اگر ملک کے معاملات آئین کے مطابق نہیں چلا سکتے، تو آئین کو تحلیل کر دیں

سیاسی قضیے: اتوار 11 مارچ، 2018

ایک جانور بھی کسی جگہ رہتا ہے تو اسے اس جگہ سے کچھ نہ کچھ لگاؤ ہو جاتا ہے۔ مگر یہ پاکستان کیسا ملک ہے، اس کے اشرافی طبقات کو ستر برس بعد بھی اس ملک، اس کی زمین، اس کے لوگوں سے ذرا بھی تعلق نہیں۔ ملک کی سیاست اور معیشت پر نظر ڈالیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے مالِ غنیمت کو لوٹنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے، اور یہی وہ سبب ہے کہ ہر ادارہ سیاسی ریشہ دوانیوں سے گہنایا ہوا ہے۔

زیادہ دور نہیں جاتے۔ صرف گذشتہ دو حکومتوں کو پیشِ نظر رکھ لیں، یعنی پیپلز پارٹی اور حالیہ مسلم لیگ ن کی حکومت۔ ابھی اس قضیے کو رہنے دیتے ہیں کہ انھوں نے کیا کیا اور ان کی کارکردگی کیسی رہی۔ ابھی صرف یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا کچھ کیا جاتا رہا۔ غالباً انھیں ایک پل چین کا نصیب نہیں ہوا۔ نہ صرف ان دونوں حکومتوں کی، بلکہ بیشتر عام شہریوں کی زندگی بھی اجیرن کی جاتی رہی۔ کون کرتا رہا۔ اس میں خود سیاست دان بھی ملوث ہیں۔

اور عین اس وقت ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے، اور جیسا کہ یہ سمجھا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے، یعنی عدلیہ اور قائمیہ کی طرف اشارے کیے جار ہے ہیں، تو مجھے کسی سے کوئی غرض نہیں۔ خواہ یہ عدلیہ ہے، فوج ہے، یا میڈیا کا ایک بڑا حصہ، یا کوئی اور۔ جی! مجھے ان سے کیا لینا دینا۔ میرا ان سے کیا تعلق۔ میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ اول الذکر کے وجود کا مقصد انصاف مہیا کرنا ہے۔ ثانی الذکر ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہے۔ دونوں کا وجود آئین سے ماخوز ہے، اور آئین سیاست دانوں نے بنایا ہے۔

اور جہاں تک میڈیا کا تعلق ہے، اگر یہ اخلاقی اقدار سے ماورا کوئی چیز ہے، تو ہوتا رہے، مجھے اپنی رائے خود بنانی آتی ہے۔ مجھے اپنی رائے بنانے کے لیے اس کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔

مجھے اگر کوئی تعلق ہے، اگر میرا کسی سے گلہ بنتا ہے، اگر مجھے کسی کو جواب دہ بنانا ہے، اور اگر کوئی میرا مجرم ہے، تو وہ سیاست دان ہیں، جنھیں میں ووٹ دیتا ہوں۔ میری نظر اگر کسی پر ہے، تو یہ صرف اور صرف سیاست دان ہیں۔

ہندوستان کے ایک شہری کی حیثیت سے، میں نے سیاست دانوں کو ووٹ دیا، پاکستان بنانے کے لیے۔

پاکستان کے ایک شہری کی حیثیت سے، میں نے سیاست دانوں کو ووٹ دیا، آئین بنانے کے لیے۔

میں نے سیاست دانوں کو ووٹ دیا، آئین کو نافذ کرنے کے لیے۔

میں نے سیاست دانوں کو ووٹ دیا، آئین کی بالا دستی قائم کرنے کے لیے۔

میں نے سیاست دانوں کو ووٹ دیا، قانون کی حاکمیت قائم کرنے کے لیے۔

پاکستان کے ایک شہری کی حیثیت سے، میں نے سیاست دانوں کو ووٹ دیا، ملک کے ہر شہری کو بنیادی حقوق کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے۔

مگر سیاست دانوں نے نہ صرف شہریوں کے مینڈیٹ کو پامال کیا، بلکہ دوسروں کو بھی اس مینڈیٹ کو پامال کرنے دیا۔

سیاست دانوں نے خود بھی آئین سے کھیلا، اور دوسروں کو بھی کھیلنے دیا۔

سیاست دان ہی اصل ذمے دار ہیں۔ یہی بڑے مجرم ہیں۔

مجھے کسی اور سے کیا لینا دینا، خواہ یہ کوئی بھی ادارہ ہو۔

میں نے جنھیں ووٹ دیا ہے، مجھے ان کا گریبان پکڑنا ہے۔

مجھے سیاست دانوں سے صاف صاف الفاظ میں یہ کہنا ہے کہ اگر وہ ملک کے معاملات آئین کے مطابق نہیں چلا سکتے، تو آئین کو تحلیل کر دیں۔

دیکھا جائے گا، پھر کیا ہوتا ہے!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *