لوگوں کی جیب سے پیسے نکلوانا کوئی پنجاب حکومت سے سیکھے

آج (4 اکتوبر،2017ئ، کو) ”ڈان“ میں ایک چھوٹی سی خبر شائع ہوئی ہے۔ سرخی یہ ہے: غیرمصدقہ نمبر پلیٹوں پر یلغار (”کریک ڈاؤن“) شروع۔ تفصیل اس خبر کی یہ ہے کہ چیف ٹریفک آفیسر نے منگل کو وارڈنز کو غیر مصدقہ نمبر پلیٹوں کی حامل موٹر بائیکوں اور دوسری گاڑیوں پر یلغار میں شدت لانے کی ہدایت کی۔ ٹریفک پولیس کے مطابق اس یلغار میں شد ت لانا اس لیے ضروری ہے، کیونکہ غیرمصدقہ نمبر پلیٹوں والی گاڑیاں دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

سرکاری نمبر پلیٹ

اس خبر نے مہمیز کا کام کیا۔ میں اس معاملے پر گذشتہ ہفتے بھر سے لکھنا چاہ رہا تھا۔ ہوا یوں کہ غالباً پچھلے برس یا ا س سے پچھلے برس جب ان نمبر پلیٹوں کی تشہیر شروع ہوئی، اور چند اخبارات میں دھڑا دھڑ اشتہار چھپنے لگے، تو میں نے یہی سوچا اور سمجھا کہ یہ بھی ان اخباروں کو نوازنے کا طریقہ ہے؛ کیونکہ چند سالوں سے ایسے بے مقصد، یا گیدڑ بھبکیوں سے بھرے اشتہارات روزانہ اخباروں کی زینت بن رہے تھے، اوراب بھی شائع ہو رہے ہیں۔
یہ بھی کہ مصدقہ نمبر پلیٹوں کے اس منصوبے کے ضمن میں عجیب وغریب اقدامات بھی ہوئے۔ جیسے کہ گاڑیوں کے شوروموں پر نمبر پلیٹیں مہیا کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ گاڑیاں خریدیں اور وہیں سے نمبر پلیٹ حاصل کریں۔ اب مجھے یہ پتا نہیں کہ ہر گاڑی خریدنے والے کو اس کا کتنا خرچ اٹھانا پڑ رہا ہے۔
جیسا کہ پہلے کا معمول تھا، گاڑیوں کی نمبر پلیٹ کے لیے ضروری ہدایات موجود تھیں، اور ان ہدایات کے مطابق نہ بنائی جانے والی نمبر پلیٹوں کی حامل گاڑیوں کا چالان کیا جا سکتا تھا۔ مگر اب یہ پالیسی یکسر بدل گئی۔ اب نمبر پلیٹیں، حکومت نے خود اپنے ”بدنام ِ زمانہ“ محکمے ’’ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن‘‘ کے ذریعے بنانے اور مہیا کرنے کی پالیسی اختیار کر لی۔ بہانہ یا جواز دہشت گردی ہے۔ اور یہ کہ جس کی گاڑی پر یہ مصدقہ نمبر پلیٹ آویزاں نہیں ہوتی، اس کی گاڑی پر جوبھی نمبر پلیٹ آویزاں ہو، اسے اس کے سامنے توڑ کر پھینک دیا جاتا ہے، اور چالان بھی ہوتا ہے۔ بلکہ تازہ ہتھیار اس نمبر پلیٹ پر ’سیاہ رنگ مار دینا‘ ہے۔
چونکہ اشتہارات میں نہایت سخت اور درشت قسم کی زبان استعمال ہو رہی تھی، میں نے بھی سوچا کہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے مطلوبہ نمبر پلیٹ حاصل کر لی جائے۔ ویسے یہ حقیقت باربار سامنے آتی ہے کہ پاکستانی حکومت، یا پاکستان کی صوبائی حکومتیں، خود بدمعاشوں والی زبان اور دھمکیوں سے کام لیتی ہیں، جبکہ اصولاً کوئی بھی حکومت ہو، اسے شائستہ زبان استعمال کرنی چاہیے۔ پھر یہ بھی کہ جب کم ظرف اور چھوٹے چھوٹے لوگوں کو ریاستی اور حکومتی اختیار ملتا ہے، تو وہ بدمعاش بن جاتے ہیں؛ کیونکہ ان کو ملنے والے اختیار کے ساتھ جواب دہی منسلک نہیں، اور نہ ہی ان کا احتساب ممکن ہے۔ کیونکہ جو سرکار کے ساتھ منسلک ہے، وہی سچا اور دیانت دار ہے، باقی ہم سب شہری جھوٹے، بد دیانت اور خائن ہیں۔
خیر میں نے کسی سے کہا کہ میری گاڑی کی نمبر پلیٹ کے لیے بھی درخواست جمع کروا دیں۔ اشتہارات میں یہ بتایا جا رہا تھا کہ درخواست دینے والے کو ایک مخصوص عرصے کے اندر نمبر پلیٹ کوریئر کے ذریعے بھجوا دی جائے گی۔ مزید یہ بھی پتا چلا ہے کہ شاید ہی کوئی ہو، جسے نمبر پلیٹ کورئیر کے ذریعے بھیجی گئی ہو؛ یعنی کورئیر کا خرچ بھی محکمے کی جیب میں گیا۔ اور یلغار یا مہم کے ذریعے لوگوں کو ڈرانا اصل میں انھیں مجبور کرنا ہے کہ وہ محکمے میں جائیں، اور کسی نہ کسی طرح نمبر پلیٹ حاصل کریں۔
میں نے کورئیر والی بات پر اعتبار کر لیا۔ درخواست دینے والے نے بتایا کہ کاروں اور مختلف گاڑیوں کے لیے 1200 سو، رکشے کے لیے 750 سو، موٹر سائیکل کے لیے 300 سو روپئے لگیں گے۔ اور یہ کہ ابھی 1200 سوروپئے جمع ہوں گے، اور 300 سو روپئے اوپر سے لگیں گے۔ اس نے مجھ سے کہا کہ کیونکہ ”کریک ڈاؤن“ جاری ہے، تو اگر مصدقہ نمبر پلیٹ جلدی درکار ہے، تو کل 4800 سو روپئے لگیں گے، اور ایک ہفتے کے بعد نمبر پلیٹ مل جائے گی؛ میں نے پوچھا آیا یہ سرکاری فیس ہے، اس نے بتایا، نہیں۔ میں نے سوچا نمبر پلیٹ کی درخواست کی رسید مل جائے گی، اگر کسی اہل کار نے تنگ کیا تو وہ دکھا دوں گا۔
یہ درخواست 30 اپریل 2016ء کو دی گئی تھی۔ نہ کوئی کورئیر آیا، نہ نمبر پلیٹ۔ ابھی چند روز پہلے نعیم نے مجھے فون کیا اور پوچھا کہ کیا آپ کی گاڑی کی نمبر پلیٹ آ گئی ہے، اور اگر نہیں، تو کیا میں نکلوا لاؤں۔ نعیم اپنے کام کے سلسلے میں متعلقہ دفاتر جاتا رہتا ہے۔ میں نے کہا، جی بالکل نکلوا لیں۔ اس نے بتایا کہ درخواست کی رسید اور گاڑی کی رجسٹریشن بک چاہیے ہو گی۔ میں نے یہ دونوں چیزیں اس کے حوالے کر دیں۔ اس نے اگلے روز پھر فون کیا اور پوچھا کہ چونکہ دفتر میں نمبر پلیٹوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے، ڈھونڈنے کے بھی پیسے لگیں گے۔ میں نے بے بسی سے کہا، بھئی دے دیں، اور کیا کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا، 200 سو روپئے اور دینے پڑے اور نمبر پلیٹیں مل گئیں، اوراس 27 ستمبر کو ملیں؛ گویا 17 مہینے بعد۔ اور وہ بھی مزید پیسے دے کر، خود جا کر حاصل کرنی پڑیں۔
جب میں نے پلیٹوں پر نظر ڈالی تو دیکھ کر حیران رہ گیا: ان کی چادر نہایت ہلکی ہے؛ ان میں کونسا سونا لگا ہے کہ ان کے لیے شہریوں کی جیب میں سے اتنی رقم نکلوا لی گئی۔ کل جب یہ خراب ہو گئیں تو کیا ہو گا۔ کیا پھر اتنے ہی پیسے لگیں گے، اور اسی طرح بے بسی کا شکار ہونا پڑے گا۔ ہاں، بس یہ کہ ان پر گاڑی کا نمبر ابھار کر لکھا گیا ہے، اور ایک کوڈ نمبر ان کے پیچھے چھاپا گیا ہے۔
ان سب باتوں کے باوجود، اور اگر اس میں کوریئر کا خرچ بھی شامل کر لیا جائے، تو ان دوعدد نمبر پلیٹوں کی کل لاگت، مثال کے طور پر، کسی بھی طرح 1200 سو روپئے تک نہیں پہنچتی۔ پھر پنجاب حکومت نے یہ کیا کیا۔ کیا یہ محض پیسے نکلوانے کے لیے کیا گیا؟ اور دہشت گردی کو محض بہانہ بنایا گیا؟ میرا یقین ِ واثق یہی ہے۔
خیر، نمبر پلیٹیں ملنے کے بعد، اب انھیں گاڑی پر آویزاں کروانا بھی ایک مسئلہ تھا۔ میں نے سوچا کہ انھیں گاڑی پر اس طرح لگایا جائے کہ نہ تو ان پلیٹوں کو کوئی نقصان پہنچے، کیونکہ یہ بہت نازک ہیں، اور نہ ہی ان کے پیچ ڈھیلے ہونے پائیں کہ مبادا یہ کہیں گر جائیں۔ کیونکہ دونوں صورتوں میں پھر ایک مصیبت جھیلنی پڑے گی، اور مزید پیسے بھی ضائع ہوں گے۔ نمبر پلیٹں لگانے والے نے بتایا کہ چونکہ یہ نمبر پلیٹیں بہت ہلکی چادر کی بنی ہیں، لہٰذا، ہم انھیں اسی سائز کی ایک اورنمبرپلیٹ پر جوڑیں گے، اور پھر آپ کی گاڑی پر ایسے پیچوں کے ذریعے لگائیں گے، جو ڈھیلے نہیں ہوں گے، کیونکہ ان کے آخری سرے پر خم دے دیا جائے گا۔ نمبر پلیٹیں لگانے والے نے صرف 350 روپئے لیے۔ جبکہ اس کی لگائی دونوں پلیٹیں خاصی وزنی اور اچھی چادر کی بنی تھیں، اور ہر پلیٹ پر چھ چھ پیچ بھی لگائے گئے تھے۔ اس کے مقابلے میں، پنجاب حکومت کی طرف سے دی گئی نمبر پلیٹیں یہ سوچ کر بنائی گئی ہیں کہ یہ جلد سے جلد خراب ہوں، تاکہ شہریوں کی جیب سے دوبارہ پھر پیسے نکلوانے کا موقع ہاتھ آئے۔
مجھے نہیں معلوم یہ مخصوص مصدقہ نمبر پلیٹوں کا منصوبہ کس کے ذہن کی اختراع ہے، اور کس نے وزیر ِاعلیٰ کو یہ ”آئیڈیا“ دیا۔ بہر حال قطع نظر اس سے کہ یہ کس ذہن کی اختراع ہے، یا کس کالے چور کا آئیڈیا ہے، اس کی تمام تر ذمے داری صوبے کے چیف ایگزیکٹو پر آتی ہے۔ اگرانھوں نے اسے قبول کیا اور متعلقہ محکمے کو اس پر عمل درآمد کی ہدایت کی، تو انھیں یہ معلوم ہو گا کہ اس پر عمل درآمد اور پھر اس کا نفاذ کیسے ہو گا۔
پہلی بات تو یہ کہ اگر حکومت لوگوں کی جیب میں سے پیسے نکلوانا چاہتی ہے، تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ شہریوں کی جیب میں سے ایک روپیہ نکلوائے گی، اور اس کا عملہ دو روپئے نکلوائے گا۔
دوسری بات یہ کہ یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ ان مصدقہ نمبر پلیٹوں کے ذریعے گاڑیاں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو سکیں گی۔ اس سے قبل بھی گاڑیاں دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی رہی ہیں، اورحکومت نے کسی کا کیا بگاڑ لیا۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ خود حکومت کے اہل کاروں کے ملوث ہوئے بغیر کوئی غیر قانونی کام ممکن نہیں۔
تیسرے یہ کہ آیا ان مصدقہ نمبر پلیٹوں کے ذریعے، ان نمبر پلیٹوں کے ضمن میں جعل سازی کا امکان ختم ہو گیا ہے۔ بالکل نہیں۔ مزید یہ کہ ایسا بھی بالکل ممکن نہیں کہ سڑک پر چلنے والی ہر گاڑی کی نمبر پلیٹ خود بخود پڑتال کے مرحلے سے گزر جائے گی، اور جعلی ہونے کی صورت میں قابل ِ گرفت قرار پائے گی۔ بلکہ اصل مصدقہ نمبر پلیٹ کے ساتھ بھی دہشت گردی کا امکان ختم نہیں ہوتا! اور یہ بھی کہ پہلے دہشت گردی کی وارداتوں میں جو نمبر پلیٹیں استعمال ہوئیں، آیا وہ تمام کی تمام جعلی تھیں، یا ان میں سے کتنی نمبر پلیٹیں اصلی تھیں!
سوال یہ ہے کہ حکومت اپنی، اپنے محکوں، اپنے اہل کاروں کی ناہلی، بددیانتی، بدانتظامی، بدعنوانی، بد زبانی، بد معاشی اور کوتاہی کو کیوں چھپانا چاہتی ہے، اور شہریوں کو اس کا خمیازہ کیوں بھگتنا پڑتا ہے۔ اگر دہشت گردی کو روکنا ہے، تو کیا لوگوں کی جیبوں سے ناجائز اور غیراخلاقی طریقے سے پیسہ نکلوانا ضروری ہے۔ اور آیا یہ نمبر پلیٹیں، خواہ گاڑی کے لیے ہوں، یا رکشے، یا موڑ بائیک کے لیے، کیا ان کی بنوائی پر اتنی لاگت آتی ہے، جتنی قیمت لوگوں سے وصول کی جا رہی ہے۔ اور اس قیمت سے اوپرجو پیسے متعلقہ محکمہ لوگوں کی جیب سے نکلوا رہا ہے، آیا پنجاب حکومت اس سے لاعلم ہے۔ قطعاً نہیں۔ اور اگر لاعلم بھی ہو بھی، تو ذے دار تو یہی کہلائے گی۔
بات یہ ہے کہ اگرکسی صوبے میں کہیں ایک چپڑاسی بھی چند روپے رشوت لے رہا ہے، اور کہیں کسی دفتر میں خواہ کوئی بڑا افسر شاہ، یا کوئی چھوٹا اہل کار بدانتظامی اور بدمعاشی کا مرتکب ہو رہا ہے، تو اس کا ذمے دار صوبے کا وزیر ِ اعلیٰ (چیف ایگزیکٹو) ہے! یہ اصول کسی صورت بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا؛ اور نہ ہی کیا جانا چاہیے!
مزید یہ بھی کہ یہ نمبر پلیٹیں متعلقہ محکمے نے خود تو نہیں بنائی ہوں گی۔ اس کا ٹھیکہ دیا گیا ہو گا۔ اس میں کیا کچھ نہیں ہوا ہو گا، اس ضمن میں کچھ بھی سوچا جا سکتا ہے۔ اور یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ دوعدد نمبر پلیٹوں کی لاگت اس قدر زیادہ کیسے ہو گئی۔ جبکہ اس سے اچھی کوالیٹی کی نمبر پلیٹیں کہیں سے بھی، کسی عام سی نجی دکان سے، کہیں کم قیمت پر، جیسے کہ 300 یا 400 سو روپئے میں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ بلکہ شاید یہ رقم بھی زیادہ ہے۔
مجھے یا د ہے، چند برس قبل، اسی طرح کے ایک اور منصوبے پر عمل ہوا تھا۔ غالباً یہ بھی دہشت گردی کے تدارک سے تعلق رکھتا تھا، یا رکھتا ہو گا۔ (اور کیسی حیرانی اور بدنصیبی کی بات ہے کہ دہشت گردی میں مرتے بھی ہم لوگ ہیں، اور جب دہشت گردی کے تدارک کے لیے کوئی صحیح غلط اقدام کیا جاتا ہے، تو اس کا خرچ اور پھر اوپر کا خرچ بھی ہم عام لوگوں کو اٹھانا پڑتا ہے! وائے قسمت! کیسی ریاست میں پیدا ہو گئے!) اس منصوبے کے تحت، گاڑیوں کی دونوں سکرینوں پر گاڑی کا نمبر اور شاید چیسز نمبر، وغیرہ، کسی مشین کے ذریعے لکھے جاتے تھے۔ مجھے بھی اس وقت، اس مرحلے سے گزرنا پڑا تھا۔ وہ منصوبہ کیا ہوا؟ کیا اس منصوبے کے مقاصد حاصل ہوئے؟ یا وہ منصوبہ اپنی موت آپ مر گیا ؟ جیسے کہ یہ نمبر پلیٹوں والا منصوبہ بالآخر اپنی موت آپ مر جائے گا؟ یا پھر وہ اور یہ دونوں منصوبے، اور دوسرے لاتعداد اسی طرح کے منصوبے، بس کسی ایرے غیرے کو نوازنے کے لیے ہوتے ہیں؟
ایسے منصوبوں کو نام تو ہمیشہ ایسے ہی دیے جاتے ہیں، جن پر کوئی حرف نہ اٹھا سکے۔ مراد یہ کہ ہر کام کے پیچھے جو نیت ظاہر کی جاتی ہے، وہ لوگوں پر ایک طرح کا احسان ہوتا ہے، جبکہ خود یہ کام لوگوں کی جیبوں سے پیسے نکلوانے کے علاوہ کسی اور چیز پر منتج نہیں ہوتا۔ غالباً ایک دو سالوں میں یہ نمبر پلیٹوں کا منصوبہ بھی ٹھکانے لگ جائے گا۔ ہاں، یہ منصوبہ اگر کسی کا شوق ہوگا، وہ تو پورا ہو گیا۔ بلکہ حکومت نے پورا کر دیا۔ جیسے لاہور کے چند انڈر پاسوں کی اندرونی چھتوں اور دیواروں پر رنگین بیل بوٹے بنانے کا منصوبہ۔ خبر نہیں کسے ایسی” پیسہ بناؤ“ باتیں سوجھتی ہیں۔ لیکن ایک بات صاف ہے کہ جب موقع میسر ہو، اور رسائی بھی ممکن ہو، تو ہر کسی کو کوئی نہ کوئی ”آئیڈیا“ سوجھ جائے گا۔ یا پھر ایسے منصوبوں کے لیے کوئی ”ون ونڈو“ موجود ہو گی!
مگرہم بے بس، عام شہری کیا کر سکتے ہیں! کہاں جا کر گلہ کریں؟ ہماری شکایت کون سنے گا؟ سب دروازے بند ہیں۔ کسی بھی جگہ، خواہ وہ کسی محتسب کا دفتر ہو، یا کسی منصف کی عدالت ہو، انصاف میسر نہیں۔ یہ سب تام جھام، مسئلے کا حصہ ہے، لوگوں کو انصاف مہیا کرنے کے لیے نہیں! یہ سب کچھ سیاست کا حصہ ہے۔ جیسے دن رات چیخنے چلانے والے ٹی وی چینل سیاست کا حصہ ہیں۔ یہ معاشرے اور لوگوں کے نمائندہ قطعاً نہیں۔ یہ ریاست اور حکومت کے ساتھ شریک ِ جرم ہیں۔ ورنہ ان کی سکرینوں پر، ان کی خبروں میں، ان کے تجزیوں میں، اور ان کے ”ٹاک شوز“ میں یہ معاملات جگہ ضرور پاتے!
اس بیچ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اسیمبلیوں میں، جہاں لوگوں کے نمائندے بیٹھے ہیں، ان مسائل پر بات کیوں نہیں ہوتی۔ سیاسی جماعتوں کے منشور میں اور ان کے جلسوں میں یہ معاملات جگہ کیوں نہیں پاتے۔ جیسے کہ یہی کہ آیا نمبر پلیٹیں بنانا اور مہیا کرنا حکومت کا کام ہے؟ اور اس کے لیے لوگوں کی جیبوں سے اچھی خاصی رقم کیوں نکلوائی جا رہی ہے؟ جیسے کہ اورنج ٹرین کے بجائے کوئی کم خرچ منصوبہ شروع کیوں نہیں کیا گیا، اور یوں لوگوں کے پیسے کو دونوں ہاتھوں سے کیوں لٹایا جارہا ہے؟
لیکن اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ یہاں اس ملک میں سیاست کا مقصد ہے کیا۔ آیا لوگوں کی جیبوں میں سے پیسے نکلوانا؟ جی ہاں، حقیقت تو یہی ہے۔ پاکستان میں سیاست کا مقصد صرف اور صرف لوگوں کی جیبوں سے پیسے نکلوانا ہے۔ پاکستان کی کل سیاست، پاکستان کے لوگ، جو دولت پیدا کر رہے ہیں، اسے ہتھیانے کی جنگ کا نام ہے۔ ریاست اور حکومت اور ریاستی و حکومتی ادارے، سب کے سب لوگوں کے ٹیکسوں کے پیسے پر پل رہے ہیں، وہ اس سیاست کو کیوں بدلیں گے۔ اور سیاسی جماعتیں بھی لوگوں کے اسی ٹیکس کے پیسے کی بھوکی ہیں، وہ اسے کیسے بدل سکتی ہیں۔ تب ہی تو نہ صرف ریاستی و حکومتی ادارے آپس میں دست و گریباں ہیں، بلکہ سیاسی جماعتیں بھی ایک دوسرے کے خون کی پیاسی ہیں۔ جھگڑا یہی ہے کہ کون ریاست و حکومت پر قابض ہو، اور لوگ جو دولت پیدا کر رہے ہیں، اس پر ہاتھ صاف کرے!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *