انتخابات یا لاٹری

سیاسی قضیے: 3 مئی، 2018

کتنے برس کبھی اِس سیاسی جماعت، کبھی اُس سیاسی جماعت کے ساتھ لگے رہنے کے بعد، اب یہ بات سمجھ آئی ہے کہ یہاں ہونے والے انتخابات تو لاٹری کی طرح ہیں۔

یہ بات ایک علاحدہ معاملہ ہے کہ کونسے انتخابات شفاف اور منصفانہ تھے یا نہیں تھے۔

پہلے پہل میں پیپلز پارٹی کا حامی رہا۔ لیکن ذوالفقار علی بھٹو کا فسطائی چہرہ سامنے آنے پر یہ ساتھ ختم ہو گیا۔ اور 1977 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی طرف سے بڑے پیمانے پر دھاندلی اور فسطائی ہتھکنڈوں کے استعمال کے بعد پی این اے (پاکستان نیشنل الائینس) کی احتجاجی تحریک کا ساتھ دیا۔

بیچ میں خاصے عرصے تک کوئی سیاسی وابستگی نہیں رہی۔  بلکہ اصل وابستگی بائیں بازو کے فلسفے کے ساتھ تھی۔

مگر پیپلز پارٹی کی مخالفت سر پر سوار تھی۔ دھوکہ بہت بڑا تھا، جسے میں عام لوگوں کے ساتھ ’’پہلا عظیم دھوکہ‘‘ کہتا ہوں۔ ’’دوسرا عظیم دھوکہ‘‘ ابھی عبوری دور میں ہے۔ یہ تحریکِ انصاف کی سیاست سے عبارت ہے۔

اس اثنا میں مسلم لیگ ن ایک سیاسی قوت بن کر سامنے آ چکی تھی۔ سو رفتہ رفتہ وابستگی کو پھر ایک ٹھکانہ میسر آ گیا۔

لیکن 2008 کے انتخابات اور پھر 2013کے انتخابات نے بہت کچھ منکشف کیا۔

خود میں نے پاکستان کی سیاست، معیشت اور ریاست پر بہت کچھ لکھا۔ دو کتابوں نے بہت کچھ کھول کر سامنے رکھ دیا: ایک تو ’’پاکستان میں ریاستی اشرافیہ کا عروج‘‘ (2012) اور دوسری دو جلدوں میں، ’’عمرانی معاہدے کی تشکیلِ نو: انسانی معاشرے کی تنظیم کے اصول‘‘ (2017) ہے۔

2008 کے انتخابات میں ابھی میں یہ سمجھتا تھا کہ کسی جماعت کو کسی ایک اچھی پالیسی پر ووٹ دیا جا سکتا ہے۔ سو معزول ججوں کی بحالی کے وعدے پر ووٹ دیا۔

2013 کے انتخابات میں ایک فسطائی جماعت کے تدارک کے لیے ایک اور جماعت کو ووٹ کا مستحق سمجھا۔

بہت عرصے سے یہ بات بھی سننے میں آتی رہی تھی کہ ایک ووٹ ’’ہمدردی کا ووٹ‘‘ ہوتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ 2008 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو جو ووٹ ملا، وہ ہمدردی کا ووٹ تھا۔ کیونکہ دسمبر 2008 میں بے نظیر بھٹو کا قتل ہو گیا تھا۔

پھر ایک یہ ’’نظریہ‘‘ بھی رائج ہے کہ جس جماعت کو سیکیوریٹی ایسٹیبلش مینٹ جتنی قوت سے منظر سے ہٹاتی ہے یا ہٹانے کی کوشش کرتی ہے، وہ اتنی ہی زیادہ طاقت سے واپس ابھرتی ہے۔

اس نظریے کی پشت پر بھی وہی ’’ہمدری کے ووٹ‘‘ کا نظریہ ہے۔ یعنی جس جماعت کو دبایا جاتا ہے، یا جس کے ساتھ ناانصافی برتی جاتی ہے، اسے لوگوں کی ہمدردیاں حاصل ہو جاتی ہیں، اور یوں وہ جماعت انتخابات میں غیرمعمولی کامیابی حاصل کر لیتی ہے۔

مثال کے طور پر جیسا کہ گذشتہ برس سے نواز شریف اور مسلم لیگ ن کے دوسرے لیڈرروں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، جس میں عدالتوں اور قومی احتساب بیورو میں چلنے والے مقدمات اور نااہلیاں شامل ہیں، اس کی بنیاد پر یہ کہا جا رہا ہے کہ اس برس ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ ن کو ہمدردی کا ووٹ ملے گا۔

خود مسلم لیگ ن بھی ایک ایسے ہی بیانیے کو زور شور سے فروغ دے رہی ہے، جو مسلم لیگ کی لیڈرشپ کو ’’مظلوم‘‘ بنا کر پیش کرتا ہے، یعنی یہ کہ انھیں انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

قطع نظر اس سے کہ انھیں انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، یا نہیں، اتنی بات عیاں ہے کہ احتساب تو ہو رہا ہے، لیکن غیرمنصفانہ انداز میں۔ یعنی درست چیز، غلط انداز میں ہو رہی ہے، اور یوں درست چیز بھی غلط بن جاتی ہے۔

خیر جب انتخابات ہو جاتے ہیں، اور جو جماعت حکومت بناتی ہے، یا کسی دوسری جماعت یا جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بناتی ہے، وہ بے قابو ہو جاتی ہے۔

وہ اپنا اولین اور بنیادی فریضہ بھول جاتی ہے: یعنی آئین کی بالادستی قائم کرنا۔

وہ یہ بھول جاتی ہے کہ ووٹروں نے اسے جو اختیار دیا ہے، وہ ملک کے آئین کے تقاضوں کا پابند ہے۔

وہ یہ بھول جاتی ہے کہ جو اختیار اسے دیا گیا ہے، وہ اس اختیار کو آئینی حدود کے اندر استعمال کر سکتی ہے۔

وہ یہ بھول جاتی ہے کہ اگر وہ اس آئینی اختیار میں کسی کو شریک بناتی ہے، خواہ یہ رضا مندی سے ہو، یا دھونس اور طاقت کے ذریعے، تو وہ آئین سے انحراف کی مرتکب ٹھہرتی ہے۔

لیکن ہر حکومت، یہ کسی بھی جماعت کی ہو، ملنے والے آئینی اختیار کو یا آئین کو طاق میں رکھ دیتی ہے، اور مطلق العنانہ انداز میں حاکم بن کر موج اڑانے لگتی ہے۔ وہ اپنے اولین اور بنیادی فرائض سے غافل ہو جاتی ہے۔

اور جب اس کی حکومت ختم ہوتی ہے، چاہے یہ آئینی مدت پوری کر کے ختم ہوئی ہو، یا کسی اور انداز میں، تو اسے یاد آتا ہے کہ اسے تو پورا اختیار ملا ہی نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اختیار ملنے یا نہ ملنے والی بات سراسر غیرآئینی ہے۔ جب کوئی جماعت انتخابات میں کامیاب ہو گئی، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں نے اسے حکومت کا اختیار دے دیا۔ اب اگر اس نے اس اختیار کو سمجھا ہی نہیں، اور اسے پورے طور پر استعمال نہیں کیا، تو یہ چیز آئینی انحراف کے زمرے میں آتی ہے۔ وہ حکومت کیسے کہہ سکتی ہے کہ اسے اختیار ملا ہی نہیں۔ لوگوں کے ووٹوں نے اسے بااختیار بنایا، کسی اور کو نہیں۔

اس سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ انتخابات، شفاف ہوں یا غیر شفاف، منصفانہ ہوں یا غیرمنصفانہ، سیاسی جماعتوں کے لیے یہ ایک لاٹری کی طرح ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی قسمت جاگ اٹھتی ہے۔ کیونکہ کسی سیاسی جماعت کے لیے آئین کی بالادستی قائم کرنا، کوئی معنی نہیں رکھتا۔ انھیں صرف حکومت چاہیے ہوتی ہے، تاکہ یہ حکومت نہیں، بادشاہت کر سکیں۔

اور یہی سبب ہے کہ انتخابات کبھی آئینی معاملات پر نہیں لڑے جاتے۔ کوشش یہی کی جاتی ہے کہ ہمدردی کا ووٹ حاصل کر لیا جائے۔ خواہ یہ کہنا پڑے کہ ہمیں تو پورا اختیار نہیں ملا۔ ہمارے ساتھ یہ ہو گیا، ہمارے ساتھ وہ ہو گیا۔

کیا کوئی ایک حکومت بھی ایسی گنوائی جا سکتی ہے، جس نے آئین کی بالادستی قائم کی ہو۔ کوئی نہیں۔

جبکہ یہ بات واضح ہے کہ جب کوئی سیاسی جماعت انتخابات کے نتیجے میں حکومت میں آتی ہے، تو یہ آئین کے ذریعے ممکن ہوا ہوتا ہے۔ اور یہی سیاسی جماعت، حکومت میں آ کر آئین کو بھول جاتی ہے۔ آئینی تقاضوں کو بھول جاتی ہے۔

یہی چیز ایک گھناؤنا چکر (وِشَس سائیکل) ہے۔ یعنی انتخابات ہوتے رہتے ہیں، سیاسی جماعتیں حکومت میں آتی رہتی ہیں۔ اور حکومت سے باہر آ کر بے اختیاری کا رونا روتی رہتی ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود، آئین کی بالادستی قائم نہیں ہوتی۔ بلکہ آئین سے انحراف بڑھتا جاتا ہے۔ اور یہ گھناؤنا چکر یونہی گھومتا رہتا ہے۔

ایسے میں انتخابات کو لاٹری کا نام نہ دیا جائے تو کیا کہا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *