آئین کی بالادستی یا منظم انتشار

سیاسی قضیے: 17 مئی، 2018

آئین کی اہمیت کو سمجھنا ہو تو ایک ایسے معاشرے کو تصور میں لانا چاہیے، جہاں آئین سرے سے موجود ہی نہ ہو۔ یا ایک ایسے معاشرے کو متصور کرنا چاہیے، جہاں آئین موجود تو ہو، مگر اس پر عمل درآمد صرف نام کے لیے ہو۔ یعنی اس پر عمل درآمد نہ ہوتا ہو۔

بالخصوص جب اورنگ زیب کی حکومت ختم ہوئی، اس وقت کا برصغیر، ایک ایسا ہی ایسا معاشرہ تھا، جہاں آئین سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ آئین تو اس سے قبل بھی موجود نہیں تھا، مگر ایک مضبوط اور ’’دانا‘‘ حاکم مضبوط حکومت قائم کر لیتا تھا۔ یوں اس کا سکہ چلنے لگتا تھا اور امن و امان قائم رہتا تھا۔ اصل میں یہ طاقت کا آئین ہوتا تھا۔

اورنگ زیب کے بعد، حکومت خود انتشار کا شکار ہو گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر جگہ طاقت ور گروہوں نے اپنی اپنی حکومتیں قائم کر لیں۔ مگر امن و امان قائم نہیں ہوا، بلکہ طوائف الملوکی پھیل گئی، ہر طرف افراتفری کا راج قائم ہو گیا۔ کیونکہ ہر طاقت ور، دوسرے طاقت ور گروہ کے ساتھ برسرِ پیکار تھا۔ یعنی اب طاقت کے متعدد آئین ایک دوسرے کی طاقت کو آزما رہے تھے۔

اب ایک ایسے معاشرے کا تصور کیجیے، جہاں آئین موجود تو ہو، مگر اس پر عمل درآمد مفقود ہو۔ فوراً پاکستان کی طرف دھیان جاتا ہے۔ لیکن اس پر  یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں آئین پر کچھ نہ کچھ عمل درآمد تو ہو رہا ہے۔ یہ تو نہیں کہ اسے بالکل علاحدہ رکھ دیا گیا ہو۔

درست ہے کہ پاکستان میں آئین پر کچھ نہ کچھ عمل تو ہو رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کن چیزوں پر عمل ہو رہا ہے۔

میرے خیال میں، عملاً جن بڑی بڑی چیزوں پر عمل ہو رہا ہے، ان میں سے ایک تو انتخابات ہیں، جن کے نتیجے میں حکومتیں بن جاتی ہیں۔ دوسرے ٹیکس اور ضوابط کے محکمے ہیں، جن کے بغیر ریاست کے اخراجات نہیں چل سکتے۔ تیسرے ۔ ۔ ۔ آئین کی تیسری اور کوئی چیز نہیں، جس پر عمل ہو رہا ہو۔

اس کے برعکس، آئین کی جن بڑی چیزوں پر گذشتہ سات دہائیوں سے عمل نہیں ہو رہا۔ ان میں اول چیز، بلکہ سب سے بڑی چیز تو خود شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔ اور پھر شہریوں کے ان حقوق (آزادیوں) کا تحفظ بھی، آئین جن کی ضمانت دیتا ہے۔

اور اگر آئین کے جوہر پر عمل نہیں ہو رہا، تو پھر اس کا مطلب یہی لیا جا سکتا ہے کہ آئین موجود نہیں۔ اور اگر آئین موجود نہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں طوائف الملوکی، نفسانفسی، افراتفری، انتشار اور ’’خانہ جنگی‘‘ کا دور دورہ ہے۔

یعنی اگر آئین موجود ہو، مگر وہ چیز جو آئین اور ریاست کو جواز مہیا کرتی ہے (یعنی شہریوں کی جان و مال اور ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا)، اس پر عمل نہ ہو رہا ہو، تو اس کا مطلب یہی ہے کہ آئین موجود نہیں۔ کہنے سے مراد یہ ہے کہ آئین کا نہ ہونا اور آئین کا ہونا مگر اس پر عمل درآمد نہ ہونا، ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔

آئین پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے، پاکستان میں افراتفری اور انتشار کی جو حالت موجود ہے، اسے منظم طوائف الملوکی کا نام دیا جانا چاہیے۔ یعنی یہ منظم انتشار ہے۔

منظم انتشار اور منظم نراج کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اسے انتشار اور افراتفری کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ بلکہ منظم انتشار، معاشرے اور ریاست کی تہوں میں جاگزیں انتشار اور افراتفری پر پردہ ڈالتا ہے۔ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ انتشار ہے بھی یا نہیں۔

مگر منظم انتشار کی بڑی پہچان یہ ہوتی ہے کہ پورا معاشرہ غیریقینی صورتِ حال کا شکار ہو جاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آئین پر پوری طرح عمل درآمد ہو رہا ہو، تو نہ صرف منظم انتشار جڑ نہیں پکڑتا، بلکہ غیریقینی صورتِ حال کو پنپنے کا موقع بھی نہیں ملتا۔

یعنی آئین کی بالادستی، ملک و معاشرے میں نظم و ضبط اور حسن و ترتیب پیدا کرتی ہے۔

آئین کی بالادستی، شہریوں کے درمیان تعلقات میں یقین و اعتبار قائم کرتی ہے۔ یہ تعلقات سماجی بھی ہو سکتے ہیں، اور معاشی و کاروباری بھی۔

آئین کی بالادستی، شہریوں کو مستقبل سے مایوس نہیں کرتی، اور ان میں ٹھہراؤ اور امید کو تقویت دیتی ہے۔

آئین کی بالادستی، شہریوں کو جان و مال اور ان کے حقوق (آزادیوں) کا تحفظ مہیا کرتی ہے، اور اُن کے دلوں میں خوف و خدشات پیدا نہیں ہونے دیتی، اور یوں وہ پرسکون اور پرمسرت زندگی گزار سکتے ہیں۔

آئین کی بالادستی، سیاست اور سیاسی معاملات، دونوں میں استحکام پیدا کرتی ہے، جیسے کہ انتخابات کا انعقاد، حکومت کی تبدیلی، وغیرہم۔

اگر آئین کی بالادستی اتنی مفید ہے تو اسے قائم کیوں نہیں کیا جاتا۔ ظاہر ہے کہ کچھ گروہ منظم انتشار میں ہی پھل پھول سکتے ہیں، ان کی بقا اور زندگی اسی میں ہوتی ہے۔ آئین کی بالاستی کے تحت وہ موت سے ہم کنار ہو جاتے ہیں۔ اور یہ بھی کہ منظم انتشار کا نقصان سب سے بڑھ کر عام شہریوں کو ہوتا ہے، جن کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہوتا۔ انھیں ہر کوئی ڈراتا اور لوٹتا ہے، اس میں خود ریاست اور حکومت بھی شامل ہوتی ہیں۔

مگر یہ سوال بے معنی ہو گا کہ کونسے گروہ منظم انتشار پیدا کرتے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ گو کہ اس کا مختصر جواب یہ ہو سکتا ہے کہ منظم انتشار کو ریاستی اشرافیہ ہی جنم دیتی ہے، اور وہی اس سے مستفید بھی ہوتی ہے۔

جو سوال اہم اور ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ جن گروہوں کو شہری یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ آئین کی بالادستی قائم کریں، اگر وہ آئین کی بالادستی قائم نہیں کرتے، تو وہ سب سے بڑے مجرم قرار پاتے ہیں، شہریوں کے بھی اور آئین کے بھی۔

مراد یہ کہ یہ سیاست دان ہیں، جنھیں شہری ووٹ کے ذریعے حکومت کا اختیار دیتے ہیں، تاکہ وہ آئین کی بالادستی قائم کریں۔ مگر سیاست دان، خود ان گروہوں میں شامل ہیں، جو منظم انتشار سے فائدہ اٹھاتے ہیں، وہ آئین کی بالادستی کیوں قائم کریں گے۔

اب یہ ایک علاحدہ بات ہے کہ کسی ایک سیاسی گروہ کو نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے، مگر دوسرے سیاسی گروہ، منظم انتشار سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور اسی کے تحت پھل پھول سکتے ہیں۔ ان میں ایسے سیاسی اور غیرسیاسی گروہ بھی شامل ہوتے ہیں، جنھیں شہری اپنے ووٹ کے ذریعے بااختیار نہیں بناتے۔ صرف منظم انتشار ہی ان کی بقا اور زندگی کو ممکن بناتا ہے۔

سو اگر آج ایک سیاسی جماعت مجرم ہے، تو کل دوسری، اور پرسوں تیسری نشانے پر ہو گی۔ سب سیاسی جماعتیں مجرم ہیں۔ منظم انتشار کی خالق یہی ہیں، اور یہی وہ مجرم ہیں، جو آئین کی بالادستی قائم کر کے، منظم انتشار کو ختم نہیں کرنا چاہتیں۔ کیونکہ منظم انتشار میں ہی ان کا فائدہ ہے۔ عام لوگ جائیں بھاڑ میں، جنھیں منظم انتشار کا سب سے زیادہ نقصان ہوتا ہے اور ہو رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *