آرائشی سیاست اور اس کے پرستار

سیاسی قضیے: 7 اپریل، 2018

آرائشی سیاست اتنی نقصان دہ نہیں، جتنا نقصان دہ آرائشی سیاست کے پرستار ہیں۔

سبب اس کا یہ ہے کہ یہ آرائشی سیاست کے پرستار ہی ہیں، جو اسے زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

اس کا تجربہ مجھے کچھ ہفتے قبل ہوا۔

جب سینیٹ کے انتخابات کے لیے امیدوار نامزد کیے جا رہے تھے، تو پیپلز پارٹی نے کرشنا کماری کوہلی کو سینیٹ کا ٹکٹ دیا۔ اس پر ایک نعرہِ مستانہ بلند ہوا، اور تعریف و تحسین کے ڈونگرے برسنے شروع ہو گئے کہ پیپلز پارٹی نے کیا کمال کر دیا: ایک اقلیتی فرد اور پھر وہ بھی عورت کو سینیٹ کا ٹکٹ دے دیا۔

چونکہ میں ٹویٹر پر کچھ سرگرم رہتا ہوں، وہاں تو جیسے ’’عید‘‘ کا سماں تھا۔ میں نے دخل در معقولات کیا اور لکھا کہ بھئی یہ آرائشی سیاست ہے، جو محض نمائش کے لیے ہے، اس سے کیا فرق پڑ جائے گا۔ اور یہ کہ پیپلز پارٹی اور دوسری جماعتیں بھی یہ کھیل کھیلتی رہتی ہیں، ہمیں ان کے اس دھوکے میں نہیں آنا چاہیے، اور یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ حقیقی تبدیلی کے لیے طویل مدتی اقدامات اٹھا رہی ہیں یا نہیں۔
مجھ سے اختلاف کیا گیا، اور کہا گیا: ’ہمیں ہر اچھے کام کی تحسین کرنی چاہیے۔

اتنا کہہ کر میری بات کو نظرانداز کر دیا گیا، کیونکہ استدلال کسی کو پسند نہیں۔

میری دلیل یہ تھی کہ اگر آرائشی سیاست، بے اصولی سیاست اور اقتداری سیاست کی پردہ پوشی کے لیے ہو، تو اس کی تعریف کیونکر کی جا سکتی ہے۔ کسی نے میری بات نہیں سنی؛ وہ تو پہلے ہی آگے بڑھ گئے تھے۔

ہاں، کچھ اور لوگ تھے، جو پیپلز پارٹی کا جھنڈا لے کر یلغار پر اُتر آئے۔  یہ جیالے تھے۔ وہ کرشنا کماری کوہلی کی نامزدگی کو ایک بڑا کارنامہ قرار دے رہے تھے۔ میں نے کہا: ’ستر برس ہو رہے ہیں، جو کچھ ہونا چاہیے تھا، وہ تو ہوا نہیں، یہ نامزدگی اتنا بڑا کارنامہ کیسے بن گئی۔‘ ان جیالوں کے لیے ستر برس کی کوئی اہمیت نہیں۔

ایک خاتون نے تو یہاں تک کہہ دیا: ’یہ انقلاب کی ابتدا ہے۔ اب دیکھنا پیپلز پارٹی کیا کیا کچھ کرتی ہے۔

اس بیچ، میں نے اپنی رائے کی مزید وضاحت ضرور کی کہ آرائشی سیاست کے دلدادہ اس نامزدگی کی مخالفت کریں نہ کریں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ کرشنا کماری کوہلی کو پیپلز پارٹی کا یہ ٹکٹ قبول نہیں کرنا چاہیے تھا، اور پیپلز پارٹی کو یہ بات سمجھانی چاہیے تھی کہ اقلیتوں کے جان و مال اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے تو آپ کچھ کرتے نہیں، اس عنایت سے کیا انقلاب آ جائے گا۔

لیکن کیا کیا جائے، یہاں قریب قریب ہر فرد، انفرادی انقلاب کے لیے کوشاں ہے۔ کرشنا کماری کوہلی کے لیے تو یہ انقلاب کے مترادف ہی ہے۔

مگر بے چارے آرائشی سیاست کے پرستار کیا کریں، وہ بھی شاید ستر برس سے ایسے ہی آرائشی کاموں کی تحسین میں جُٹے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس یہ سوچنے کا وقت نہیں کہ ایک چیز سیاست کا طویل مدتی تناظر بھی ہوتا ہے، کسی بھی سیاسی جماعت کی سیاست کو اس تناظر میں رکھ کر بھی دیکھنا چاہیے۔ اگر ایسا نہیں کر سکتے تو سینیٹ کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے جو دو رنگ دکھائے، ان پر ہی نظر ڈال لیں۔ یعنی ایک طرف کرشنا کماری کوہلی کو سینیٹ کا ٹکٹ دے کر ’’واہ واہ‘‘ کروا لی، اور دوسری طرف ان انتخابات اور پھر چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں بے اصولی اور اقتداری سیاست سے بھی خوب فائدہ اٹھا لیا۔

ان دو چیزوں کو ترازو میں رکھ کر تول لیں، اور دیکھ لیں آرائشی سیاست کیا ہوتی ہے، اور کیوں کی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ ہر جماعت آرائشی سیاست کرتی ہے، لیکن اگر اس سیاست کو سراہنے والے نہ ہوں، اور اس سیاست کے لیے جنھیں استعمال کیا جاتا ہے، وہ اس سیاست کے لیے استعمال نہ ہوں، جیسے کہ کرشنا کماری کوہلی پیپلز پارٹی کی آرائشی سیاست کا آلۂ کار بنیں، تو اس قسم کی نمائشی سیاست اپنی موت آپ مر جائے گی۔

آخری بات یہ کہ خود آرائشی سیاست، کسی سیاسی جماعت اور اس کی سیاست کو جانچنے اور تولنے کا پیمانہ نہیں۔ یہ پیمانہ صرف اور صرف اقدار ہیں؛ یعنی اخلاقی اقدار، اور پھر جمہوری اقدار۔ یعنی کوئی سیاسی جماعت اخلاقی اور جمہوری اقدار کی پیروی کرتی ہے یا نہیں، اور یہ بات جاننے کے لیے ایک عرصہ درکار ہوتا ہے، جب کوئی سیاسی جماعت سیاست کے گرم و سرد سے گزرتی ہے۔

مراد یہ کہ کوئی سیاسی جماعت اخلاقی و جمہوری اقدار کی پابند ہے یا نہیں، صرف یہی ایک پیمانہ ہے جس پر کسی سیاسی جماعت اور اس کی سیاست کو جانچا جا سکتا ہے۔ اور اگر کوئی سیاسی جماعت اخلاقی اور جمہوری اقدار کی پیروی نہیں کرتی، تو یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ یہ صرف اور صرف بے اصولی اور اقتداری سیاست کی حامل اور موقع پرست ہے، اور اقتدار کے حصول کے لیے سب کچھ کر سکتی ہے۔ اور یہ چیز شک وشبے سے بالا ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کی سیاست بے اصولی اور اقتدارپسندی سے عبارت ہے۔ یہ جب چاہتی ہیں، اقدار کو اپنا لیتی ہیں، جب اقتدار کے لیے سب کچھ کرنے پر آمادہ ہو جاتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *