مسٹر محمد علی جناح پر جس شخص نے حملہ کیا تھا اسے پانچ سال کی قید عدالت سے ہوئی۔

‘‘عنوان: ’’مسٹر محمد علی جناح پر جس شخص نے حملہ کیا تھا اسے پانچ سال کی قید عدالت سے ہوئی۔

 :نوٹ

میرے پاس ’ماہنامہ رسالہ روحانی عالم ریاست رام پور یوپی‘ کے کچھ شمارے محفوظ ہیں۔ میرے نانا مرزا اکبر بیگ اس کے خریدار تھے، جیسا کہ

صفحہ بارہ پر پتا درج ہے: جناب مرزا اکبربیگ صاحب پکے کوارٹر نمبر۹ لین نمبر۶۸۲ متصل بڑے میاں کا درس لاہور۔ پوسٹ مغلپورہ

اس ماہنامے کے ’محررخصوصی‘ الحاج مولانا مرزا محمود علی صاحب شفق ہیں، اور ’اڈیٹر‘ مرزا واجد علی۔

جیسا کہ اس رسالے کے نام سے عیاں ہے، یہ روحانی معاملات سے تعلق رکھتا ہے، مگر دلچسپی کی بات یہ ہے کہ روحانی معاملات بعد میں آتے ہیں، اور پہلے ہی صفحے پر ’’سیاسی اور ملکی خبریں‘‘ کے تحت قارئین کو امورِ عامہ سے واقفیت مہیا کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں، اس میں ایسے معاملات بھی درج ہیں، جو سماجی و تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔

قیاس کیا جا سکتا ہے کہ انیسویں صدی کے ابتدائی نصف کے اواخر میں سیاسی معاملات میں لوگوں کی دلچسپی خاصی ترقی پر تھی۔

:اس سلسلے کی پہلی قسط ملاحظہ کیجیے

سیاسی اور ملکی خبریں: روحانی عالم ـ دسمبر 1943

جرمن افواج کو ہر محاذ پر شکست ہو رہی ہے۔ علی الخصوص روس کے مقابلہ پر تو بری طرح شکست ہو رہی ہے۔ جو جو علاقہ جرمنی نے فتح کر لیا تھا اب وہ بڑی تیزی سے نکل رہا ہے۔ روس کی سرخ فوج نے جرمنی کو خون میں نہلا دیا ہے۔ گو جرمنی کو ابھی شکست خوردہ نہیں کہہ سکتے لیکن ۱۹۴۳ میں جو فتح جرمنی نے حاصل کر لی اب اس کا اعادہ مشکل ہے۔

جاپان بھی چوروں کی طرح ادھر ادھر کونے جھانکتا پھرتا ہے کہ کسی جگہ موقع مل جائے تو میں کھیل کھیلوں۔ مگر برطانیہ اس قدر ہوشیار ہو چکا ہے کہ اب وہ برما کی سی غفلت نہیں کر سکتا۔ ترکی ابھی غیرجانبدار ہے۔ مگر اب سیاسی ہلچل اس حد تک پہونچ گئی ہے کہ اب اس کا غیر جانبدار رہنا مشکل نظر آتا ہے۔ بہر حال دسمبر اور جنوری کا مہینہ زیادہ پُرآشوب ہے۔ اور اس میں جو نہ ہو جائے وہ تھوڑا ہے۔

مسٹر محمد علی جناح پر جس شخص نے حملہ کیا تھا اسے پانچ سال کی قید عدالت سے ہوئی۔

رام پور اسٹیٹ۔ ۱۷، نومبر ۱۹۴۳ کو ہز ہائی نس دام اقبالہم کی مبارک سالگرہ تھی۔ لیکن یہ تقریب نہایت سادہ تقریب پر منائی گئی۔ اور جشن پر جو رقم صرف کی جاتی تھی وہ جنگی فنڈ میں دے دی گئی ہے۔ دعا ہے کہ ایسی بےشمار سالگرہ خداوند عالم عطا فرمائے۔ آپ کے مبارک عہد میں رعایا کو جس قدر امن اور چین میسر ہوا اس کی نظیر نہیں ملتی۔ اس پُرآشوب زمانہ میں جبکہ دنیا پر گوشۂ عافیت تنگ ہے رامپور کا ایک ادنیٰ اور غریب مزدور بھی دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھاتا اور پاؤں پسار کر آرام کی نیند سوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے عادل اور غریب پرور حکمراں کو قیامت تک ہمارے سروں پر قائم رکھے۔ آمین۔

جناب مرزا محمد ناصرالدین مسعود بیگ صاحب بہادر بالقابہ سکریٹری کونسل بنگال کے واقعات سے ایسے متاثر ہیں کہ دن رات آپ کو چین نہیں ہے۔ آپ کے بنگال فنڈ میں کثیر رقم جمع ہو چکی ہے جس میں سے ایک معقول تعداد اناج کی آپ بنگال کو روانہ کر چکے ہیں اور کر رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ آپ کی کوشش نے ہزاروں نہیں بلکہ بنگال کے لاکھوں فاقہ کش غریبوں کی جان بچائی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی سعی مشکور فرمائے۔ آمین!

ہز ہائی نس دام اقبالہم نے آپ کی جن خدمات کے صلہ میں نومبر ۱۹۴۳سے تنخواہ میں قابلِ قدر اضافہ فرمایا ہے دعا ہے کہ خداوند کریم ایسی بہت سی ترقیاں آپ کو عطا فرمائے۔ آمین!

:نگاہِ اولیں

اس مضمون کو غور سے پڑھیے اور عمل کیجے۔ کاغذ پر حکومت کا کنٹرول ہے۔ ہر اخبار کو راشن کارڈ تقسیم کر دیے جاتے ہیں اور اسی قدر کاغذ مل جاتا ہے جس قدر راشن کارڈ میں درج ہو۔ روحانی عالم کو جو کاغذ دیا جاتا ہے وہ اس قدر ہے کہ میں بارہ صفحہ مشکل سے نکال سکتا ہوں۔ جیسا کہ آپ کئی ماہ سے دیکھ رہے ہیں میں کوشش کر رہا ہوں کہ روحانی عالم کے کاغذ میں اضافہ کر دیا جائے تاکہ میں صفحات زیادہ کر سکوں۔ اس کے لیے آپ سب احباب کی امداد کی ضرورت ہے۔ لہٰذا ہر خریدار ایک ایک خط دہلی کو لکہ دے۔ اگر ٹائپ کرا کر بھیجیں تو زیادہ مناسب ہو گا۔ ورنہ انگریزی میں خط لکھیں۔ اور جو صاحب انگریزی نہ جانتے ہوں وہ اردو میں لکہ دیں۔ مگر اس میں سستی نہ کریں۔ آج ہی خط لکہ دیں۔ مضمون یہ لکہیے۔

جنابِ والا۔ رسالہ ’’روحانی عالم‘‘ رام پور اسٹیٹ یو ۔ پی کو جو کاغذ دیا جاتا ہے وہ بہت کم ہے۔ ہم لوگ جو اس سے فائدہ پاتے تھے وہ مضامین کم ہو جانے کے سبب سے جاتا رہا۔ نیز ہم اس رسالے کے ذریعہ سے جنگی خبریں بھی معلوم کیا کرتے تھے جو کاغذ کی کمی کے باعث معلوم نہیں کر سکتے۔ برائے نوازش روحانی عالم کے کاغذ میں اضافہ کر دیا جائے۔ نیچے اپنا نام اور پتہ لکہیے۔

خط بھیجنے کا پتہ ہے۔ جناب چیف کنٹرلر صاحب بہادر ایمپورٹ۔ نئی دہلی

:جب اور اب

کوئی وقت تھا کہ ہندوستانی لوگ بجائے پانی کے دودھ اور گھی پیتے تھے۔ آج وہ وقت ہے کہ پانی بھی نہیں ملتا۔ ذیل کے نقشے سے جب اور اب کی حالت کرو۔

اور اجناس کے نرخ معلوم نہ ہو سکے۔ اب جو کچھ حالت ہے اس سے اندازہ کرو کہ پہلے لوگ کس قدر خوش نصیب اور فارغ البال تھے۔

:ساہوکارہ

لاہور ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس سر ڈوگلس ینگ نے بوائے سکاؤٹ بلیٹن میں ایک آرٹیکل لکھا ہے کہ ساہوکارہ نظام قطعی بند کر دیا جائے۔ چار کروڑ روپیہ سالانہ ساہوکاران زمینداروں سے صرف پنجاب میں وصول کر لیتے ہیں۔ جس قدر قانون اس ظالماہ بدعت کو روکنے کے لئے بنائے گئے سب غلط اور ناکارہ ہیں۔ اس کا واحد علاج یہ ہی ہے کہ قرض کا لین دین قانوناً ہی بند کر دیا جائے۔ ہندو اخبارات سے تو اس معاملہ میں ہمنوا ہونے کی امید نہیں لیکن مسلمان اور یورپین پریس متفق ہو کر آواز بلند کریں تو قرضے کی لعنت ہندوستان سے دور ہو سکتی ہے۔ اس معاملہ میں برطانوی راج نے بھی بڑی مدد کی اور بےشمار خاندانوں کی جائدادیں تلف کرا دیں۔ اب بھی وقت ہے کہ حکومت اپنی غلطی کا احساس کرے اور بہت جلد قانون کی رو سے اس بدعت کو بند کردے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *