میرا ووٹ کسی مظلوم و مجبور کے لیے نہیں

سیاسی قضیے: پیر 31 مارچ، 2018

جب میں نے گورنمینٹ کالج، لاہور، سال اول میں داخلہ لیا، تو سٹوڈینٹس یونین کے پہلے انتخاب میں ہی ایک حیران کن چیز دیکھنے کو ملی۔ ایک طرف راوینز فرنٹ تھا، دوسری طرف انجمنِ طلبۂ اسلام، اور تیسری طرف اسلامی جمیعتِ طلبہ۔ انتخاب سے ایک دن قبل، انجمنِ طلبۂ اسلام کے امیدوار کالج میں نمودار ہوئے، تو زخموں اور پٹیوں سے لدے پھندے۔ ہم سب پریشان اور متجسس تھے، ایسا ظلم کس نے کیا۔ الزام ایک طلبہ تنظیم پر لگایا جا رہا تھا۔ آپ قیاس کر سکتے ہیں کس پر۔

بعد ازاں، کھُلا کہ یہ ’’میک اپ‘‘ انتخاب جیتنے کا ایک حربہ تھا۔

تو کیا ایسا ہوتا ہے کہ لوگ، زخمی امیدوار کو مظلوم و مجبور سمجھ کر ووٹ بھی دے دیتے ہیں۔ میں آج بھی اس سوال سے دوچار ہوں۔

ہاں، ایسے لوگوں کو بھیک تو دی جاتی ہے، اور ان کی مدد بھی کی جاتی ہے۔ مگر ایسے لوگوں کو ووٹ کیوں دیا جاتا ہے۔ یا ایسے لوگوں کو ووٹ کیوں دیا جائے؟

ابھی 2008 کے عام انتخابات کی بات ہے۔ 27 دسمبر،  2007 کو بے نظیر بھٹو کا قتل ہوا، اور جب پیپلز پارٹی ان انتخابات میں اکثریتی جماعت کی حیثیت سے سامنے آئی، تو قریب قریب متفقہ طور پر یہ کہا گیا کہ پیپلز پارٹی کو ’’ہمدردی‘‘ کا ووٹ ملا ہے۔

اب جبکہ نواز شریف نااہل قرار پا چکے ہیں؛ وہ اور ان کی جماعت خود کو ایک مظلوم کے طور پر پیش کر رہے ہیں، تو یہ بات عیاں ہے کہ وہ خود کو ’’مظلوم‘‘ ثابت کر کے لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وہ تجزیہ ہے، جس کی بنا پر یہ کہا جا رہا ہے کہ آنے والے عام انتخابات میں مسلم لیگ نمایاں اکثریت سے جیت جائے گی۔

یہ تجزیے درست ہیں یا نہیں، یہ چیز اہم نہیں۔ جو سوال اہم ہے، وہ یہ ہے کہ آیا جو سیاست دان ایسے حیلے اور حربے استعمال کرتے ہیں، انھیں ووٹ دیا جانا چاہیے یا نہیں۔

معاملہ یہ ہے کہ جیسے بھکاری بھیک مانگنے کے ضمن میں اپنے تجربے سے سیکھتے ہیں، اسی طرح سیاست دان بھی ووٹ حاصل کرنے کے ضمن میں اپنے تجربات سے سیکھتے ہیں۔

اپنے کالج کے راستے پر، میں نے ایک بھکاری کو اکثر دیکھا۔ اس کے ایک بازو پر زخم ہوتا تھا، اور وہ، وہ زخم دکھا دکھا کر بھیک مانگتا تھا۔ میں اس سے پوچھنا چاہتا تھا، مگر کبھی پوچھ نہیں سکا کہ اس کا یہ زخم مندمل کیوں نہیں ہوتا۔ مگر اسی زخم سے تو اس کی روزی چلتی تھی، وہ اسے بھرنے کیوں دے گا!

اسی طرح، سیاست دان اپنے زخموں کی نمائش جاری رکھتے ہیں۔ ان زخموں کو بھرنے نہیں دیتے۔

’’قربانی کا فلسفہ‘‘ ـ ’’بی بی کی شہادت‘‘ ـ  ’’زرداری کی قید‘‘ ـ ’’میاں صاحب کی ملک بدری‘‘ ـ ـ ـ وغیرہ، سیاسی زخموں کی نمایاں مثالیں ہیں۔

ایک ’’زخم‘‘ بے اختیاری کا بھی ہے، جو ہر حکومت کو کئی برس حکومت کرنے کے بعد یاد آتا ہے۔

ہاں، غالباً کچھ اور چیزیں بھی ہیں، جنھیں زخم کے بجائے، سیاسی جماعتوں کے نقطۂ نظر کی رو سے ’’کارناموں‘‘ کی ذیل میں رکھا جانا چاہیے۔ جیسے کہ ’’ایٹمی دھماکے‘‘ ـ ’’آئینی ترمیمات‘‘ ـ ’’موٹروے‘‘ ـ اور اب میٹروبس، اورنج ٹرین، اور ایسی ہی دوسری چیزیں۔

مگر سیاست دانوں کے متعدد کارنامے ایسے ہوتے ہیں، جن سے عام شہریوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا، مگر وہ انھیں دکھا دکھا کر ووٹ مانگنے سے باز نہیں آتے۔ مثلاً ایٹمی دھماکوں سے شہریوں کو کیا ملا۔ یا ہر بار جمہوریت کی بقا کی جنگ سے شہریوں کو کیا ملا۔ یا اٹھارہویں ترمیم سے عام شہریوں کو کیا ملا۔ کیا کسی بھی چیز کے ثمرات بے مایہ شہریوں تک پہنچے!

بلکہ جمہوریت کو بھی سیاست دانوں کا ایک ’’زخم‘‘ سمجھنا چاہیے، جسے دکھا دکھا کر وہ ووٹ حاصل کرتے ہیں۔

جہاں تک موٹروے، میٹروبس اور اورنج ٹرین، وغیرہ، جیسی چیزوں کا تعلق ہے، تو یہ وہ چیزیں ہیں، جو عام شہریوں کو برسوں ذلیل و خوار کرنے، تڑپانے اور ترسانے کے بعد مہیا کی جارہی ہیں، اور خود یہ سوال بھی اہم ہے کہ یہ چیزیں جن مسائل کا حل بتائی جا رہی ہیں، آیا وہ ان کا بہترین اور کم قیمت حل ہیں بھی یا نہیں۔

تو واپس اس سوال کی طرف آتے ہیں کہ آیا ایسے سیاست دانوں کو ووٹ دیا جانا چاہیے یا نہیں، جو خود کو مظلوم و مجبور ظاہر کرتے ہیں، قطع نظر اس سے کہ وہ مظلوم و مجبور ہوتے ہیں یا نہیں!

میری رائے یہ ہے کہ کسی مظلوم و مجبور سیاست دان کو ووٹ ہرگز نہیں دیا جانا چاہیے۔ جو خود مظلوم و مجبور ہے، وہ دوسروں کے لیے کیا کرے گا!

ووٹ دینے کا مطلب، کسی کو اختیار دینا ہے، تاکہ وہ ریاست کے معاملات اچھے طریقے سے چلا سکے۔ آئین و قانون کی بالادستی قائم کر سکے۔ شہریوں کو بروقت انصاف، اور انھیں جان و مال کا تحفظ دے سکے۔ انھیں آزادی سے اپنی زندگیاں گزارنے کے لیے سازگار ماحول مہیا کر سکے۔

یہ وہ اولین تقاضے ہیں، جن کی تکمیل کے لیے کسی سیاسی جماعت کو ووٹ دیا جاتا ہے۔ اب اگر کوئی سیاسی جماعت یا سیاست دان خود مظلوم و مجبور ہے، یا مظلوم و مجبور بنا ہوا ہے، تو وہ یہ بڑے بڑے کام کیسے کر سکے گا؟

مسلم لیگ ن اور نواز شریف اگر مظلوم و مجبور ہیں، تو وہ آئین و قانون کی بالادستی کیسے قائم کر سکتے ہیں۔

مسلم لیگ ن اور نواز شریف اگر مظلوم و مجبور ہیں، توہ شہریوں کو بروقت انصاف کیسے فراہم کر سکتے ہیں۔

مسلم لیگ ن اور نواز شریف اگر مظلوم و مجبور ہیں، تو وہ شہریوں کو جان و مال کا تحفظ کیسے دے سکتے ہیں۔

مسلم لیگ ن اور نواز شریف اگر مظلوم و مجبور ہیں، تو وہ شہریوں کو ایک ایسا ماحول کیسے مہیا کر سکتے ہیں، جہاں وہ اپنی زندگیاں آزادی سے گزار سکیں۔

تو یہ با ت واضح ہے کہ ایسے سیاست دانوں کو ووٹ نہیں دیا جانا چاہیے، جو خود کو مظلوم و مجبور ظاہر کرتے ہیں، خواہ وہ مسلم لیگ ن کے نواز شریف ہوں۔ یا کسی اور جماعت کا کوئی اور سیاست دان۔

اور ایسے کسی سیاست دان کو بھی ووٹ نہیں دیا جانا چاہیے، جو ’’جمہوریت‘‘ کا زخم دکھا کر ووٹ مانگتا ہے۔

اور یہ بات بھی عیاں ہے کہ  پاکستان میں سب سیاسی جماعتوں نے کوئی نہ کوئی ’’زخم‘‘ پالا ہوا ہے، اور وہ یہ زخم دکھا دکھا کر ووٹ مانگتی ہیں۔ جمہوریت کو تو سب نے اپنا ’’مشترک زخم‘‘ بنایا ہوا ہے۔

کوئی سیاسی جماعت ایسی نہیں، جو دھڑلے سے یہ کہتی ہو:

ہم ووٹ کی طاقت کو آئین و قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔

ہم ووٹ کی طاقت کو شہریوں کو بروقت انصاف فراہم کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔

ہم ووٹ کی طاقت کو شہریوں کو جان و مال کا تحفظ دینے کے لیے استعمال کریں گے۔

ہم ووٹ کی طاقت کو شہریوں کو ایک ایسا ماحول مہیا کرنے کے لیے استعمال کریں گے، جہاں وہ آزادی کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں۔

[اور ستر برس ہو رہے ہیں، عام شہریوں کو تاحال یہ چیزیں دستیاب نہیں ہو سکیں!]

سو اگر پاکستان میں ایسی کوئی سیاسی جماعت وجود رکھتی ہے، تو سامنے آئے، اور ثابت کرے کہ وہ شہریوں کے ووٹ کی حق دار ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *