سیاست اور میثاقِ وفاداری

سیاسی قضیے: 21 مئی،2018

کوئی بھی ہوش مند اور ذی عقل شخص اس بات کو تسلیم نہیں کرے گا کہ ایک ہی کشتی میں سوار افراد کی شکست و فتح جدا جدا ہو گی۔ کیونکہ اگر کشتی ڈوبتی ہے، تو غالب امکان یہی ہے کہ کشتی میں سوار ہر فرد ڈوب جائے گا۔

مگر سیاست دان ایک ایسی مخلوق ہو سکتے ہیں، جو ایسا سوچ بھی سکتے ہیں اور اس پر عمل بھی کر سکتے ہیں۔ وہ ایسے نشئی (’’جہاز‘‘) ہیں، جو اپنے نشے کی خاطر اپنے ساتھی نشئی کو بھی قتل کر دیتے ہیں!

سیاست دان کسی بھی ملک کے ہوں، ان میں سے بیشتر ایسا ہی سوچتے اور ایسا ہی کرتے ہیں۔ چونکہ ہمارا پالا پاکستانی سیاست دانوں سے ہے، لہٰذا، یہاں انھی کا رونا رویا جائے گا۔

کسی ملک کی سیاسی حدود، اس کی تشکیل کرتی ہیں۔ بلکہ اصل میں یہ آئین ہوتا ہے، جن میں ان حدود کا واضح بیان اور تعین کیا جاتا ہے، اور ملک کا وجود متشکل ہوتا ہے۔ اور یوں ایک ملک، ایک کشتی کی طرح ہوتا ہے، جس میں سوار تمام لوگوں کا جینا مرنا، اس کشتی کی زندگی کے ساتھ جڑا ہوتا ہے، اور آئین اس کشتی کو چلانے کے لیے ضابطۂ کار مہیا کرتا ہے۔ اگر یہ کشتی ڈوبتی ہے، تو بیشتر لوگ ڈوب جائیں گے۔ اور اگر یہ کشتی سمندر کی لہروں پر خراماں خراماں چلتی رہتی ہے، تو ہر کسی کی زندگی محفوظ ہو گی۔

اس ضمن میں یہ بات عیاں ہے کہ کشتی کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ اس میں کون سوار ہے۔ یہ اگر ڈوبے گی، تو سب کو لے کر ڈوبے گی، اور اگر محفوظ رہے گی، تو سب سمیت محفوظ رہے گی۔ مراد یہ کہ ایک ہی کشتی کے سوار، وہ جیسے بھی ہوں، ان کا رنگ و مذہب کچھ بھی ہو، ان کی نسل و ثقافت کچھ بھی ہو، ان کی حیثیت و طبقہ کچھ بھی ہو، ان کا طور طریقہ کچھ بھی ہو، ان سب کا جینا مرنا ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

یہی وہ حقیقت ہے، جو آخرالامر پاکستان کے ہر شہری کے مدِ نظر ہونی اور رہنی چاہیے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ حقیقت بیشتر شہریوں کے مدِ نظر ہوتی بھی ہے۔ لیکن وہ شہری، جن کے ہاتھ میں اس ملک کی ریاست کی باگ ڈور آتی ہے، وہ یا تو اس حقیقت سے بے خبر ہوتے ہیں، یا بے خبرہو جاتے ہیں، یا ارادی طور پر اس سے انحراف کرتے ہیں، یا اس کے مخالف بن جاتے ہیں۔ اور خود اس کشتی کے درپۓ آزار ہو جاتے ہیں۔

پاکستان کے جن شہریوں کے ہاتھوں میں اس ریاست (کشتی) کی باگ ڈور آتی ہے، وہ سیاست دان ہیں۔ یعنی شہری کسی نہ کسی سیاسی جماعت کو اپنے ووٹوں کے ذریعے بااختیار بناتے ہیں۔ مگر یہ سیاست دان ملک کے معاملات کو یوں چلاتے ہیں، جیسے کہ ملک (کشتی) کی باگ ڈور کسی دشمن کے ہاتھ لگ گئی ہو۔ یہ اسے ایک کشتی نہیں سمجھتے، جس میں یہ خود بھی سوار ہوں۔ ایک طرف یہ اپنا گھر بھرتے ہیں، اور دوسری طرف، دوسرے کا گھر اجاڑنے اور جلانے میں لگ جاتے ہیں۔

یہی حال کشتی کے ان سواروں، یعنی حزبِ اختلاف کا بھی ہوتا ہے، جن کے ہاتھ میں باگ ڈور نہیں ہوتی۔  یہ بھی جن کے ہاتھ میں باگ ڈور ہوتی ہے، ان کی دشمنی میں اس حد تک پاگل ہو جاتے ہیں کہ کشتی کو بھی بھول جاتے ہیں۔ ان کی بلا سے کشتی ڈوبے یا ٹکڑے ٹکڑے ہو۔

بہت عرصے سے، میں یہ سوچتا اور حیران ہوتا رہا ہوں کہ پاکستان کے سیاست دان کیسے سیاست دان ہیں، جو ملک کو ایک ایسا کاروبار بھی نہیں سمجھ سکتے، جسے متعدد ساجھےدار، شراکت دار چلا رہے ہوں، اور جس سے سب کا بھلا ہو رہا ہو۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ پاکستان کے سیاست دان کیسے انسان ہیں، جو اپنی ناک سے آگے دیکھ ہی نہیں سکتے اور ایک دوسرے کی دشمنی میں کشتی کو ڈبونے پر اُتر آتے ہیں۔

ایک مرتبہ تو یہ کشتی دولخت ہو بھی چکی ہے، اور اس کے حتمی ذمے دار سیاست دان ہی ہیں، بلکہ بڑا ذمے دار ایک سیاست دان ہے۔

اس صورتِ حال کو سمجھنے کی خاطر، موجودہ سیاسی منظرنامے پر نظر ڈال لیجیے۔ سب سیاسی جماعتیں خود کو ’’محبِ وطن‘‘ اور دوسری سیاسی جماعتوں کو غدار، ملک دشمن اور بدعنوان ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ جبکہ ہر سیاسی جماعت اب یا تب ان الزامات کی زد میں رہ چکی ہے۔

خواہ یہ پاکستان پیپلز پارٹی ہو، یا پاکستان مسلم لیگ ن، یا پاکستان تحریکِ انصاف، ہر بڑی سیاسی جماعت ہر دوسری جماعت کو ملک دشمن ثابت کرنے اور خود کو حکمرانی کا اہل قرار دینے میں، ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش میں ہیں۔ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ یہ اپنے علاوہ کس کے ساتھ وفادار ہیں۔ ان کے لیے نہ تو ملک کوئی اہمیت رکھتا ہے، نہ اس کا آئین۔ یعنی یہ اقتدار کی ہوس میں کشتی کو بھی ڈبونے پر تیار ہیں۔

یہاں آخر میں چند شبہات کا ازالہ بجا ہو گا۔

ایک تو یہ کہ پاکستان کی کشتی کے ہر سوار کا جینا مرنا کشتی کے ساتھ وابستہ نہیں۔ درست ہے کہ دولت مند اور اثرورسوخ رکھنے والے پاکستانیوں کی ایک ٹٓانگ پاکستان میں ہوتی ہے، تو دوسری کسی اور محفوظ ملک میں۔ یہ جب چاہیں، اس کشتی سے باحفاظت کسی اور کشتی میں جا سوار ہو سکتے ہیں۔

دوسرے یہ کہ مسلسل عدم استحکام اور سیاسی انتشار سے مجبور ہو کر بیشتر خاندان، جو ہجرت کے اخراجات اٹھا سکتے تھے، پاکستان کی ڈولتی کشتی کو خیرباد کہہ گئے ہیں اور کہہ رہے ہیں۔ یہ بھی درست ہے۔

تیسرے یہ کہ خود پاکستانی کاروباری لوگ، پاکستان میں پیسہ نہیں لگاتے۔ یہ بات بھی سو فی صدی درست ہے۔ صاف بات ہے کہ جہاں آج کا پتا نہیں اور کل کی خبر نہیں، وہاں کوئی کاروبار کیوں کرے گا اور کیسے کرے گا۔

لیکن یہ بات عیاں ہے کہ ملک کو چھوڑ کر جانے والے لوگوں کی تعداد ّٹے میں نمک کے برابر ہو گی۔ ابھی بھی پاکستان میں رہنے والوں، کام کرنے والوں اور کاروبار کرنے والوں کی تعداد بائیس کروڑ کے لگ بھگ ہے۔

پاکستان چھوڑ کر جانے والوں کو قانوناً روکنا چاہیے، اس بات سے شاید ہی کوئی اتفاق کرے گا۔ یہ ہر کسی کا فطری حق ہے کہ اگر وہ خود کو یہاں پاکستان میں محفوظ و مامون نہیں سمجھتا تو جہاں جانا چاہتا ہے، وہاں جا بسے۔

ہاں، جو کرنے والا کام ہے، وہ یہ ہے کہ پاکستان میں سماجی، سیاسی، معاشی استحکام پیدا کیا جائے، تا کہ جو لوگ پاکستان چھوڑ کر چلے گئے ہیں، وہ بھی واپس آنے پر مجبور ہو جائیں۔ اور بلاشبہ کون واپس نہیں آنا چاہے گا!

اس مقصد کے حصول کی خاطر، سیاسی جماعتوں کو ایک ’’میثاقِ وفاداری‘‘ پر متفق الرائے ہونا پڑے گا۔ تاکہ ملک کو مجموعی استحکام سے ہم کنار کیا جا سکے۔

یعنی اس میثاق میں سیاسی جماعتوں کو اس چیز کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کہ وہ ایک ہی کشتی کی سوار ہیں، یا ایک ہی کاروبار کی شراکت دار ہیں، ’’سیاسی مسابقت‘‘ کی حدود کا تعین کرنا ہو گا اور ’’سیاسی مخاصمت‘‘ کو ترک کرنا ہو گا۔ مراد یہ کہ کشتی یا کاروبار کی بہتری سے متعلق کچھ مخصوص معاملات کو چھوڑ کر، وہ سیاسی معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلے کے لیے آزاد ہوں گی۔ اور ایسی سیاست اور ایسے اقدامات سے قطعی طور پر اجتناب کریں گی، جو کشتی یا کاروبار کے لیے نقصان دہ ہوں۔

مختصراً یہ کہ سیاسی جماعتیں ملک کو کشتی سمجھیں، یا کاروبار، مگر اصل میں انھیں اس سے وفاداری کا عہد کرنا ہو گا، اور اپنی سیاست کو اس کے بعد رکھنا ہو گا۔ یعنی انھیں اپنی سیاست کو اس طرح ترتیب دینا ہو گا، جہاں ان کے سیاسی تنازعات کبھی اس حد تک نہیں بڑھیں گے کہ خود کشتی یا کاروبار متنازعہ ہو جائے اور اسے نقصان پہنچنے لگے، اور لوگ اس کشتی سے دوسری کشتی میں نقل مکانی کرنے لگیں۔ اور یہ بھی کہ وہ سختی کے ساتھ کشتی کے ’’ضابطۂ کار‘‘ یعنی آئین کی پیروی کریں گی، اور کسی غیرآئینی اقدام کا حصہ نہیں بنیں گی۔

یہی وہ سیاق و سباق ہے، جو ’’میثاقِ وفاداری‘‘ کی اہمیت کو واضح کرتا اور سیاسی جماعتوں سے جلد از جلد اس کی طرف متوجہ ہونے کا تقاضا کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *