اشرافیہ کی سیاست اور ’’پشتون تحفظ موومینٹ‘‘ کی سیاست

سیاسی قضیے: 15اپریل، 2018

اشرافیہ کی سیاست، بخشنے، عطا کرنے،  دینے اور دان کرنے سے عبارت ہے۔

جیسے روٹی، کپڑا اور مکان دینے کا نعرہ۔

یا پھر بلا تعطل بجلی کی فراہمی۔ یا جیسے کہ سڑکیں، پبلک ٹرانسپورٹ، وغیرہ۔

اور ایسی ہی دوسری چیزیں، جو وقت اور موقعے کی مناسبت سے اشرافی سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور کا حصہ بنتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی جماعتیں اور ان کے سربراہ یہ چیزیں لوگوں کو اپنے پیسے سے مہیا کرتے ہیں۔

اس کا صاف جواب ہے: قطعاً نہیں۔

خواہ یہ روٹی، کپڑا اور مکان ہو، یا بجلی، یا کوئی اور چیز۔ یہ تمام چیزیں لوگوں کو قیمتاً مہیا کی جاتی ہیں۔ اور نجی کاروباروں کی نسبت کہیں زیادہ مہنگی قیمت پر۔ اگر کوئی چیز کبھی ’’مفت‘‘ کہہ کر مہیا کی جاتی ہے، تو اس کی قیمت بھی لوگوں سے ٹیکس کی صورت میں وصول کی جا رہی ہوتی ہے۔

یعنی اشرافیہ کی سیاست، جو بڑے دھارے کی سیاست کہلاتی ہے، لوگوں کو جو چیزیں مہیا کرنے کی دعوے دار ہوتی ہے، وہ اس کے لیے پیسہ لوگوں سے ہی وصول کرتی ہے۔ یوں یہ سیاست جھوٹ اور فریب پر مبنی ہوتی ہے۔

اجلافیہ، یا غیراشرافیہ کی سیاست، اس کے بالکل برعکس، کوئی چیزی بخشنے، دینے، عطا کرنے یا دان کرنے سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔

اجلافیہ کی سیاست اس حقیقت پر مبنی ہوتی ہے کہ لوگ اپنی روزی روٹی خود اپنی محنت سے کماتے ہیں۔ انھیں جو چیز درکار ہوتی ہے، وہ اپنی جان اور اپنے کمائے ہوئے مال کا تحفظ ہے۔ اور اپنی عزت و توقیر کا تحفظ، اور اس کے ساتھ ان کے وہ بنیادی حقوق اور آزادیوں کا تحفظ، جن کی ضمانت آئین دیتا ہے۔

پاکستان میں اجلافیہ کی سیاست کی مثالیں قریب قریب ناپید ہیں۔

اجلافیہ کی سیاست کی تازہ ترین مثال ’’پشتون تحفظ موومینٹ‘‘ یا ’’پی ٹی ایم‘‘ ہے، جس کے قائدین منظور پشتین، محسن داوڑ اور علی وزیر، وغیرہ، ہیں۔

یہ ریاست سے کچھ نہیں مانگ رہے۔ نہ روٹی، کپڑا، اور نہ مکان۔ اور نہ کوئی اور چیز۔

پی ٹی ایم، ریاست سے پشتون افراد کے لیے صرف باعزت طریقے سے جینے کا حق مانگ رہی ہے۔ یہ کہنا بھی غلط ہے کہ مانگ رہی ہے۔ یہ تو ان کا فطری اور ناقابلِ انتقال حق ہے۔ مگر چونکہ اسے ریاست نے غصب کیا ہوا ہے، گو کہ یہ آئین میں بھی درج ہے، لہذا، اس حق کو مانگنا پڑ رہا ہے۔

اب ایک طرف بڑے دھارے کی اشرافیہ کی سیاست ہے، اور دوسری طرف چھوٹے دھارے کی اجلافیہ کی سیاست۔ اجلافیہ کی سیاست کو چھوٹے دھارے کی سیاست اس لیے کہنا پڑ رہا ہے کہ بڑے دھارے کی سیاست اس سے خوف زدہ ہے۔ جبکہ یہ اجلافیہ کی سیاست ہے، جو اصل سیاست ہے، اور اشرافیہ کی سیاست، جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، جھوٹ اور فریب کی سیاست ہے۔

تمام بڑی سیاسی جماعتیں، خواہ یہ عوامی نیشنل پارٹی ہے، یا تحریکِ انصاف، یا پیپلز پارٹی، یا مسلم لیگ نون، سب کی سب، ’’پی ٹی ایم‘‘ کی مقبولیت اور اس کے مطالبات سے گھبرائی ہوئی ہیں۔ ’’پی ٹی ایم‘‘ کی سیاست، اشرافی سیاسی جماعتوں کی جھوٹ اور فریب کی سیاست کے لیے بڑا خطرہ ثابت ہو رہی ہے۔ یہی سبب ہے کہ وہ اپنے حامیوں کو یا تو اس سے علاحدہ رہنے کی ہدایت دے رہی ہیں، یا پھر ’’پی ٹی ایم‘‘ کے بارے میں سرپرستانہ رویے کا اظہار کر رہی ہیں۔ بلکہ متعدد دانشور بھی سرپرستانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔

یہی وہ سبب ہے جس کے تحت برقی میڈیا اور اخبارات بھی ’’پی ٹی ایم‘‘ کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے مفادات کو اشرافیہ کی سیاست سے جوڑا ہوا ہے۔

سو یہ بات صاف ہے کہ ’’پی ٹی ایم‘‘ بنیادی انفرادی حقوق اور آزادیوں کی سیاست کا پرچم اٹھائے ہوئے ہے۔ جبکہ تمام دوسری جماعتیں، اشرافیہ کی جھوٹ اور فریب کی سیاست، یعنی بخشش کی سیاست کی علم بردار ہیں۔

آخر میں جس سوال کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے، وہ یہ ہے کہ آیا آئین میں یقینی بنائے گئے بنیادی انفرادی حقوق اور آزادیاں پاکستان کے دوسرے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو دستیاب ہیں یا نہیں۔

اس ضمن میں میری رائے یہ ہے کہ پشتون علاقوں سے ہٹ کر، دوسرے علاقوں میں رہنے والے عام پاکستانی شہریوں کو بھی آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق اور عزتِ نفس کا تحفظ دستیاب نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے تمام عام شہریوں کو بھی، اشرافی سیاست سے علاحدہ ہو کر، اپنے بنیادی انفرادی حقوق اور عزتِ نفس کے تحفظ کی تحریک شروع کرنی ہو گی، اور اس کے لیے اس سے بہتر وقت اور کب ملے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *