی جماعت کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں، اور انھیں انتخابات سے باہر کرنے اور رکھنے کے لیے ساز باز عروج پر ہے، تو ان کی جماعت ہی اقتدار میں ہے۔ تو یہاں بھی سوال وہی ہے کہ اگر نوازشریف اور ان کی جماعت ان سازشوں اور سازباز سے باخبر ہیں، تو وہ قانون کو حرکت میں کیوں نہیں لاتے۔ اور اگر تب بھی ان کی جماعت اتنی ہی بےاختیار تھی، اور اب اتنی ہی بےاختیار ہے، تو پھر انھیں حکومت فوراً چھوڑ دینی چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس وقت بھی آئینی و قانونی اختیار تو ان کی جماعت کے وزیرِاعظم کے پاس ہے، مگر ان میں عمومی جرآت اور اخلاقی جرآت دونوں کا فقدان ہے۔ یہی چلن اور یہی انداز پہلے کی دوسری حکومتوں کا شیوہ بھی رہا ہے۔ یہ سب حکومتیں اور سیاسی جماعتیں، اقتدار کی بھوک میں ذلت و خواری سہتی رہتی ہیں، اور ووٹروں کے دیے ہوئے اختیار سے انحراف اور غداری کی مرتکب ہوتی رہتی ہیں۔

نتیجہ

صاف بات ہے کہ یہ صورت تب ہی بدل سکتی ہے، جب برسرِاقتدار حکومت، خواہ یہ کسی بھی جماعت کی ہو، جرآت کرے، اور اپنے آئینی اور قانونی اختیار کو پوری طرح استعمال میں لائے اور یہ سمجھے کہ یہ ووٹر ہیں جنھوں نے اسے اختیار دیا ہے، اور وہی اس سے یہ اختیار واپس لے سکتے ہیں، کوئی اور نہیں، وہ انھی کو جواب دہ ہے، کسی اور کو نہیں۔

اور چونکہ یہ بات قریب قریب یقینی ہے کہ کوئی سیاسی جماعت، بشمول مسلم لیگ ن، ایسا نہیں کرنا چاہتی، لہٰذا، اس سے یہ نتیجہ باآسانی اخذ ہوتا ہے کہ آئندہ انتخابات بھی صرف ایک لاٹری کی طرح ہوں گے، اور جس سیاسی جماعت کی لاٹری نکل آئے گی، اس کی قسمت جاگ اٹھے گی۔ تو پھر ایسے انتخابات کا بائیکاٹ نہ کیا جائے، تو کیا کیا جائے۔

یہی سبب ہے کہ میں باربار اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ اصل چیز، جو پاکستان کو سیاسی طور پر آگے لے جا سکتی ہے، وہ آئین و قانون کی بالادستی ہے۔ اگر آئین و قانون کی بالادستی قائم نہیں کی جاتی، تو پاکستان اسی طرح منظم انشتار کا شکار رہے گا۔

آئیے آئین کی بالادستی کی خاطر انتخابات کا بائیکاٹ کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *